میرے دوست
کلیم چغتائی
۔۔۔۔۔
دوست ہیں کچھ ایسے بھی میرے
میرے ہی گھر میں ہیں رہتے
رنگ ان کے نظروں کو بھائیں
دلکش اک تصویر بنائیں
خوشبو ان کی بھینی بھینی
ہر اک کو اچھی ہے لگتی
جاؤں جب اسکول صبح میں
مجھ کو اللہ حافظ کہہ دیں
گھر جب میں اسکول سے آؤں
راہ میں ان کو تکتا پاؤں
جُھوم اُٹھتے ہیں ہوا چلے تو
کِھل اُٹھیں بادل برسے تو
جب ہوں یہ کلیوں میں سِمٹے
رہتے ہیں بے حد شرمیلے
جب یہ کلیاں آنکھیں کھولیں
شرمائیں، ہولے سے ڈولیں
سرخ گلاب ، لِلی اور ڈیزی
نرگس اور گُلِ داؤدی
ملے چنبیلی، جُوہی ان میں
سوسن، رات کی رانی ان میں
سب مجھ کو مُسکا کے دیکھیں
مجھے پیامِ الفت بھیجیں
دل میں میرے ان کی چاہت
پھول مرے دیتے ہیں راحت
شکر ہے رب کا دل میں میرے
دوست یہ مجھ کو جس نے بخشے
Facebook Comments

