مہمانِ خصوصی کی تیاری
قاسم بن نظر
۔۔۔۔۔
چچا فلسفی ایک ادبی محفل میں مہمان اور وہ بھی خصوصی مدعو کیے گئے لیکن……
۔۔۔۔۔
اس مرتبہ چچا فلسفی نے پھر مجھ غریب کو اپنے دولت خانے بلوا لیا۔ اس روز وہ نہ صرف خوش و خرم بلکہ ہشاش بشاش اور چاق و چوبند بھی دکھائی دے رہے تھے۔
” کیا ہوا؟ کیا کسی سے لڑنے بھڑنے کی تیاری ہے؟“ میں نے پوچھا۔
”ارے نہیں برخوردار! اب ہم میں اتنا دم خم کہاں ؟“ انہوں نے ٹھنڈی آہ بھر کر کہا۔
” وہ زمانے گئے جوانی کے جب ہم اکیلے ہی دوچار کو زمین پر پچھاڑ کر گھر لوٹا کرتے تھے۔“
” وہ کون بدنصیب تھے؟“
” جو میرے فلسفوں پر تنقید کرتے تھے۔“
” اور اب کیا حال ہیں ۔“
” اب انہی لوگوں سے نظر بچا کر چھپ چھپا کے گھر لوٹتاہوں ۔ آج وہ جان بوجھ کر کہتے ہیں کہ آؤ…… اب آکے اپنے فلسفے سناؤ۔“
” آج کہاں کے ارادے ہیں ؟“
چچا فلسفی نے پھر گہرا سانس لے کر کہا:
”ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں
کہیں ایسا نہ ہوجائے کہیں ویسا نہ ہوجائے“
”بڑے ڈرپوک اور وہمی قسم کے انسان ہیں آپ۔“
” بھئی مجھے غصہ مت دلاؤ۔“
” پھر آپ ہی بتا دیجئے۔ آج آپ کی ”صحت مشاقہ“کا کیا راز ہے؟“
” صحت ِ مشاقہ نہیں محنت مشاقہ ہوتی ہے۔“
” جو کچھ بھی ہے، آپ اس راز سے پردہ اٹھائیے۔“
” آج انجمن ناقدین نے اپنا نام تبدیل کرکے انجمن فلاح ناقدین رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔“
” یعنی اب اس انجمن کے اراکین تنقید کرنے کے بجائے ناقدین کی فلاح و بہبود کے لیے چندہ جمع کریں گے۔“
” ہش، چپ، اتنی زور سے سچ نہیں بولتے، آہستہ بھی بولا جا سکتا ہے۔“
” تو پھر آپ کا کیا کام ہے؟“
” نام کی تبدیلی کے لیے سابقہ انجمن ناقدین نے ایک ادبی محفل کا انعقاد کیا ہے۔ جس کے لیے انہیں ایسے مہمان خصوصی کی ضرورت ہے جو علمی و ادبی ہو۔ اس اسامی کو پر کرنے کے لیے انہوں نے مجھے دعوت دی ہے۔“
”مگر انہیں تو علمی و ادبی مہمان خصوصی چاہیے۔“
” اب ہم سے بڑی ادبی و علمی شخصیت دنیائے ادب میں اور کیا ہوگی؟ ادب میں فلسفے کی ملاوٹ نہ کر دوں تو پھر کہنا۔“ یہ کہتے ہی انہوں نے اتنی زور سے سینہ ٹھونکا کہ کھانسی کا دورہ پڑ گیا۔ میں نے انہیں پانی پلایا تو ان کی سانس کی آمد و رفت بحال ہوئی اور اس کے بعد دوبارہ میں نے سلسلہ کلام جوڑا۔
” اب یہ جو آپ مہمان خصوصی کی عارضی اسامی پر کرنے جا رہے ہیں ، تو اس کے لیے میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں ؟“
