skip to Main Content

آبِ شیریں

کلیم چغتائی

۔۔۔۔۔

دستک کی آواز سے، شاکر صاحب کی آنکھ کھل گئی۔
کوئی باہر کا دروازہ اس طرح پیٹ رہا تھا۔ شاکر صاحب نے نیند سے بوجھل آنکھیں کھول کر سرہانے رکھی گھڑی پر نظر ڈالی۔ سہ پہر کے تین بجے تھے۔ چھٹی کا دن تھا اس لیے شاکر صاحب دو پہر کا کھانا کھا کر ذرا آرام کرنے لیٹ گئے تھے۔ ذرا دیر میں ان کی آنکھ لگ گئی اور وہ گہری نیند سو گئے، مگر انہیں سوئے ہوئے ابھی صرف آدھا گھنٹہ ہوا تھا کہ دروازہ پیٹنے کی آواز نے انہیں جگا دیا۔
شاکر صاحب دروازہ کھولنے کے لیے اٹھ ہی رہے تھے کہ ان کی بیٹی نے جا کر دروازہ کھول دیا۔ انہوں نے بستر پر لیٹے لیٹے ہی آواز دی:
”کون ہے عائشہ؟“
عائشہ منہ بنائے اندر آئی اور جلے بھنے لہجے میں بولی:
”سامنے کچی آبادی والے دو بچے ہیں، پانی مانگ رہے ہیں۔“
شاکر صاحب نے تحمل سے کہا:
”تو بیٹا، دے دو پانی، ممکن ہے انہیں فوراً ضرورت ہو۔ پانی تو اللہ کے فضل سے ہمارے پاس بہت ہے۔“
شاکر صاحب کی بیٹی تڑخ کر بولی:
”تو ابو صرف ایک ہمارا ہی گھر رہ گیا ہے پانی بانٹنے کے لیے،محلے میں اور بہت سے گھر ہیں، یہ لوگ اور کسی کے گھر نہیں جاتے۔ کونے پر شیخ صاحب کا گھر ہے، انہوں نے تو بورنگ کروا کے کنواں کھدوایا ہے۔ پڑوس میں شکیل صاحب ہیں، ان کے گھر کے باہر تو کتا بندھا رہتا ہے اور۔۔۔۔“ عائشہ کی بات ادھوری رہ گئی، کیونکہ باہر بچے پھر آوازیں دے رہے تھے۔
”بی بی جی، پانی دے دو، گھر میں پانی ذرا سا بھی نہیں ہے۔“
شاکر صاحب نے پیار سے کہا:
”تمہاری بات بالکل ٹھیک ہے عائشہ بیٹی، لیکن ابھی فوری طور پر تو ان بچوں کو پانی دے دو۔“
عائشہ پیر پٹختی ہوئی باہر گئی، بچوں سے ان کے برتن لیے اور باہر صحن میں لگے نل کے نیچے رکھ کرنل کی ٹونٹی کھول دی۔ بچے، دروازے پر کھڑے حسرت سے نل کو دیکھ رہے تھے جس سے پانی کی موٹی سے دھار نکل رہی تھی۔
برتن بھر گئے تو عائشہ نے سخت لہجے میں کہا:
”لو، اٹھا لو اپنے برتن، اور روز روز مت آ جایا کرو، محلے میں اور بھی گھرہیں، کبھی وہاں بھی چلے جایا کرو۔“
بچے برتن اٹھا کر چلے تو عائشہ چلائی:
”احتیاط سے! تم لوگ پورے صحن میں پانی پھیلا دیتے ہو۔ اور سنو۔۔۔ آئندہ کبھی اس طرح کھڑی دو پہر میں منہ اٹھائے مت آ جانا۔ میرے ابو سور ہے تھے، تم نے ان کی نیند خراب کر دی۔“
بچے شرمندہ شرمندہ سے ہو کر چلے گئے۔ عائشہ نے غصے میں زور سے دروازہ بند کیا اور اندر آ گئی۔ شاکر صاحب نے شفقت بھرے انداز میں آواز دی:
”عائشہ!“
”جی ابو۔“ عائشہ نے پلٹ کر ان کی طرف دیکھا۔
”بیٹا یہاں آئیے۔ بیٹھے۔“
عائشہ آ کر شاکر صاحب کے پلنگ کے قریب کرسی پر بیٹھ گئی۔
”اور کیا ہو رہا ہے۔ پڑھائی کیسی چل رہی ہے؟“
”بہت عمدہ ابو۔“
”ماہانہ ٹیسٹ میں کیسے نمبر آ رہے ہیں؟“
”ابو، ہمیشہ اے گریڈ لیتی ہوں اور پہلی تین پوزیشنوں میں سے کوئی ایک ضرور لیتی ہوں۔“
