skip to Main Content

تھیلی والا پرندہ

کلیم چغتائی

۔۔۔۔۔

رب نے بنایا ایک پرندہ
جو کھاتا ہے مچھلی زندہ

پَیلی کَن یہ کہلاتا ہے
پاکستاں بھی یہ آتا ہے

اِس کی ہے یہ بات انوکھی
چونچ کے نیچے لگی ہے تھیلی

چونچ یہ پانی میں جب ڈالے
مچھلی، پانی ساتھ نکالے

پانی پھینکے، مچھلی نگلے
یوں، زندہ مچھلی کھا جائے

دو فُٹ تک کی مچھلی کھائے
ہضم اُس کو جھٹ پٹ کرجائے

ہڈی چھوٹی ہو، گل جائے
بڑی ہو، قے سے باہر آئے

آٹھ اِس کی قِسمیں ہوتی ہیں
دنیا بھر میں یہ پھیلی ہیں

جب اُڑنے کو پر پھیلائے
دس فٹ دُور تلک لے جائے

سُست، زمیں پر یہ لگتا ہے
لیکن گھنٹوں اُڑ سکتا ہے

دُور تلک یہ اُڑتا جائے
پروں کو اپنے بِنا ہلائے

سیکڑوں میل اِک دن میں جائے
سفر ہزاروں میل کا کر لے

جُھنڈ بنا کر یہ اُڑتا ہے
ہوتا جھنڈ ہزاروں کا ہے

پروں کی رنگت اکثر اُجلی
کچھ کی سُرمئی یا پھر بُھوری

بچ٘ے جب پیدا ہوتے ہیں
لگتے مرغی کے چُوزے ہیں

ہوتےچار مہینے کے ہیں
تب خود سے اُڑنے لگتے ہیں

پاس رہے بحری ساحل کے
یا دریا اور جھیل کنارے

گھاس اور لکڑی چُن کر لائے
گھونسلا رہنے کو یہ بنائے

رہیں ہزاروں ایک جگہ پر
مچھلی پکڑیں اکثر مِل کر

تیز نظر رب نے بخشی ہے
اُڑتے ہوئے، پانی میں دیکھے

کہاں کہاں اُس میں مچھلی ہے
غوطہ مارے، مچھلی پکڑے

مچھلی ملنا کم ہو جائے
مینڈک اور جھینگے بھی کھائے

قِسطوں میں دس گھنٹے سوئے
سونے کا انداز عجب ہے

ایک ٹانگ اوپر یہ اُٹھائے
چونچ پروں میں لے کے چُھپائے

یوں ہی کھڑے کھڑے سو جائے
نیند کبھی پانی پر آئے

تیرنے میں ہے اِسے مہارت
ہوتی نہیں ہے کوئی دق٘ت

رہتا ہے یہ صاف اور ستھرا
اکثر پانی میں ہے نہاتا

سرما میں پاکستان آئے
پھر گرما میں واپس جائے

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top