skip to Main Content

کتنی بار معاف کروں؟

کاوش صدیقی

یہ ریحان صاحب کا خوش و خرم خاندان ہے۔ ان کی بیگم رخشند ہ گھر کو بنانے سنوارنے، کپڑوں کے اوڑھنے پہننے، غرض ہر لحاظ سے بہترین ہیں مگر مزاج کی اتنی تیز کہ کیا بتا ئیں۔ غلطی معاف کرنا تو انہوں نے سیکھا ہی نہیں۔ آج صبح بھی ریحان صاحب نے دیکھا کہ ماسی حنیفہ کی آنکھیں سوجی ہوئی ہیں اور وہ رو رہی ہے۔ وہ آنکھیں اپنے میلے دوپٹے سے پونچھتی جا رہی تھی اور فرش پر پو نچھا بھی لگائی جا رہی تھی۔ ریحان صاحب نے اپنی بیگم کی طرف دیکھا۔ حسب معمول ان کا گول مٹول چہرہ غصے سے سرخ تھا۔ ریحان صاحب سمجھ گئے کہ آج پھر موڈ خراب ہے۔ا نہوں نے پوچھا۔’’ کیا بات ہے؟ لگتا ہے کہ آج آپ کا مزاج کچھ اچھا نہیں ہے۔‘‘
’’ہاں جی۔‘‘ بیگم ریحان نے فوراً کہا۔’’ آپ تو سارا دن دفترمیں مزے سے کرسی پر بیٹھے ما تحتوں پر حکم چلاتے رہے ہیں، بس فائلوں پر چڑ یا ماری اور کام ختم۔ کبھی گھر کے کام کرنا پڑ جائیں تو دن میں تارے نظر آ جائیں۔‘‘ ان کا انداز غصے سے بھر اہواتھا۔
ر یحان صاحب ایک خوش مزاج شخص تھے جب کہ ان کی بیگم رخشندہ خاتون سخت لہجے اور تیز مزاج کی خاتون تھیں جنہیں بہت جلدی غصہ آ جا تا تھا۔
’’د یکھئے ناں۔‘‘ انہوں نے کہا۔’’ ابھی پچھلی اتوار کو میں اتنے خوب صورت چائے کے لیے مگ لائی تھی، آج ماسی نے ان میںسے ایک مگ توڑ دیا۔ حد ہے لا پروائی کی۔‘‘
’’کوئی بات نہیں، آپ اور لے آئیے گا۔‘‘ ریحان صاحب نے نرمی سے کہا۔’’ برتن دھوتے ہوئے صابن کی چکناہٹ کی وجہ سے ہاتھ سے پھسل گیا ہو گا۔‘‘
’’ بس آپ کی ان ہی باتوں نے نوکروں کا دماغ خراب کر دیا ہے۔‘‘ ان کا غصہ کم نہیں ہو رہا تھا۔
ریحان صاحب کو معلوم تھا، کچھ بولنا ان کو مزید غصہ دلانے کے مترادف ہو گا، لہٰذا وہ خاموش ہو گئے اور چائے پینے لگے مگر انہیں ماسی حنیفہ کے آنسو اور سوجی ہوئی آنکھیں پریشان کرتی رہیں۔
ریحان صاحب کے دو بیٹے اور ایک بیٹی پر مشتمل مختصر ساخاندان تھا۔ تینوں بچے اچھے اسکولوں میں پڑھ رہے تھے۔ اس وقت وہ اسکول جانے کے لیے نکل چکے تھے۔ تھوڑی دیر میں وہ بھی دفتر کے لیے روانہ ہو گئے۔ ماسی حنیفہ ان کے ہاں کئی برسوںسے ملازمت کر رہی تھی۔ اس کا شوہر مالی تھا اور ان کی ایک بیٹی تھی دس برس کی، جو ریحان صاحب کی کوٹھی کے ایک کوارٹر میں رہا کرتے تھے۔
ان کے عتاب کا نشانہ ماسی حنیفہ کے ساتھ ساتھ اس کی دس سالہ بیٹی بھی بن جاتی تھی جو کسی صورت نچلی بیٹھنا نہ جانتی تھی اور پھر بیٹھتی بھی کیسے۔ اس عمر کے بچے تو ہوتے ہی تجسس کے مارے۔ چیزوں کو دیکھنے پکڑنے اور ان سے کھیلنے کے شوقین۔ ذراسی بات پر تھپڑ، جوتا، چپل کھینچ مارنا بیگم صاحبہ کی عادت تھی۔
