skip to Main Content

دو خواہشیں

کہانی: The Four-Leaved Clover
مصنفہ: Enid Blyton
مترجم: محمد الیاس نواز
۔۔۔۔۔

تین پتیوں والی گھاس میں سے اگر کوئی ڈالی چار پتیوں والی نکل آئے تو یہ خوش قسمتی کی علامت ہے۔اگر کہیںایسی ڈالی آپ کو نظر آ جاتی ہے اور آپ اسے حاصل کر لیتے ہیں تو اس سے آپ کی ایک خواہش پوری ہو سکتی ہے۔بونے یہی بات کہتے آرہے ہیں اور سچ ہی کہتے ہوں گے کیونکہ وہی اس گھاس کو کاشت کرتے ہیں۔
ایک دن نورا نامی چھوٹی سی لڑکی کو گھاس کے کھیت میں سے چارپتیوں والی ایک ڈالی ملی۔وہ بے حد خوش ہوئی ۔اس نے بہت احتیاط کے ساتھ اسے ہاتھ میں لے کر غور سے دیکھا۔جی ہاں! اس کی تین کے بجائے چار پتیاں تھیں۔
’’ہاں! اب میری ایک خواہش پور ی ہو سکتی ہے۔‘‘ نورا نے سوچا۔’’اور وہ ہے…کھلونوں کی دکان پر کھڑکی میں سجی وہ بڑی اور خوب صورت گڑیا…جسے میں ایک لمبے عرصے سے حاصل کرنا چاہتی ہوں۔‘‘
وہ چار پتیوں والی ڈالی کو تھامے گھر کی طرف جا رہی تھی کہ راستے میں اس کی ملاقات ٹومی اور جون سے ہوگئی۔وہ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے بلک بلک کر رو رہے تھے۔
’’ہماری والدہ بیمار ہیں اور ہسپتال میں داخل ہیں۔‘‘ جون نے روتے ہوئے کہا۔’’ ہم چاہتے ہیں کہ وہ صحت یاب ہو کر واپس آجائیں ۔‘‘
’’امید ہے اب وہ زیادہ دیر ہسپتال میں نہیں رہیں گی۔‘‘ نورا نے دونوں بچوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
’’ہم ان کے بغیر نہیں رہ سکتے۔‘‘ٹومی بولا۔’’وہ روزانہ رات کو ہمیں بستروں پر سلاتی ہیں۔ اور جب ہم اسکول سے واپس آتے ہیں تو ہمیں کھانا دیتی ہیں۔ اب وہ چلی گئی ہیں توہم کیا کریںگے؟‘‘
دونوں بچوں کو غم زدہ دیکھ کر نورا کو بہت افسوس ہوا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ جب مائیں چلی جاتی ہیںتو بچوں کی کیا حالت ہوتی ہے۔
’’دیکھو!‘‘ اس نے اچانک جون اور ٹومی سے کہا۔’’مجھے تین پتیا گھاس کی چارپتیوں والی ڈالی ملی ہے ۔ اس کے ذریعے ایک خواہش پوری کی جا سکتی ہے۔میں اس سے کھلونوں والی دکان کی کھڑکی میں لگی گڑیا کا کہنے والی تھی …لیکن اگر تم چاہو تو اس خواہش کا اظہار کر سکتے ہو کہ تمہاری امی کل گھر آجائیں۔‘‘
’’ بہت شکریہ نورا! تم کتنی ہمدرد ہو!‘‘ جون خوشی سے چہکا۔’’ہماری امی جب گھر آجائیں گی تو میں تمہیں آکرضرور بتائوں گا۔‘‘
نورا انہیں چھوڑ کر گھر چلی گئی۔ قریب ہی ایک خاتون کھڑی بس کا انتظار کر رہی تھی۔اس کی طرف کسی کا دھیان نہیں گیا تھامگر اس نے ایک ایک لفظ سن لیا تھا۔وہ سوچ رہی تھی کہ نورا جیسی اچھی بچی میں نے آج تک نہیں دیکھی۔
خاتون ٹامی اور نورا کے پاس آئی اور ان سے نورا کے گھر کا پتا معلوم کیا۔پھر وہ کھلونوں کی دکان پر گئی اور وہاں سے کھڑکی میں لگی بڑی گڑیا خریدی۔ ایک چھوٹا سا رقعہ لکھ کر گڑیا کے ڈبے میں رکھا۔ پھر دکان دار سے کہا کہ ڈبے پر نورا کا نام لکھ کر ڈاک کے ذریعے اس کے گھر بھیج دے۔
اگلی صبح سویرے ٹومی اور جون بھاگے بھاگے نورا کے گھر پہنچے ۔ ان کے چہرے چمک رہے تھے۔’’ہماری امی آج گھر آرہی ہیں۔ ہسپتال والوں کا کہنا ہے کہ اب وہ بالکل ٹھیک ہیں۔گھاس کے ذریعے ایک خواہش پوری ہوگئی۔ اگرتم بھی اس سے کوئی خواہش پوری کرنا چاہتی ہو تو ہم تمہیں واپس دے جاتے ہیں۔‘‘
’’لیکن چارپتیوں والی ڈالی سے صرف ایک خواہش پوری ہوتی ہے۔‘‘ نورا نے کہا۔’’اب اسے واپس لانے کا کوئی فائدہ نہیں مگر مجھے خوشی ہے کہ تمہاری والدہ آج گھر آرہی ہیں…ارے! دیکھو! ڈاکیا کوئی ڈبہ لایا ہے اور وہ بھی میرے نام کا…‘‘
یہ ایک بڑی سی گڑیا تھی اور ساتھ ایک رقعہ تھا جس پر لکھا تھا۔’’چار پتیوں والی ڈالی جو تمہیں ملی ہے، اس سے دو خواہشیں پوری ہوتی ہیں…دیکھا تم نے…!‘‘
’’اچھا…!‘‘ نورا نے کہا۔’’ذرا سوچو تو سہی کہ میں کتنی خوش نصیب ہوں!‘‘
وہ اس کی حق داربھی تو تھی…ہے کہ نہیں!

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top