skip to Main Content

آکٹوپس

کلیم چغتائی
۔۔۔۔۔
آکٹوپس ہے بڑا نرالا
آٹھ انوکھے بازو والا
دنیا بھر میں ہیں جو سمندر
رہتا ہے یہ اُن کے اندر
چند اِنچوں کے کچھ ہوتے ہیں
اور کچھ پندرہ فُٹ تک پھیلیں
سر میں دماغ اِک ہوتا ہی ہے
ہر بازو بھی ذہن ہے جیسے
فیصلے ہر بازو خود کرلے
اور نہ اجازت ذہن سے مانگے
رب نے ہر بازو پر بخشے
ڈھیروں چھوٹے چھوٹے پیالے
یہ چیزیں پہچانیں، پکڑیں
دشمن کو بھی یہ جھٹ جکڑیں
کھانے کا یہ مزہ بھی چکھ لیں
چلنے، چڑھنے میں کام آئیں
ایک نہیں دل، تین ہیں اِس کے
جِن سے تَن میں خوں ہے پہنچے
خوں اِس کا ہوتا ہے نیلا
چونکہ ہے جو اِس میں تانبا
کوئی نہیں ہے تَن میں ہڈّی
چونچ میں بس ہوتی ہے سختی
لمحوں میں رنگت یہ بدلے
یوں دشمن سے یہ چُھپ جائے
جب بھی کوئی خطرہ دیکھے
سیاہی کی پِچکاری پھینکے
دشمن کو کچھ نظر نہ آئے
اور یہ بھاگے، جان بچائے
کوئی اگر بازو کٹ جائے
پورا بازو پھر اُگ آئے
کھائے کیکڑے ، مچھلی، گھونگے
خول اُن کے چونچ اِس کی توڑے
کھول بھی لے یہ جار کا ڈھکّن
یاد بھی کرلے چیزیں فوراً
غار میں یہ رہتا ہے تنہا
اُس کو رکّھے صاف اور سُتھرا
پتّھر، گھونگوں کو یہ مِلائے
غار کا دروازہ یہ بنائے
شارک، ڈولفن، وہیل اور انساں
اکثر لیتے ہیں اِس کی جاں
چین ، کوریا، یوناں، جاپاں
کھائیں وہاں پر اِس کو انساں
مادہ بس اِک بار انڈے دے
اور مہینوں اُنہیں سنبھالے
پانی سے تر اُن کو رکّھے
گھڑی گھڑی جھاڑے اور پونچھے
اِس دوران نہ کچھ یہ کھائے
بُھوک بھی اِس کی کم ہو جائے
بچّے جب ہو جائیں پیدا
ماں ہو جائے سُوکھ کے کانٹا
چند دن میں مرجائے امّاں
ماں بچّوں پر ہو یوں قرباں
باپ بھی جلدی ہی مر جائے
بچّوں کو وہ دیکھ نہ پائے
اِک مادہ کے لاکھوں بچّے
خود ہی تیریں کھاتے پیتے
اُن سے پرندے بُھوک مِٹالیں
یا مچھلی، جیلی فِش کھالیں
لاکھوں میں دو اِک بچ جائیں
پانچ برس کی عمر جو پائیں
Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top