فہد اسکول کا کام کر رہا تھا، اسے پیاس لگی تو اس نے صغریٰ سے کہا۔’’ ارے صغریٰ ایک گلاس پانی تو پلانا۔‘‘
’’ جی اچھا لاتی ہوں ابھی۔‘‘ صغری نے فوراً جواب دیا۔
فہد کا مزاج بہت اچھا تھا۔ وہ جلدی سے دوڑ کے گئی اور پانی کا گلاس لے آئی۔
’’ شاباش۔ ‘‘فہد نے پانی پی کر گلاس واپس صغریٰ کو دیا۔ صغریٰ گلاس لے کر واپس پلٹی ہی تھی کہ سامنے سے اسد دوڑتا ہواآیا اور صغریٰ سے ٹکرا گیا۔ صغریٰ کے ہاتھ سے گلاس چھوٹ گیا اور پختہ فرش پر گر کے ایک چھنا کے سے کر چی کر چی ہو گیا۔ گلاس ٹوٹنے کی آواز کے ساتھ ہی بیگم رخشندہ اپنے کمرے سے تیر کی طرح نکلیں۔ سامنے ہی صغریٰ کھڑی تھی۔ کانچ اس کے چاروں طرف بکھرا ہوا تھا اور وہ بے حد خوف زدہ تھی۔ بیگم رخشندہ نے ٹوٹے گلاس کو دیکھتے ہی بغیر کچھ پوچھ گچھ کے زور دار چانٹا صغریٰ کے چہرے پر لگا دیا کہ اس کی آواز سے کمرہ گونج اٹھا۔ ڈر کے مارے اسد کچھ بولا ہی نہیں کہ کہیں ماں کے ہاتھوں اس کی بھی ٹھکائی نہ ہو جائے۔ تھوڑی دیر بعد جب رخشندہ بیگم کا مزاج خوش گوار ہوا تو فہد نے کہا۔ ’’امی گلاس ٹوٹنے میں صغریٰ کی غلطی نہیں تھی، وہ تو اسد بھاگتا ہوا آیا جو اس سے ٹکرا گیا اور یوں گلاس صغریٰ کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔‘‘
’’ جی امی…‘‘ اسد نے کہا۔’’ بھائی ٹھیک کہہ رہا ہے۔‘‘
’’ تو کیا ہوا، ہاتھ میں تو اسی کے تھا ناں۔‘‘ بیگم رخشندہ نے لا پروائی سے کہا۔’’ اس کی ذمہ داری تھی کہ گلاس کو مضبوطی سے پکڑتی۔‘‘
آخر میں انہوں نے دونوں کو بھی ڈانٹ دیا۔ بچے خاموش ہوگئے۔
بدلتے موسم میں بیگم رخشندہ کو بخار ہو گیا۔ ڈاکٹر کو دکھایا تو اس نے خون کا ٹیسٹ لکھ دیا۔ شام تک رپورٹ آ گئی کہ بیگم رخشندہ کو ڈینگی بخار ہو گیا ہے۔ ریحان صاحب نے گھر ہی پر ان کا علاج شروع کر وا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے روپے پیسے کی کمی تو دی نہیں تھی۔ بہترین علاج شروع ہو گیا۔ ہفتے دس دن میں بخار ٹوٹنے لگا۔ بدن کے درد میں کمی آنے لگی۔ کئی دنوں کے بعد وہ اپنے کمرے سے باہر نکلیں۔ بچے اسکول گئے ہوئے تھے۔ ریحان صاحب دفتر جا چکے تھے۔ وہ ٹہلتے ٹہلتے سرونٹ کوارٹر کی طرف چلی آئیں۔ اچانک ان کے کانوں میں ماسی حنیفہ کی آواز آئی۔
’’ صغریٰ…بیٹا دیکھو جلدی سے وضو کرو اور دعا کرو ۔‘‘
’’اچھا امی۔‘‘ انہیں صغریٰ کی آواز سنائی دی۔’’ میں تو روز دعا کرتی ہوں۔ بس جلدی سے پوری ہو جائے۔‘‘
’’بچوں کی دعا اللہ تعالیٰ جلدی سنتا ہے۔‘‘ ماسی حنیفہ نے کہا۔
بیگم رخشندہ کے دل میں کھد بد ہونے لگی۔ یہ کون سی دعا مانگ رہے ہیں، کہیں میرے مرنے کی دعا ئیں تو نہیں کر رہے؟ دفعتاً انہیں خیال آیا۔ وہ دروازے کی آڑ سے سننے لگیں۔ چند منٹوں کے بعد انہیں صغریٰ کی آواز آئی۔