” مجھے تمہاری مدد کی نہیں ، تمہاری خدمت کی ضرورت ہے۔ گرامر کو ایک علمی و ادبی شخصیت کے سامنے ملحوظ خاطر رکھو ورنہ یہ گستاخی……“ میں نے ان کے منہ پر ہاتھ رکھ کر انہیں خاموش کرایا ورنہ وہ جذبات کے عالم میں اور مہمان خصوصی بننے کی خوشی میں نہ جانے کیا کیا کہہ جاتے۔
بہرحال چچا فلسفی نے میری خدمت کا امتحان لینے کے لیے اپنی ایک سیاہ رنگ کی شیروانی پر استری کرنے کو کہا۔
میں نے تیزی سے شیروانی اٹھائی اور پھرتی سے باہر نکل گیا۔ دوڑ کر دھوبی کے پاس پہنچا اور آناً فاناً استری کرنے کو کہا۔ اس قسم کی ارجنٹ استری میں ایک گھنٹہ اور پچاس روپے خرچ ہو گئے کیونکہ بجلی کی عدم فراہمی کے سبب معزز شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا جن میں چچا فلسفی کے علاوہ میں اور دھوبی بھی شامل تھے۔
میں استری شدہ شیروانی اٹھا کر واپس چچا فلسفی کے گھر پہنچا، وہ غصے اور اپنی شیروانی کے انتظار کے عالم میں ایک کمرے سے دوسرے کمرے کا چکر بلکہ چلہ کاٹ رہے تھے۔
” کہاں چلے گئے تھے بدبخت؟“ انہوں نے مجھ سے ملازموں کی طرح کا برتاؤ شروع کر دیا۔ آخر کو انہوں نے مجھے خدمت گار تسلیم کیا تھا۔
” جی…… وہ میں شیروانی پریس کو لے گیا تھا۔“
” کیا!!!؟“ انہوں نے اتنا بڑا منہ پھاڑ کر کہا کہ ان کے سارے دانت دکھائی دینے لگے اور میں ان کے دانتوں کی گنتی کرنے لگا۔ ” تم میری شیروانی پریس لے گئے تھے۔ میری شیروانی کا پریس میں کیا کام؟“
” نہیں جی، آپ سمجھے نہیں ، پریس کا مطلب استری کرنے کو میں آپ کی شیروانی لے گیا تھا۔“
” بس بس، مجھے مت سمجھاؤ۔ میں ایک علمی و ادبی شخصیت ہوں ۔ مگر یہ بتاؤ کہ تم ایک گھنٹے میں استری کروا کے لائے ہو۔ تمہیں نہیں معلوم کہ وقت کتنا قیمتی ہے؟“
” مگر…… بلکہ…… دراصل …… لیکن……“
”ٹھیک ہے ٹھیک ہے، میں سمجھ گیا۔ اب تم ایسا کرو کہ میرے نہانے کے لیے پانی گرم کرو۔“
” کیوں ؟ کیا آپ کے ہاں استری کے علاوہ گیزر بھی نہیں ہے۔“
”اصل میں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی سے استفادہ نہیں کرتا۔“
” مگر گیزر اور استری کا انفارمیشن ٹیکنالوجی سے کیا تعلق؟“
” خبردار ! مجھے مت سمجھاؤ…… آخر کو میں ایک……“
” آخر کو آپ ایک علمی و ادبی شخصیت ہیں ۔“
”ٹھیک ہے، اب تم اپنی اوقات پر آگئے ہو۔ اب جاؤ اور میرے لیے پانی گرم کرو۔“
میں نعمت خانے گیا تو دیکھا کہ ایک چھوٹی سی پتیلی چولھے پر چڑھی ہوئی تھی۔ میں نے اس میں پانی بھرا اور گرم کرنے لگا۔ پانی ابلنے کے بعد میں نے پتیلی اٹھائی اور غسل خانے کی طرف جانے لگا تو وہ چلائے:
