skip to Main Content

سفید ساٹن

فرانس کی کہانی

رضوانہ سید علی
۔۔۔۔۔
پیرس کے مضافات میں ایک زمیندارر ہتا تھا۔ جسے اپنی لاڈلی بیٹی ”ڈولی“ سے بہت پیار تھا۔ نازونعم میں پلنے والی ڈولی کو ہر سال سالگرہ پر اسکے بابا کی طرف سے ایسا شاندار تحفہ ملا کرتا جسے پا کر وہ خوشی سے جھوم اٹھتی۔ اسکی دسویں سالگرہ پہ جب اسے گھوڑا گاڑی تحفے میں ملی تو صرف اسے ہی نہیں بلکہ پورے علاقے کے لوگوں کو بے حد پسند آئی۔ بگھی تو نفیس اور خوبصورت تھی ہی، گھوڑے کا تو جواب ہی نہ تھا۔ تندرست، چست و چالاک اور رنگ تو ایسا چمکدار سفید جیسے ساٹن کا نرم و ملائم کپڑا۔ بس اس لئے گھوڑے کا نام ”سفید ساٹن“ پڑ گیا۔ روز صبح جب ڈولی اپنی بگھی پہ بیٹھ کر سیر کے لئے نکلتی تو اسے دیکھنے کے لئے لوگ جمع ہو جاتے۔ گھوڑے کو بھی شاید اپنے حسن کا احساس ہو گیا تھا اس لئے وہ خوب اٹھلا اٹھلا کر کبھی دلکی چال چلتا تو کبھی سر پٹ بھا گتا۔
ڈولی تو جیسے اپنے گھوڑے کی دیوانی تھی۔ اسکی خدمت کے لئے کئی کئی ملازم موجود تھے۔ کوئی کھلانے کے لئے،کوئی نہلا نے دھلا نے اور مالش کرنے کے لئے۔ اسکی خوراک کا بھی بہترین بندوبست تھا پھر بھی ڈولی صبح شام خوداصطبل کا چکر لگا کر دیکھتی کہ سفید ساٹن کی خدمت میں کوئی کوتا ہی تو نہیں ہورہی۔ ان سب باتوں نے سفید ساٹن کو بہت خودسر بنا دیا تھا۔ وہ دن بہ دن اکڑفوں اور غرور میں مبتلا ہوتا جارہاتھا۔ جب بھی چاہتا کسی ملازم پہ دولتی جھاڑ دیتا، جب مرضی نہ ہوتی تو دانے کے تو بڑے کو لات مارکر اچھال دیتا۔ اصطبل میں بند ھے باقی گھوڑوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتا۔ بس صبح شام ڈولی کوسیر کروانے کے سوا اس کا اور کوئی کام بھی نہ تھا اس لئے اچھی خوراک، بہتر ین دیکھ بھال اور آرام کی وجہ سے اسکی صحت اور حسن دن بہ دن نکھرتا جارہا تھا۔
ایک روز صبح سویرے اسکی آنکھ کھلی تو اصطبل کی کھڑکی سے باہر اسے ایک عجیب سی چیز نظر آئی۔ اس کا نیلارنگ سفید ساٹن کی جلد سے زیادہ چمکدارتھا۔ ابھی و ہ سوچ ہی رہا تھا کہ یہ ہے کیا کہ اسے ڈولی اور اسکے بابا آتے دکھائی دیئے۔ نیلی چیز پہ نظر پڑتے ہی ڈولی خوشی سے اچھل پڑی اور پھر اپنے بابا سے لپٹ کر کہنے لگی:
”پھر ایک لاجواب تحفہ! ایک کار؟ میرے پیارے بابا ابھی تو پیرس میں بھی کسی کسی کے پاس ہی کار ہے۔ بہت بہت شکر یہ! میرے اچھے بابا! میرے پیارے بابا!!!“
بابا ہنسنے لگے۔ ڈولی کارکو چھوچھو کر دیکھنے لگی۔
”بیٹی!یہ تمہاری سالگرہ کا تحفہ ہے۔ آج تم اس پہ بیٹھ کر ہوا خوری کے لئے جاؤ۔“
”پر بابا! یہ چلے گی کیسے؟“ڈولی نے پوچھاتو ایک باوردی آدمی نے آگے بڑھ کر ٹوپی اتاری اور جھک کر ڈولی کو سلام کیا اور گاڑی کا دروازہ کھول دیا۔ وہ گاڑی کا شوفر تھا۔ ڈولی اور اسکے بابا گاڑی میں بیٹھے۔ شوفر نے اپنی سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کی تو انجن کے شور سے سفید ساٹن کا دل دھڑک گیا اور وہ گھبرا کر ایک قدم پیچھے ہٹ گیا۔ گاڑی نے بیل کی طرح حرکت کی اور گھوم کر پھاٹک سے باہر نکل گئی۔ اسکی کھڑکی سے ڈولی کا فرط مسرت سے چمکتا چہرہ سفید ساٹن کو اور پریشان کر گیا۔ آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ ڈولی اصطبل کی طرف آئے اور اسکی طرف نہ دیکھے۔ اب اس گھر میں میرا ر ہنا بیکار ہے۔ سفید ساٹن نے کنوتیاں پھڑ پھڑاتے اور پاؤں پٹختے ہوئے سوچا۔ پھر جھٹکے مار کر اپنی رسی تڑوائی اور اصطبل سے اور پھر بڑے پھاٹک سے باہر نکل گیا۔ اتفاق سے کسی نے اسے نہیں دیکھا۔
وہ چلتا گیا۔ چلتا گیا۔ کھیت گزرے۔ باغ گزرے،ویرانے آ گئے۔ پھر ایک ٹیلا آیا۔وہ اس پر سے بھی

