skip to Main Content

آنکھ مچولی

کلیم چغتائی

۔۔۔۔۔
کھیلی سب نے آنکھ مچولی
آگئے تھے سارے ہم جولی

یوسف، شاہد، موسیٰ، خالد
اسلم، واجد، یحییٰ ، راشد

پہلے تو اک چور بنایا
ننھے راشد کا نام آیا

راشد بیٹھا ایک جگہ پر
ہاتھوں کو آنکھوں پر رکھ کر

باقی بچ٘ے فوراً بھاگے
جلدی جلدی جا کر چُھپنے

چور نے اب آواز لگائی
چُھپنے والو، شامت آئی

کتنا ہی تم چُھپ جاؤ گے
آخر میرے ہاتھ آؤ گے

راشد کھوج لگاتا نکلا
بھاگا، دوڑا، اُلجھا، پِھسلا

ڈھونڈا سب کو الماری میں
باغیچے کی ہر کیاری میں

ڈھونڈا پھر اسٹور میں جاکر
چھوٹی بڑی بوری کو ہلا کر

جھانک کے دیکھا تخت کے نیچے
رک٘ھے تھے واں ٹُوٹے تختے

گھبرا کر وہ پہنچا سیدھے
گھر کے لوگ جہاں تھے بیٹھے

بولا، کھو گئے بچ٘ے، ام٘ی
سب کو لے گئی شاید بُھتنی

ام٘ی بولیں ہنس کر، بیٹے
دیکھو وہ سب گھر میں ہوں گے

راشد روتے روتے بولا
ام٘ی، سارے گھر میں ڈھونڈا

غائب ہوگئے بچ٘ے ایسے
لے گئی سب کو بُھتنی جیسے

یک دم کھڑکا خالی پیپا
اس سے نکلا واجد ہنستا

بولا، راشد، تم نے دیکھا
سارے گھر کا اک اک کونا

بھول گئے تم خالی پیپا
جس میں چُھپ کر میں تھا بیٹھا

پردے سے پھر اسلم نکلا
کھڑکی میں سے خالد کُودا

یوسف بولا میز کے نیچے
شاہد تھا صوفے کے پیچھے

یحییٰ تھا تکیوں کو جوڑے
موسیٰ تھا بستر کو موڑے

سب بچ٘وں نے شور مچایا
“کسی کو راشد پکڑ نہ پایا”

ام٘ی بولیں، راشد بیٹے
کھیل میں ہوجاتا ہے ایسے

تم نے بُھتنی خود ہی بنا لی
یہ تو بس ہوتی ہے خیالی

رونا دھونا اب تم چھوڑو
آؤ بیٹھو، چائے پی لو

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top