’’اے اللہ تعالیٰ، بیگم صاحبہ کو جلدی سے ٹھیک کر دے۔‘‘
باہر کھڑی بیگم رخشند ہ کا دل دھک سے رہ گیا۔ چند لمحوں کے لیے تو انھیں یوں لگا کہ جیسے وہ بالکل بے حس و حرکت ہو گئی ہیں۔ پھر ان کے ماتھے سے پورے بدن تک پسینہ پھوٹ پڑا۔
’’یا اللہ یہ کتنے سیدھے اور مخلص لوگ ہیں جو میری صحت کے لیے دعا کر رہے ہیں۔‘‘ وہ عرق ندامت سے شرابور تھیں۔ تھوڑی دیر کے بعد ماسی حنیفہ کی آواز آئی۔’’ دیکھو اندر جا رہی ہوں تم کمرے سے باہر نہ نکلنا۔ کوئی شرارت نہ کرنا ورنہ بیگم صاب کو غصہ آ گیا تو ان کی طبیعت خراب ہو جائے گی۔ اچھا …‘‘
’’جی امی، میں باہر نہیں آؤں کی مگر…‘‘ صغریٰ کی آواز آئی۔ وہ کچھ کہتے کہتے چپ ہوگئی۔
’’ مگر کیا ؟‘‘ ماسی حنیفہ نے پو چھا۔
’’ کمرے میں گرمی بہت لگتی ہے۔ آپ تو کہتی تھیں کہ پنکھالگ جائے گا۔ سچ رات کو بھی نیند نہیں آتی۔ مچھر بھی کاٹتے ہیں اورگرمی بھی لگتی ہے۔‘‘
’’ اچھا… اچھا باتیں نہ بنا۔ کچھ نہیں ہوگا، میں ہاتھ سے پنکھا جھل دوں گی۔‘‘ ماسی حنیفہ نے اسے تسلی دی۔ پھر ماسی حنیفہ کے چلنے کی آواز آئی۔ بیگم رخشندہ جلدی سے پیچھے ہو گئیں۔ ماس حنیفہ تیز تیز قدموں سے گھر کے اندرونی حصے کی طرف چلی گئی۔ بیگم رخشندہ دھیمے دھیمے قدم اٹھاتی اپنے کمرے میں جا کر جیسے بستر پر گر گئیں۔ انہیں یاد آیا کہ گرمیاں شروع ہوتے ہیں ماسی حنیفہ نے بتایا تھا کہ بیگم صاحبہ پنکھا نہیں چلتا، دوسرا لگوا دیں مگر انہوں نے کوئی دھیان نہیں دیا۔ وہ خود تو مزے میں اپنے بچوں کے ساتھ ائیر کنڈیشنر کی ٹھنڈک میں سوتی رہیں اور پنکھے کے معاملے کو یکسر بھلا دیا۔
انہیں شرمندگی ہونے لگی۔ انہیں اپنا رویہ اور اپنا غصہ یاد آنے لگا۔ میں کیا کروں، کیسے اپنے دل دکھا دینے والے جملوں کا ازالہ کروں؟ انہوں نے بے دھیانی میں ٹی وی کھول دیا۔ پتانہیں کون سا چینل لگ گیا تھا جس پر عالم دین ایک سائل کے سوال کا جواب دے رہے تھے۔ پو چھنے والا پوچھ رہا تھا۔’’ بتایئے کہ ہم لوگ جو ملازم رکھتے ہیں، بعض اوقات وہ غلطی کر دیتے ہیں یا نقصان کر دیتے ہیں تو ہمیں ان سے کیسا رویہ رکھنا چاہے؟‘‘
عالم دین نے جواب دیا۔ ’’ہم سب انسان ہیں۔ ہم سب سے غلطی ہو سکتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث ترمذی شریف میں حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی۔
’’یا رسول اللہ ﷺ! میں اپنے خادم، غلام، نوکر کا قصور کتنی بار معاف کروں؟‘‘ آپ ﷺ خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا۔ اس شخص نے پھر عرض کیا۔ ’’یار رسول اللہﷺ! میں اپنے خادم کو کتنی دفعہ معاف کروں؟‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا۔ ’’ہر روز ستر دفعہ۔‘‘
