skip to Main Content

مینڈک

کلیم چغتائی

۔۔۔۔
بارش کا موسم ہو جب
خوش ہوتے ہیں مینڈک سب

خوش ہوکر ٹر٘اتے ہیں
مِل کر شور مچاتے ہیں

ہر اِک کی آواز جدا
ہر اِک کا انداز جدا

قِسمیں اِن کی سات ہزار
بھرا ہوا اِن سے سنسار

کچھ رہتے ہیں پیڑوں پر
کچھ دلدل، کُہساروں پر

کچھ کو بھاتا ہے دریا
کچھ کا مسکن ہے صحرا

کوئی ہو ناخن جتنا
کوئی ہو فُٹ بھر لمبا

تین گرام کوئی وزنی
تین کِلو کا ہو کوئی

پچھلی ٹانگیں ہیں لمبی
جَست لگانے میں اچھی

چپ٘و جیسے اِس کے پیر
آسانی سے لے یہ تیر

یہ پانی میں دے انڈے
اُن سے پھر نکلیں بچ٘ے

ہوتے ہیں مچھلی جیسے
کھائیں کائی کے ذر٘ے

ذرا بڑے ہوجاتے ہیں
مینڈک بن، ٹر٘اتے ہیں

مچھر، کیڑے کھاتے ہیں
فائدہ یوں پہنچاتے ہیں

اِس کی زباں انوکھی ہے
دیکھیں تو یہ اُلٹی ہے

جُڑی ہے منہ میں آگے سے
پلٹ کے پُھرتی سے لپکے

لیس اِس پر ہوتا ہے لگا
اُڑتا کیڑا جھٹ چِپکا

کیڑے کو سالم نگلے
پیٹ میں گل جائے جا کے

اُبھری اُبھری آنکھیں ہیں
چاروں جانب یہ دیکھیں

کان نہیں ہوتے باہر
رہتے ہیں تن کے اندر

سانس یہ ناک اور منہ سے لے
جِلد بھی یہ ہی کام کرے

گلے میں رکھتا ہے تھیلی
جس سے ہو آواز اونچی

پُھول کے باہر آتی ہے
سُکڑ کے اندر جاتی ہے

کچھ بُھورے، کچھ ہوں پیلے
کچھ پر کالے سے دھب٘ے

کچھ ہوں سبز اور کچھ نیلے
شوخ رنگوں میں زہریلے

جم جاتا ہے سردی میں
چُھپ جاتا ہے مٹ٘ی میں

گرمی آئے، جائے جاگ
پھر سے چھیڑے اپنا راگ

عمر اِس کی ہوتی ہے بس
پانچ برس سے بیس برس

قومِ موسیٰٔ نے رب کی
کی تھی جب نا فرمانی

اللہ نے مینڈک بھیجے
قومِ موسیٰٔ پر برسے

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top