skip to Main Content

ہَنی بیجر

کلیم چغتائی
۔۔۔۔۔
چھوٹا ہے لیکن ہے بہادر
لڑنے کے آتے ہیں کئی گُر
دو فِٹ اِس کی لمبائی ہے
اور اِک فِٹ کی اونچائی ہے
وزن کِلو ہے آٹھ سے سولہ
طاقتور ہے اِس کا جُث٘ہ
خطرہ ہو تو اَڑ جاتا ہے
شیر سے بھی یہ لَڑ جاتا ہے
لَڑ سکتا ہے گھنٹے بھر تک
دشمن کو پہنچاتا ہے زَک
جگ میں ہے لاکھوں برسوں سے
جنگ اِس کی تب سے جاری ہے
پاک و ہند اور افریقہ کے
گھر ہیں اِس کے، خشک علاقے
موٹی، ڈھیلی کھال ہے اِس کی
دشمن کے حملوں سے بچاتی
جسم کو بے حد تیز گُھمائے
قابو میں دشمن کے نہ آئے
فوراً پلٹے ، حملہ کردے
اور دانتوں سے چِیرے پھاڑے
دانت اِس کے چھوٹے ہیں پھر بھی
کردیں فوراً تِک٘ا بوٹی
کچھوے کا یہ خول بھی توڑے
اور اندر سے گوشت نکالے
سانپوں سے یہ خوف نہ کھائے
کاٹ کے اُن کو بھی کھا جائے
سانپ کبھی گر ڈس لے اِس کو
کوئی بڑا نقصاں نہ اِسے ہو
شہد ، شہد کی مک٘ھی کھالے
کیڑے ، پرند ، انڈے بھی چبا لے
شہد کی مک٘ھی ڈنک جو مارے
بے خوفی سے اُس کو سہہ لے
اِس کی زباں ہے کانٹوں والی
جو، کھانے میں دے آسانی
بھیڑیے، گیدڑ، جنگلی کُت٘ے
لگڑ بگھے، شیر اور چیتے
اِن سب سے جَم کر لڑتا ہے
اور اکثر بھاری پڑتا ہے
آنکھیں کچھ چھوٹی ہوتی ہیں
دیکھیں شب کی تاریکی میں
جو ہوں زمیں میں کیڑے، چُوہے
بُو سے اُن کو فوراً ڈھونڈے
رب کے کرم سے اِس نے پائے
طاقتور پنجے اور جبڑے
سخت زمیں مِنٹوں میں کھودے
لمبے چوڑے بِل یہ بنالے
بِل ہوتے ہیں دس فِٹ لمبے
اِن میں بناتا ہے یہ کمرے
بِل کے اندر گھاس بِچھائے
اُس پر لیٹے اور سو جائے
دن میں زیادہ تر سوتا ہے
رات میں یہ چوکس ہوتا ہے
نام ہَنی بیجر ہے پایا
بے خوفی میں نام کمایا
سب کے لیے یہ درس ہے اِس کا
رب کے سِوا مت کسی سے ڈرنا
Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top