ارے نہیں بھائی لومڑ!
کہانی: Oh, No, Brer Fox!
مصنفہ: Enid Blyton
مترجم: محمد الیاس نواز
۔۔۔۔۔
ایک دن بھائی ریچھ نے بھائی خرگوش کو تحفے میں شہد دیا۔، سنہرے پیلے رنگ کا میٹھااورتازہ شہد چھ نفیس مرتبانوں میں بھرا ہوا تھا۔ بھائی خرگوش بڑا خوش ہوا۔ اس نے انہیں ٹوکری میں ڈالا اور گھر روانہ ہو گیا۔اس دن گرمی چونکہ زیادہ تھی اس لیے وہ آرام کرنے ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا۔جلد ہی اس کا سرایک طرف ڈھلک گیا اور وہ نیند کی آغوش میں چلا گیا۔
ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ بھائی لومڑ ٹہلتے ہوئے وہاں آگیا۔وہ بھائی خرگوش کو دبوچنے ہی والا تھا کہ جھاڑی کے پیچھے سے اسے بھائی طویل گوش کے کان دکھائی دیے ۔اس نے سوچا کہ بجائے خرگوش کے ،شہد اٹھا لیتا ہوں۔اس نے ٹوکری اٹھائی اور دل ہی دل میں مسکراتا ہوا چل دیا۔
جو کچھ ہوا تھا بھائی طویل گوش نے بھائی خرگوش کو سب کچھ بتادیا۔ بھائی خرگوش بھی حد سے زیادہ ضدی تھا۔وہ بہت گہرائی سے سوچ رہا تھاکہ شہد کیسے واپس حاصل کرے۔پھر وہ اپنے گھٹنے کو تھپتھپاتے ہوئے مسکرادیا۔
وہ دوبارہ بھائی ریچھ کے پاس گیااور اس سے کہا:
’’بھائی ریچھ!تم نے جو شہد مجھے دیا تھا وہ اس چور ،بھائی لومڑ نے چرالیا ہے۔مگر میں اسے واپس حاصل کرکے رہوں گا۔میرا کزن بھائی طویل گوش میرے پاس آیا ہے۔آج رات ہم بیٹھ کر منصوبہ بنائیں گے کہ اسے کیسے واپس حاصل کیا جائے۔بھائی طویل گوش اور میں دونوں ہی ہوشیار ہیں…اور ہم دونوں ایک عمدہ منصوبہ بنالیںگے۔‘‘
اسی دن بھائی لومڑ کی ملاقات بھائی ریچھ سے ہوئی تو وہی ہوا جس کا بھائی خرگوش کو پہلے سے علم تھا۔ بھائی ریچھ نے بھائی خرگوش کی کہی ہوئی بات بھائی لومڑ کو بتا دی۔بھائی لومڑ نے اپنی تیز ناک کو رگڑا اور مسکراتے ہوئے کہا۔’’آج رات میں بھائی خرگوش کے گھر کی کھڑکی کے نیچے بیٹھ کر سارا منصوبہ سنوں گا!‘‘
اس رات بھائی خرگوش نے اپنے وائر لیس کی آواز کافی کم کردی ۔اس پر بہت ساری گفتگو شروع ہو گئی۔جب وائرلیس اس نے بالکل ٹھیک جگہ لگا دیا تو اپنی ٹوپی اس پر رکھ دی اور خود باہر کھسک کر جھاڑی کے نیچے جا چھپا۔اسی وقت بھائی لومڑ آیا اور بلی کی طرح آہستہ سے دروازے میں داخل ہوا اور کھڑکی کی طرف بڑھ گیا۔وہ کھڑکی کے نیچے بیٹھ کر غور سے باتیںسننے کی کوشش کرنے لگا۔
بھائی طویل گوش اور بھائی خرگوش بہت دھیمے لہجے میں بات کر رہے تھے، اس نے اپنے آپ سے کہا۔’’شاید تھوڑی دیر میں وہ بلند آواز سے باتیں کریں تو میں سن سکوں کہ وہ کیا منصوبہ بنا رہے ہیں۔‘‘
بھائی خرگوش نے اسے دیکھا اور دل ہی دل میں مسکرایا۔پھروہ خاموشی سے پچھلے دروازے سے نکلا اور جتنی تیزبھاگ سکتا تھا،جنگل کے درمیان سے بھاگتا بھائی لومڑ کے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔وہاں پہنچ کر اس نے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوگیا۔ وہ ادھر ادھر ڈھونڈنے لگااور پھرپہلی چیز جو اس نے الماری میں دیکھی وہ اس کا شہد تھا ۔ شہد کے مرتبان بڑی ترتیب کے ساتھ ایک قطار میں رکھے ہوئے تھے۔ ٹوکری بھی اسے وہیں نیچے الماری میں ہی مل گئی اور اس نے جلدی سے مرتبان اس میں رکھ لیے۔
وہ گھر کی طرف بھاگا اور پیتل کی طرح کھنکھناتا ، سیٹی بجاتاہوا اپنے دروازے سے اندر داخل ہوا۔بھائی لومڑ نے اس کی آواز سنی تو حیرت سے دیکھا، وہ تو یہ سمجھ رہا تھا کہ بھائی خرگوش اوربھائی طویل گوش گھر میں بیٹھے باتیں کر رہے ہیں۔بھائی خرگوش نے اپنی ٹارچ جلا کر اس کی روشنی کھڑکی کے نیچے بیٹھے بھائی لومڑ پر ڈالی۔
’’ارے بھائی لومڑ!‘‘انہوں نے کہا۔’’ابھی تک وہیں بیٹھے ہو! چلو ٹھیک ہے، ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔‘‘
’’ارے تم کہاں تھے؟‘‘بھائی لومڑ نے پوچھا۔ ان کے ذہن میں ایک بھیانک خیال آرہا تھا۔
’’کہاں ہونا تھا بھائی لومڑ؟ارے ! میں اپنے کل کے ناشتے کے لیے شہد لینے گیا تھا۔‘‘بھائی خرگوش نے کہا اور اس سے پہلے کہ بھائی لومڑ اسے پکڑتا وہ بھاگ کر گھر میں داخل ہو گیا۔اس نے اپنا سر دوبارہ باہر نکالا اور بولا۔’’مجھے بہت خوشی ہوئی کہ تمہیں میرا وائر لیس پسند ہے۔بھائی لومڑ! کسی رات دوبارہ آئو نا…اسے سننے کے لیے!!