”بہت خوب! تمہاری پسند کا مضمون کون سا ہے؟“
”ویسے تو انگلش اور حساب بھی پسند ہیں، مگر سائنس پڑھنے میں زیادہ مزہ آتا ہے۔“
”اچھا تو بتاؤ، بارش کیسے ہوتی ہے؟“ شاکر صاحب نے اچانک سوال کر دیا۔
”بارش! بادلوں کے برسنے سے!“
”وہ تو ٹھیک ہے، یہ بادل کہاں سے آتے ہیں۔“
”اچھا آپ یہ پوچھ رہے ہیں، یہ تو مجھے اچھی طرح معلوم ہے۔ یہ جو سورج ہے نا ابو، اس کی تیز گرم کرنیں جب سمندر پر پڑتی ہیں تو اس کا پانی بھاپ بن کر ہوا میں اڑ جاتا ہے۔ یہ بھاپ جب بہت اوپر پہنچتی ہے تو وہاں کی ٹھنڈک سے بادل کی شکل میں آجاتی ہے پھر جب یہ بادل ہوا کے ساتھ سفر کرتے ہوئے کسی ایسی جگہ پہنچے ہیں جہاں فضا میں ٹھنڈک بہت زیادہ ہو تو یہ بادل پھر پانی میں تبدیل ہو کر زمین پر برسنے لگتے ہیں، ہم کہتے ہیں بارش ہو رہی ہے۔“ عائشہ نے تفصیل سے بتایا۔
”بھئی واہ، عائشہ بیٹی تمہیں تو بہت اچھی طرح یاد ہے۔ اچھا یہ بتاؤ کہ یہ جو بارش کا پانی ہوتا ہے، اس کا ذائقہ کیسا ہوتا ہے؟“ شاکر صاحب نے پوچھا۔
”صحیح ہوتا ہے۔ میں نے ایک بار پیالہ بارش میں رکھ دیا تھا، جب وہ بھر گیا تو اس کو چھان کر پیا تھا۔ میٹھا تھا۔ مس نے بتایا تھا کہ بارش کے پانی کو چھان لینا چاہیے کیونکہ اس میں مٹی، فضائی کیڑے وغیرہ شامل ہو سکتے ہیں۔“ عائشہ نے اپنی معلومات کا اظہار کیا۔
”بہت خوب۔ اچھا یہ بتاؤ کہ بارش کا پانی میٹھا کیوں ہوتا ہے؟“
”بارش کا پانی میٹھا ہی ہو گا، کڑوا کیوں ہونے لگا۔“ عائشہ نے حیرانی سے کہا۔
”بھئی تم نے ہی بتایا تھا کہ سورج کی گرمی سے سمندر کا پانی بھاپ بن کر اڑتا ہے۔ سمندر کا پانی کبھی چکھا ہے تم نے؟ کتنا کڑوا ہوتا ہے، سخت نمکین۔۔۔۔ تو پھر بارش کے پانی کو بھی سخت نمکین ہونا چاہیے۔“
”واہ ابو، آپ سمجھتے ہیں، میں آپ کا سوال سمجھ نہیں سکوں گی۔ جناب! پانی جب بھاپ بنتا ہے تو اس کے اندر حل ہونے والی چیزیں، نیچے ہی رہ جاتی ہیں۔ پانی بھاپ بن کر بالکل خالص پانی ہو جاتا ہے۔“ عائشہ نے فخریہ انداز میں جواب دیا۔
”بہت عمدہ، تم نے بالکل ٹھیک جواب دیا۔ میرا خیال تھا کہ تم چکرا جاؤگی۔ اچھا چلو یہ بتاؤ کہ کیا انسان کوئی ایسا انتظام کر سکتا ہے کہ کسی خاص علاقے پر اس کی مرضی کے مطابق خوب بارش ہو سکے؟“ شاکر صاحب نے سوال کیا۔
”ابو، بارش برسانے کا کام تو اللہ تعالیٰ کا ہے۔ ہماری مس کہہ رہی تھیں کہ مصنوعی بارش برسانے کے کچھ تجربے کیے تو گئے ہیں،مگر انسان وہ کام تو نہیں کر سکتا جو اللہ تعالیٰ کرتے ہیں۔“
”بالکل درست۔ اچھا ایک سوال کا جواب اور بتا دو۔ تم بھی حیران ہو رہی ہوگی کہ ابو تو سائنس کا ٹیسٹ لینے بیٹھ گئے۔ یہ بتاؤ کہ اگر زمین پر بارش نہ ہو تو کیا ہمارے نلوں میں پانی آ سکتا ہے؟“
”نلوں میں؟۔۔۔ ہاں آئے گا کیوں نہیں۔۔۔ مگر ٹھہریے۔۔۔“ عائشہ سوچ میں پڑ گئی۔
”اچھا چلو یہ بتاؤ کہ نلوں میں پانی کہاں سے آتا ہے؟“
”پائپ لائنوں سے۔“
”پائپ لائنوں میں پانی کہاں سے آتا ہے؟“