یہ حدیث پاک سن کر رخشندہ بیگم کے دل پر ایک گھونسا سا لگا۔یوں جیسے کسی نے ان کے دل و دماغ کو جھنجھوڑ دیا ہو۔ میں تو دن رات نوکروں کو ڈانٹی ڈپٹتی اور برا بھلا کہتی ہوں مگر یہ لوگ چپ رہتے ہیں۔ صغریٰ اور ماسی حنیفہ نے میری بیماری میں کتنی خدمت کی ہے اور میں ان سے سیدھے منہ بات نہیں کرتی۔ جب بے اختیار پہلی مرتبہ ان کے دل و دماغ سے بیک وقت صدا ابھری۔’’یا اللہ مجھے معاف فرما دے۔‘‘ انہوں نے گھنٹی بجا کر ماسی حنیفہ کو بلایا۔
’’جی بیگم صاحبہ!‘ ماسی حنیفہ تیزی سے چلتی ہوئی ان کے پاس آگئی۔’’ یہ لو پیسے اور اپنے میاں سے کہو جا کر ابھی نیا پنکھا لگوائے۔ اور ہاں صغریٰ کے لیے کپڑے اور چاکلیٹس بھی لائے۔‘‘
انہوں نے پانچ ہزار کا نوٹ ماسی حنیفہ کو تھما دیا۔ ماسی حنیفہ مارے حیرت کے نوٹ ہاتھ میں دابے انہیں دیکھتی رہ گئی۔
’’ اب کھڑی کھڑی منہ کیا دیکھ رہی ہو، چلو بھا گو۔‘‘ انہوں نے مصنوعی غصے سے کہا۔
’’ آپ ایسے ہی مسکراتی رہیں۔‘‘ ماسی حنیفہ نے مسکراتے ہوئے دعا دی اور باہر چلی گئی۔ اس وقت بیگم رخشندہ کی آنکھوں میں خوشی اور مسرت کے آنسو تھے۔

۔۔۔۔۔

کہانی پر تبصرہ کیجئے، انعام پائیے

کاوش صدیقی کے مداحو ! تیار ہو جاؤ ایک زبردست مقابلے کیلئے۔
کتاب دوست لے کر آرہا ہے ایک اور زبردست خبر ! کاوش صدیقی صاحب نے روشنائی ڈوٹ کوم پر اگست کے پورے مہینے کہانیاں لکھنے کی زبردست خبر سنائی تو کتاب دوست نے اس کا مزہ دوبالا کرنے کیلئے آپ لوگوں کے لئے ایک زبردست مقابلے کا آغاز کرنے کا سوچا۔
☆ تو لیجئے کتاب دوست کی جانب سے ایک اور اعلان ہو رہاہے۔ وزٹ کیجئے روشنائی ڈوٹ کوم roshnai.com  پر اور پڑھئے کاوش صدیقی کی روزانہ ایک کہانی۔ اس پر اپنا بھرپور تبصرہ کیجئے اور جیتیے مندرجہ ذیل کیش انعامات مع کتاب دوست کی اعزازی سند کے۔
★ پہلا انعام : 1500 روپے + کتاب دوست اعزازی سند
★ دوسرا انعام : 1000 روپے + کتاب دوست اعزازی سند
★ تیسرا انعام : 700 روپے + کتاب دوست اعزازی سند
نوٹ: 31 اگست یعنی آخری کہانی تک کا وقت مقررہ ہے۔ یعنی آخری دن۔
جتنے زیادہ تبصرے ہوں گے اتنے جیتنے کے مواقع زیادہ ہوں گے۔
☆ ایک قاری کی طرف سے ایک کہانی پر ایک تبصرہ کیا جا سکتا ہے۔
☆ تبصرہ ہر کہانی کے آخر میں کمنٹس باکس میں کرنا ہے اور اسے یہاں اس پوسٹ میں بھی کمنٹ کرنا ہے۔
☆ تبصرہ کم ازکم 300 الفاظ ہوں اس سے کم الفاظ کو صرف کمنٹ تصور کیا جائے گا۔ مقابلے میں شامل نہیں ہوگا۔
☆ ججمنٹ کے فرائض Shahzad Bashir – Author انجام دیں گے اور نتائج کا اعلان 6 ستمبر بروز “یومِ دفاع” کیا جائے گا۔
Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top