”رک جاؤ، اس پتیلی میں تم کیا لے کر جا رہے ہو، نہانے کا پانی یا چائے کا پانی۔“
” اس میں چائے بھی بن سکتی ہے لیکن یہ آپ کے نہانے کا پانی ہے۔“
” مگر اتنی چھوٹی سی پتیلی میں ……“
” جی وہ چولھے پر یہی پتیلی چڑھی ہوئی تھی۔“
”چولھے پر کیتلی یا دیگ چڑھی ہوئی ہو تو تم اس میں پانی گرم کر لیتے۔“
” آپ اس پتیلی کو چھو کر دیکھیں ، یہ پانی بھی سو ڈگری سینٹی گریڈ پر ابلا ہوا ہے۔“
” ہاں ہاں مجھے مت سکھاؤ…… مجھے معلو م ہے کیونکہ……“
” کیونکہ آپ ایک علمی و ادبی شخصیت ہیں ۔ اگر آپ کو پانی گرم ہونے پر شک و شبہ ہے تو میں ایک مرتبہ پھر گرم کر لیتا ہوں ۔“
چچا فلسفی سوچ میں پڑ گئے۔ شاید کوئی نیا فلسفہ ایجاد کرنے لگے تھے۔ پانچ منٹ اسی خاموشی میں گزر گئے۔ پھر وہ کسی نتیجے پر پہنچے اور کہا۔ ” دوبارہ پانی گرم کرنے میں اور وقت صرف ہو گا ۔ یہی جا کے غسل خانے میں ڈال دو۔“
” مگر اب تو یہ پانی بھی ٹھنڈا ہو چکا ہے۔“
”اتنی بحث کرو گے تو یہ پانی مزید ٹھنڈا ہو کے برف بن جائے گا۔“
” ایسا تو خیر ناممکن ہے، برف بننے کے لیے زیرو ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت چاہیے جو فریزر کے علاوہ یہاں ناممکن ہے۔“
” بس کرو!“ وہ دھاڑے۔ ” مجھے مت بتاؤ کیونکہ میں ایک ……“
” علمی و ادبی شخصیت۔“
بالآخر انہوں نے نہانے کا مرحلہ طے کیا۔ غسل خانے سے وہ بے تحاشا چھینکتے ہوئے برآمد ہوئے۔ پھر انہوں نے مجھے ایک نیا حکم صادر کیا:
” جاؤ …… چائے لے کر آؤ۔“
” میں باہر کی طرف جانے لگا تو انہوں نے پیچھے سے میری گردن دبوچ لی ۔
” کہاں جا رہے ہو؟“
” نیو کوئٹہ چمن ژوب ہوٹل۔“
” کس لیے……“
”چائے لینے کے لیے۔“
”چائے گھر میں ہی بناؤ ورنہ تم تین گھنٹے برباد کر دو گے۔ اور ہاں ، چائے جلدی بنانا۔“
میں دوبارہ نعمت خانے کی طرف بھاگا اور راستے میں ایک گلدان اور ایک گلاس کو زمین بوس کر دیا۔
” ارے میرا نقصان کر دیا۔“
میرے نزدیک اس نقصان سے زیادہ اہم ان کے لیے چائے بنانا تھا۔ میں نے شکر ڈھونڈنی شروع کی جو کہ نایاب تھی۔ میں نے آواز لگائی۔ ” شکر نہیں ہے۔“
انہوں نے دوسرے کمرے سے آواز لگائی۔ ”بغیر شکر کے ہی چائے بنا لو۔“ میں نے پتی ڈھونڈی تو وہ بھی نہ ملی۔
” پتی بھی نہیں ہے سرکار۔“ میں نے ادھر سے پتی ختم ہونے کا باآواز بلند اعلان کیا۔
” تو پھر کیا ہے؟“ وہ ادھر سے چیخے۔
” جوشاندہ ہے، نزلے زکام کے لیے مفید۔“
” مجھے نزلہ زکام نہیں صرف چھینکیں آرہی ہیں اور ناک بند ہے اور وہاں کیا ہے؟“
