حمدِ باریِ تعالیٰ
کلیم چغتائی
۔۔۔۔۔
رب کی حیران کُن ہیں تخلیقات
ہیں عجیب و غریب موجودات
مِہر اُبھرتا ہے آسماں پر روز
روشنی جس کی ہے جہاں افروز
ساتھ اپنے یہ دن بھی لاتا ہے
جاتا ہے، رات چھوڑ جاتا ہے
ہم کو دیتا ہے یہ حرارت بھی
جس سے ملتی ہے ہم کو قو٘ت بھی
فصل پکتی ہے اِس کی حد٘ت سے
ہوں مرَض دُور اِس کی شد٘ت سے
یہ زمیں گھومتی ہے محور پر
رات لاتی ہے، گزرے جب دن بھر
رات دن اِس طرح گزرتے ہیں
وقت کا ہم حساب کرتے ہیں
جب زمیں گھومے گرد سورج کے
موسم آتے ہیں وقت پر اپنے
چاند بن کر ہلال آتا ہے
بدر بن کر بھی جگمگاتا ہے
رب نے شب کی رِدا میں ہیں ٹانکے
ضَو فشاں بے شمار یہ تارے
شب کو تارے یہ جھلملاتے ہیں
راستے بھی تو یہ دِکھاتے ہیں
درمیاں اِس زمین و گردُوں کے
اَن گِنَت ہیں ستارے سی٘ارے
کس نے اُن کو فضا میں تھاما ہے
کوئی ٹکراتا ہے، نہ گرتا ہے
سب ہے ربِ٘ کریم کی قدرت
جو ہمیشہ ہے لائقِ مِدحت
Facebook Comments

