skip to Main Content

اونٹ

کلیم چغتائی
…..
بچو میں ہوں اونٹ نرالا
کچھ کچھ پیلا، کچھ مٹیالا
میں نے اونچا درجہ پایا
ذکر مرا قرآں میں آیا
یہ عزت بھی مجھے ملی ہے
مجھ پہ سواری نبیؐ نے کی ہے
میری دو بنیادی قسمیں
ہیں یہ ایشیا، افریقہ میں
کچھ میں تو کوہان اکلوتا
کچھ میں کوہانوں کا جوڑا
قد ساڑھے چھے فیٹ ہے میرا
اور کوئی دس فیٹ ہوں لمبا
میرا تن چودہ من وزنی
اس پر دیکھو میری پھرتی
ہو جو ضرورت ، دوڑ لگاؤں
دُور تلک منٹوں میں جاؤں
بند میں کرسکتا ہوں نتھنے
ریت نہ تاکہ ناک میں آئے
پلکیں میری خوب گھنی ہیں
ریت کے آگے روک بنی ہیں
اوپر کا ہے ہونٹ انوکھا
دو حصوں میں رب نے بانٹا
ہر حصہ کرتا ہے حرکت
کھانے میں دیتا ہے سہولت
ہفتوں پیاسا رہ سکتا ہوں
بھوک بھی ہفتوں سہ سکتا ہوں
کچھ نہ ملے تو کانٹے کھاؤں
پیاسا میلوں چلتا جاؤں
بوجھ اٹھا لیتا ہوں کئی من
کوئی نہیں ہوتی ہے الجھن
انسانوں کے کام ہوں آتا
ہر اک سے تحسیں ہوں پاتا
گر چاہو تم، پاؤ عظمت
تم بھی کر لو سب کی خدمت
Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top