skip to Main Content

پانڈا لال

کلیم چغتائی
۔۔۔۔۔
دیکھو یہ ہے پانڈا لال
آج سُنو اس کا احوال
لومڑ سے کچھ ملتا ہے
ریچھ اور بلی جیسا ہے
لیکن ان سے ہے یہ جدا
الگ صفات یہ ہے رکھتا
رہتا ہے بھارت، بھوٹان
چیں، نیپالی کوہستان
کہلائے ریڈ پانڈا بھی
کہہ دیں پانڈا چھوٹا بھی
کالے پانڈے سے ہے جدا
اس سے ہوتا ہے چھوٹا
کھال گھنی اور موٹی ہے
گرم اسے یہ رکھتی ہے
کھال پُشت کی بُھوری ہے
پیٹ کی جانب کالی ہے
دُم موٹی اور لمبی ہے
سردی سے یہ بچاتی ہے
دُم پر اس کے چھل٘ے ہیں
جو دس بارہ ہوتے ہیں
کان کی رنگت اُجلی ہے
چہرہ لیے سفیدی ہے
کھائے بانس اور پھل، انڈے
کبھی کبھی کیڑے، چوہے
اگلے دو جو پنجے ہیں
ان میں انگوٹھے ہوتے ہیں
کام بڑا یہ دیتے ہیں
بانس پکڑ یہ لیتے ہیں
بانس پہ جھٹ چڑھ جاتا ہے
ہاتھ نہ پھر یہ آتا ہے
سترہ گھنٹے سوتا ہے
رات کو چوکس ہوتا ہے
سر کے بل بھی یہ اُترے
گُر ایسا یہ ہے جانے
تاریکی میں بھی دیکھے
ہلکی بُو بھی جھٹ سونگھے
آوازیں ہلکی سُن لے
اپنی سرحد بھی چُن لے
ناخن تیز نوکیلے ہیں
پنجوں میں چُھپ جاتے ہیں
ہیں جو لکیریں تلووں پر
الگ سی ہوں پانڈے کی ہر
دانت قوی اور چوڑے ہیں
اور طاقت ور جبڑے ہیں
خود کو ہمیشہ صاف رکھے
سخت زباں سے تَن چاٹے
حیراں کردے پانڈا لال
یہ اللہ ہی کا ہے کمال
Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top