لومڑ کی پیاز
کہانی: Brer Fox’s Onions
مصنفہ: Enid Blyton
مترجم: محمد الیاس نواز
۔۔۔۔۔
ایک دن بھائی خرگوش پیاز کے ایک کھیت کے پاس سے گز ررہے تھے کہ انہوں نے بھائی لومڑ کو وہاں کھدائی کرتے دیکھا۔وہ بولے:
’’آہا، بھائی لومڑ…!کیا یہ تمہاری پیاز ہیں؟‘‘
’’ہاں میری ہی ہیں!‘‘بھائی لومڑ نے کہا۔’’لیکن اتنے گرم دن میں کھدائی کرنا کتنامشکل کام ہے۔‘‘
’’اچھا! میں آکر تمہاری مدد کرتا ہوں۔‘‘بھائی خرگوش نے کہا،پھر کھیت میں چھلانگ لگائی اور کھدائی شروع کردی۔چھوٹی چھوٹی گول پیاز بہت عمدہ تھیں اوربھائی خرگوش کو تصور میں ان کا گرم گرم سوپ دکھائی دے رہا تھا۔آہا، مزے دار…!انہیں یقین تھا کہ بھائی لومڑ اپنی مدد کے بدلے انہیں مٹھی بھر پیاز ضرور دیں گے۔ لیکن نہیں،پیاز تو کیا دیتے بھائی لومڑ نے کام ختم کرنے کے بعد، ایک لفظ شکریہ تک کانہ کہا۔انہوںنے قریب رکھی چھوٹی سی بوری اٹھائی اور بیلچے سے اس میں پیاز ڈالنے لگے۔
’’کیا ان میں سے چند پیازمجھے نہیں دو گے؟‘‘بھائی خرگوش نے غصے میں پوچھا۔
’’نہیں، ایک بھی نہیں۔‘‘ بھائی لومڑ مسکرا کر بولے۔’’تم نے کئی بار مجھے بہت کامیابی سے دھوکہ دیا، بھائی خرگوش…!میں اب تمہارے ساتھ کسی ہمدردی کاسلوک نہیں کروں گا۔تمہیں کھیت کی سب سے چھوٹی پیاز بھی نہیں ملے گی۔‘‘
بھائی خرگوش ایک منٹ تک کھڑے بھائی لومڑ کو دیکھتے رہے،پھر وہ بولے۔’’یہ سب پیاز اس چھوٹی سی بوری میں نہیں آئیں گی،میں تمہیں اس سے بڑی دیتا ہوں ۔مجھے تم سے کوئی عداوت نہیں ہے بھائی لومڑ!مجھے جب بھی کسی سے ہمدردی کا موقع ملتا ہے ، میں ضرور کرتا ہوں۔‘‘
اس پر بھائی لومڑ زور سے ہنسے مگر ساتھ ہی انہوںنے بھائی خرگوش کی بڑی بوری والی پیشکش بھی قبول کرلی۔بھائی خرگوش بوری لے آئے اورپیاز بھروانے میں بھائی لومڑ کی مدد کر نے لگے ۔اسی دوران انہوں نے چھری اٹھائی اور جلدی سے بوری کے نچلے حصے میں ایک چھوٹا سا سوراخ کردیا۔پھر انہوں نے مسکر اکر بھائی لومڑ کو الوداع کہا اور چل دیے مگر تھوڑا سا آگے جا کر واپس آئے۔ بھائی لومڑ کی چھوڑی ہوئی بوری اٹھائی اوربھائی لومڑ کے پیچھے پیچھے چل پڑے جو گلی کا موڑ مڑ چکے تھے۔ وہ کس طرف گئے ہیں،یہ کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ پوری گلی میں پیازوں کی ایک قطار تھی جو بوری کے سوراخ سے ایک ایک کرکے گر رہی تھیں۔
وہ دل ہی دل میں مسکرانے لگے۔ وہ ایک ایک کرکے ساری پیاز چنتے گئے اور بوری میں ڈالتے گئے۔پھر وہ گلی کاموڑ مڑے تو انہیں پیازوں کی ایک اور قطار نظر آئی۔وہ پیازبھی ان کی بوری میں چلی گئیں اور بوری جب بھر گئی تو وہ مڑ کر بھاگے اور اپنی بوڑھی اہلیہ کے پاس جا پہنچے۔ ’’چند پیازوں کا سوپ بنا لو!‘‘ انہوں نے چلاتے ہوئے بوری نیچے پھینک دی۔
اور جب بھائی لومڑ نے گھر پہنچ کر اپنی بوری نیچے رکھی تو انہیں جھٹکا لگا۔ بوری میں صرف چند پیاز رہ گئی تھیں، باقی جا چکی تھیں۔وہ باہر سڑک کی طرف بھاگے مگر وہاں بھی کوئی پیاز نہیں تھی۔وہ تیزی سے بھائی خرگوش کے گھر پہنچے۔ دروازہ بند تھا مگر کھڑکی سے پیاز کے مزے دار سوپ کی عمدہ خوشبو آرہی تھی۔
’’کچھ دوں؟‘‘ بھائی خرگوش نے کھڑکی سے جھانک کر سوپ کا چمچہ لہراتے ہوئے کہا، مگر بھائی لومڑ کے پاس کہنے کو کوئی لفظ نہ تھا۔