گزر گیا۔ آگے ایک اور ٹیلا تھا۔ اس کی چوٹی پہ پہنچ کر جب وہ نیچے اتر رہا تھا تو اچانک اسے ایک پتھر سے ٹھوکرلگی، و ہ لڑھکتا ہوا نیچے آیا اور وہاں بنے ایک تالاب میں جا گرا۔”غڑاپ!“ایک زور دار آواز پیداہوئی۔ تالاب میں سوئے ہوئے مینڈک جاگ اٹھے اور یوں ٹرانے لگے جیسے کہہ رہے ہوں۔”واپس جاؤ سفید ساٹن واپس جاؤ!“
سفید ساٹن نے بوکھلا کر تالاب سے باہر نکلنے کی کوشش کی پروہ جتنازور لگا تا،اتنے ہی اسکے پاؤں کیچڑ میں دھنستے جاتے۔ یہاں تک کہ وہ رانوں تک کیچڑ میں ڈوب گیا۔ دراصل تا لاب کی تہہ دلد لی تھی اور دلدل میں کوئی بھی پھنس جائے تو اس کا نکلنا مشکل ہو جا تا ہے۔ بے بسی سے سفید ساٹن نے خود کو حالات پہ چھوڑ دیا۔ دلدل آ ہستہ آہستہ اسے اپنی طرف کھینچنے لگی۔ اسکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ دن ڈھلتا جا رہا تھا۔ سورج نے منہ چھپایا۔ اندھیرا بڑھنے لگا۔ جھینگر اور مینڈک جاگ کر شور مچانے لگے۔ سفید ساٹن نے سوچا کہ اسے گھر سے نکلے پورا دن ہو چکا ہے۔ کسی نے اسکی خبر نہیں لی۔ ڈولی نے بھی نہیں جو مجھے اتنا زیادہ چاہتی تھی۔ دکھ کے مارے اسکے آنسو اور تیزی سے بہنے لگے۔ سردی بڑھتی جا رہی تھی اور تالاب کا پانی یخ ہوتا جارہا تھا۔
اچا نک تالاب پہ چھائے اندھیرے کو ایک تیز روشنی نے چیرا۔ جھینگر اور مینڈک ڈرکر خاموش ہو گئے۔ سفید ساٹن کی آنکھیں چندھیا گئیں اور پھر کچھ آواز یں سنائی دیں۔”وہ رہا۔ وہ رہا۔ سفید ساٹن تالاب میں کھڑا ہے۔“
”ارے یہ تو دلد لی تالاب ہے۔“ زمیندار صاحب کی آواز سفید ساٹن نے صاف پہچان لی۔
”ہائے میر اسفید ساٹن!“ یہ ڈولی کی چیخ تھی۔
سفید ساٹن نے شرم سے سر جھکالیا۔ سب اس سے پیار کرتے تھے۔ اتناغصہ کرنا اور خوامخواہ دوسروں سے ناراض ہوجانا،اسکی اپنی غلطی تھی۔ اپنی اس حالت کا ذمہ دار وہ خود تھا۔ ملازم رسیاں اور لکڑی کے تختے لائے۔ ایک مضبوط رسا گرہ لگا کر اس طرح پھینکا گیا کہ سفید ساٹن اسکے حلقے میں آ گیا۔ رسے کا دوسرا سرا گاڑی سے باندھ دیا گیا اور ڈرائیور گاڑی کو آہستہ آہستہ کھینچنے لگا۔ سفید ساٹن کے پاؤں دلدل سے آزاد ہونے لگے اور پھر وہ کیچڑ سے نکل کر تختے پہ کھڑا ہوا۔ اس کا حسین جسم بری طرح کیچڑ میں لت پت تھا۔ آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ نیلی چمچماتی گاڑی کے سامنے وہ کیسا حقیر دکھائی دے رہا تھا۔ مارے شرم کے اسکی گردن او پر نہ اٹھ رہی تھی۔ پر ڈولی آ کر اس سے لپٹ گئی اور اسے پیار کرنے لگی۔”میرے پیارے!اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو میں کیا کرتی؟“
گھر پہنچ کر سفید ساٹن کئی دن علیل رہا مگر سب کی محبت اور توجہ سے رفتہ رفتہ ٹھیک ہو گیا۔ اسکی صحت بحال ہوگئی حسن لوٹ آیا۔ اب وہ پہلے جیسا مغرور نہ ر ہا تھا بلکہ بالکل بدل چکا تھا۔ ڈولی کا جب جی چاہتا وہ بگھی میں بیٹھ جاتی اور جب مرضی ہوتی تو گاڑی میں سیر کرتی۔ لیکن اب سفید ساٹن با لکل برا نہیں منا تا تھا۔ وہ جان گیا تھا کہ ہر چیز اپنی اپنی جگہ اہم ہوتی ہے۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top