”ہاضمے والی چورن ہے۔“
وہ بولے ” تو پھر صرف دودھ گرم کرکے لے آؤ۔“
” مگر دودھ کی پتیلی بھی خالی ہے۔“ میں نے دریافت کیا۔
” میں ابھی آتا ہوں ۔“
ان کے آنے سے پہلے، ایک مرتبان میں بھوسی پڑی ہوئی دیکھی۔ میں نے اسے ڈسٹ بن میں ڈالا کہ چچا فلسفی آپہنچے۔
” ارے! یہ کیا کردیا۔“
” آپ نے دیکھا تو ہے کہ میں نے کیا کر دیا؟“
”ارے نالائق …… یہ بھوسی ڈسٹ بن میں پھینکنے والی نہیں تھی۔ یہ تو میں نے خریدی تھی۔“
” آپ فارغ اوقات میں یہ کام بھی کرتے ہیں ۔“
” مطلب کیا ہے تمہارا؟ یہ تو دراصل پیکٹ والی بھوسی تھی جو میں نے میڈیکل اسٹور سے خریدی تھی۔“
” اس کے پیسے آپ میری تنخواہ سے کاٹ لیجئے گا۔“
”تنخواہ ! وہ میں تمہیں دوں گا ہی کب…… خیر…… دودھ کیسے ختم ہوا؟“
” یا تو آپ نے پی لیا ہوگا یا بلی نے۔“
” میں نے تو نہیں پیا اور بلی یہاں ہے نہیں ۔“
میں نے دودھ کی پتیلی اٹھا کر دیکھا تو اس کے پیندے میں سوراخ تھا۔
” یہ دیکھیں ، سارا دودھ تو بہہ گیا۔ یہی وہ سوراخ ہے جس کی وجہ سے……“
”بس بس ، مجھے مت سکھاؤ…… میں ایک……“
”علمی و ادبی شخصیت۔“
” بس ٹھیک ہے۔ تم بغیر برف کا اورنج جوس بنا دو۔“
یہ کہہ کر وہ چلے گئے۔ میں نے فریج کھول کر دیکھا تو اورنج جوس بنانے کے لیے جس پھل کی ضرورت ہوتی ہے وہ نہ ملا۔ میں نے کہا۔
”اورنج تو نہیں ہے۔ آپ کہیں تو سادہ گلاس پانی میں زردے کا رنگ ڈال کے اورنج جوس بنا لوں ۔“
” تم کچھ مت کرو۔ میرے لیے سادہ گلاس پانی لے آؤ۔ ہم پہلے ہی لیٹ ہو چکے ہیں ۔“
میں پانی لے کر گیا اور پوچھا ۔” ہم کون؟“
وہ بولے۔ ” تم بھی ساتھ چل رہے ہو۔ تمہیں ادبی محفل میں لے جانے کا مقصد یہ ہے کہ تم کچھ ادب سیکھو۔ تم نے ایک کام بھی ڈھنگ سے نہیں کیا اور وقت اتنا برباد کیا۔“
جب ہم دونوں ادبی محفل میں پہنچے تو کرسیاں خالی پڑی تھیں ۔ چچا فلسفی بولے:
” کیا ہو گیا ہے ہماری قوم کو۔ ڈیڑھ گھنٹہ پہلے کا وقت تھا تقریب شروع ہونے کا اور ابھی تک کوئی بھی نہیں پہنچا۔“
اچانک کچھ لوگ آئے اور کرسیاں سمیٹنے لگے۔ میں نے کہا ۔” یہ دیکھئے تقریب ختم ہو چکی ہے۔“
چچا فلسفی نے ایک آدمی سے اس کی تصدیق بھی کر لی۔ میں نے کہا۔ ” چچا فلسفی! مجھے افسوس ہے کہ آپ مہمانِ خصوصی نہیں بن سکے۔ آپ وقت کا خیال کر لیتے تو……“
” بس بس، مجھے مت سکھاؤ…… آخر کو میں ایک علمی و ادبی شخصیت ہوں ۔“
اس کے بعد چچا فلسفی نے یہ سبق سیکھا کہ آئندہ وہ اپنے سارے کام خود کریں گے اور ہر چیز پہلے سے تیار رکھیں گے۔
٭……٭……٭
Facebook Comments

