چیونٹی
کلیم چغتائی
۔۔۔۔۔
چیونٹی یوں تو چھوٹی ہے
لیکن دُھن کی پکی ہے
اللہ نے ہے اِس کو دی
عقل و فہم و حکمت بھی
اِس کو یہ اعزاز ملا
قرآں میں ہے ذکر آیا
قسمیں اِن کی بیس ہزار
اِن سے بھرا پورا سنسار
ہوتی ہیں یہ کھربوں میں
دنیا بھر کے خِط٘وں میں
سُونگھنے میں یہ ماہر ہیں
کھانے پر یہ حاضر ہیں
بعض تو اندھی ہوتی ہیں
بوجھ تو پھر بھی ڈھوتی ہیں
مُونچھوں سے رستہ ڈھونڈیں
آپس میں پیغام بھی دیں
لے جاتی ہیں بوجھ اُٹھا
وزن سے اپنے بیس گُنا
چلتے ہوئے خوشبو چھوڑیں
جسے چیونٹیاں پہچانیں
اور چلیں پیچھے پیچھے
ایسے اِن کی لائن بنے
ہوتی ہیں کالی، پیلی
بُھوری ، سُرخ اور نارنجی
سوئیں دن میں دو سو بار
چند سیکنڈوں میں بیدار
کوئی مرَض جو ہو پیدا
خود کرتی ہیں اُس کی دوا
کریں صفائی اپنی یہ
کیمیکل ہیں لیتی یہ
طاقت ور جبڑے اِن کے
کھودیں اور کاٹیں جن سے
بیج ، مٹھائی، پھل کھائیں
کیڑے بھی چَٹ ہو جائیں
کھائیں غذا یہ جتنی بھی
پیٹ میں ہے کچھ رُک جاتی
جو اوروں کے کام آئے
اُن کو بھی کچھ مل جائے
باقی جو خوراک بچے
معدہ اُس کو ہضم کرے
مل کے بنائیں کُوڑا داں
کچرے کو پہنچائیں وہاں
ہے سوراخوں والا تَن
جن سے جائے آکسیجن
ایک برس تک عمر ملے
ملکہ تیس برس جی لے
ملکہ اندر ہو بِل کے
دیتی ہے لاکھوں انڈے
بِل جو بناتی ہیں اپنے
ہوتے ہیں نو فُٹ گہرے
بِل میں بناتی ہیں کمرے
ہوا گزرنے کے رستے
کچھ کمروں میں بِیج رکھیں
اور مُردہ کیڑے کچھ میں
چیونٹی کا ہے یہ پیغام
کام کرو، پاؤ آرام

