حمد باری تعالیٰ
کلیم چغتائی
۔۔۔۔۔
کس نے تخلیق یہ زمیں کردی؟
اور مخلوق اس میں ہے بھردی
سبزہ مٹ٘ی سے کس طرح اُبھرا؟
اور ثمر دار کس طرح سے ہوا؟
ایک دانے سے ہم نے پائے ہزار
کس نے دانے کو یہ دیا کردار؟
بحر سے بھاپ اُٹھائی ہے کس نے؟
اُس سے بدلی بنائی ہے کس نے؟
کس کی مرضی سے ابر برسے ہے؟
ورنہ ہر فرد پیاسا ترسے ہے؟
کس نے آبی ذرائع ہیں بخشے؟
نہریں، تالاب، جھیل اور چشمے
جب سمندر سُکوں سے بہتا ہو
اور انساں خوشی سے کہتا ہو
رُت سفر کے لیے مناسِب ہے
یہ سُکوں تو سفر کا مُوجِب ہے
جب سمندر کے بیچ میں پہنچے
اور طوفان ایک دَم جاگے
پھر سفینہ بھی ڈول جاتا ہے
تو ہمیں کون یاد آتا ہے؟
پھر وہی تو ہمیں بچاتا ہے
اور ساحل پہ لے کے آتا ہے
وہ ہے اِس کائنات کا مالک
اور حیات و ممات کا مالک
حمد اُس کی بیاں کرے ہر شے
وہ مگر بے نیاز رہتا ہے
Facebook Comments

