skip to Main Content

وہیل کا رشتہ دار

کلیم چغتائی
۔۔۔۔۔
گھوڑے جیسا تھوڑا تھوڑا
کہلائے دریائی گھوڑا
انگریزی میں ہپو پو ٹامس
یعنی دریا کا گھوڑا، بس
کوئی نہیں رشتہ گھوڑے سے
وہیل کا رشتہ دار مگر ہے
رب نے اِس کو عجب بنایا
افریقہ میں اِسے بسایا
افریقہ کے ساحل، دلدل
وہیں پہ رہتا ہے یہ ہر پَل
سولہ فٹ اِس کی لمبائی
تین ہزار کلو تک وزنی
کھال اِس کی ہے خاصی موٹی
ٹانگیں ہیں مضبوط اور چھوٹی
رنگ اِس کا ہوتا ہے سُرمئی
جھلکے جس میں رنگ گلابی
سُرخ رطوبت جِلد سے نکلے
دھوپ کے نقصانوں سے بچائے
خشکی پر چاہے تو دوڑے
چلتا ہے پانی میں اُچھل کے
گھاس مزے لے لے کر کھائے
مَن بھر روزانہ چَر جائے
پانی میں رہتا ہے دن بھر
رات میں نکلے یہ خشکی پر
رب نے آنکھیں دی ہیں سر پر
پانی میں سے دیکھے باہر
اندر اور باہر پانی کے
دھیمی آوازیں بھی سُن لے
پانی میں بھی فوراً سُونگھے
ساتھی کو بُو سے پہچانے
پانی میں غوطہ جو لگائے
پانچ منٹ اندر رہ جائے
جاتے ہی پانی میں اِس کے
بند ہوں دونوں کان اور نتھنے
پانی کے اندر سوتا ہے
نیند میں اکثر اوپر اُبھرے
سوتے ہی میں سانس نیا لے
سوتے ہی میں غوطہ کھا لے
دانت اِس کے ہیں چار نوکیلے
خنجر جیسے بیس انچ لمبے
اِس کے علاقے میں جو آئے
وہ شامت اپنی بلوائے
بڑے مگر مچھ کو یہ چِیرے
شیرکو بھی یہ پھاڑ کے رکھ دے
اِس کے غصے سے گھبرائیں
ہاتھی ، گینڈے پاس نہ آئیں
یہ جب بھی غصے میں آئے
منہ اِس کا پُورا کُھل جائے
لمبے لمبے دانت ڈرائیں
جن کو دیکھیں ، سب تھر٘ائیں
بچے ماں سے پائیں محبت
ماں کرتی ہے ان کی حفاظت
تیس ملیں بن جائیں ٹولا
اِک نر ان کا قائد ہوگا
عُمر ہے پاتا ساٹھ برس کی
کمی کرو یا ساٹھ میں دس کی
Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top