”نہروں اور جھیلوں سے، اور کہاں سے آئے گا ابو۔“
”میرا خیال تم اکتاگئی ہو، یہ تو تم کو پتا ہے کہ نہروں اور جھیلوں میں پانی دریاؤں سے آتا ہے، دریاؤں میں پانی کہاں سے آتا ہے؟“
”دریاؤں میں! میرا خیال ہے بارش ہونے سے دریاؤں میں پانی آتا ہے، خبروں میں بتاتے ہیں نا، جب بارش ہوتی ہے تو کہتے ہیں، دریا۔ چناب کی سطح بلند ہوگئی، سیلاب آ گیا۔“
”بالکل ٹھیک، تو طے یہ ہوا کہ اگر بارش نہ ہو تو نہ پہاڑوں پر برف جمے، نہ وہ پگھل کر دریاؤں میں شامل ہو، نہ بارش کا پانی دریاؤں میں شامل ہونے سے اس کے پانی میں اضافہ ہو، یوں دریا رفتہ رفتہ سوکھ جائیں، نہریں خشک ہو جائیں، پائپ لائنوں میں بھی پانی نہ آئے اور اس طرح ہمارے نل بھی کسی کام کے نہ رہیں۔“ شاکر صاحب نل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے۔
”ہاں، یہ تو بالکل ٹھیک ہے ابو۔“
”تو بیٹے، یہ تو ہمارے پیارے اور رحیم و کریم رب کا ہم پر اتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے ہماری ضرورت کا خیال رکھتے ہوئے زمین پر پانی پیدا فرمایا۔ پھر پانی میں ایسی خاصیت رکھی کہ ایک خاص درجہ حرارت پر وہ بھاپ بن جائے اور اپنے اندر حل ہونے والے سارے نمکیات وغیرہ نیچے ہی چھوڑ دے، پھر یہی بھاپ اللہ کے حکم سے بادل بن کر زمین کے مختلف حصوں پر برستی ہے، جس سے کھیتیاں اور جنگل سیراب ہوتے ہیں اور ہمیں پینے کا پانی بھی میسر آتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے صاف اور میٹھے پانی کا یہ عدہ انتظام نہ رکھا ہوتا تو ہم زندہ کس طرح رہ سکتے تھے۔“
”آپ بالکل صحیح کہتے ہیں، ابو واقعی یہ ہم پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے۔“
”یہی بات بیٹی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہمیں بتائی ہے، ٹھہرو، میں نے ایک قرآنی آیت کا ترجمہ اپنی ڈائری میں لکھ کر رکھا ہے۔ تمہیں سناتا ہوں۔“
شاکر صاحب نے میز پر رکھی ڈائری اٹھا کر اس کے ورق الٹے:
”دیکھو یہ سورۃ الواقعہ کی آیت 70 کا ترجمہ ہے، لکھا ہے:
’کبھی تم نے آنکھیں کھول کر دیکھا، یہ پانی جو تم پیتے ہو اسے تم نے بادل سے برسایا ہے یا اس کے برسانے والے ہم ہیں۔ ہم چاہیں تو اسے سخت کھاری بنا کر رکھ دیں، پھر تم شکر گزار کیوں نہیں ہوتے۔‘
تو بیٹی، جب اللہ نے اتنی فیاضی سے ہمیں میٹھا پانی عطا فرمایا ہے تو ہم اس مالک کا کیوں نہ شکر ادا کریں اور سامنے کی کچی آبادی والوں کے پاس اگر پانی نہیں ہے تو ہم اپنے پاس سے پانی انہیں دے کر کیوں نہ ان کی مدد کریں۔ یہ بھی تو اللہ کا شکر ادا کرنے کی ایک صورت ہے۔“
”ابو۔۔۔“ عائشہ اٹھ کر کھڑی ہوگئی، اس کی آنکھیں جھکی ہوئی تھیں۔”اب آپ کو کوئی شکایت نہیں ہوگی۔“
”شاباش!“ شاکر صاحب خوش ہو کر بولے:”اب ذرا ایک گلاس ٹھنڈامیٹھا پانی تو پلا دو۔“

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top