skip to Main Content

کہانی ہنگامی اجلاس کی

قاسم بن نظر
ََََََََََََِ۔۔۔۔۔
دیکھیے اس مرتبہ کیا ہنگامہ ہونے جا رہا ہے ہنگامی اجلاس میں 
ََََََََََََِ۔۔۔۔۔
چچا فلسفی سے مجھے بہت سی شکایتوں کے علاوہ ایک شکایت یہ بھی تھی کہ جس روز ملک اور اسمبلی میں ہنگامہ آرائی نہ ہوتی ،اس روز بھی چچا فلسفی ایک ہنگامی اجلاس طلب کر لیتے۔
ایسے ہی ایک ہنگامی اجلاس میں ،میں کافی دیر سے پہنچا۔ مجھ سے پہلے اور بھی فارغ الاوقات اور فارغ البال لوگ (جن کے پاس کوئی کام نہ تھا اور نہ ہی کوئی کام کرنے کا وقت تھا) وہاں موجود تھے۔ مثلا دلشاد خانپوری، پروفیسر نقاد پوری اور ماموں خوش باش۔
میرے پہنچنے پر کورم پورا ہوا اور اجلاس کا باضابطہ آغاز ہوا۔ 
ماموں خوش باش :” کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ آج ہمیں یہاں بلا کر ہمارا وقت برباد کرنے کے لیے اجلاس کا کیا پروپیگنڈا ہے؟“
چچا فلسفی: ” جی نہیں …… آپ نہیں پوچھ سکتے۔“
پروفیسر نقاد پوری: ”لیکن میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اجلاس کا پروپیگنڈا نہیں ہوتا…… ایجنڈا ہوتا ہے۔“
دلشاد خانپوری کہنے لگے: ” اور میں یہ بھی تصحیح اور تنقید کرنا چاہوں گا کہ وقت برباد کرنے کی اصطلاح مت استعمال کریں ۔ اجلاس میں مثبت پہلوؤں کو سامنے لایا جائے۔“
پروفیسر نقاد پوری نے میز پر تین مکے مار کر کہا : ” میں دلشاد خانپوری کو تنقید کرنے کا حق نہیں دوں گا کیونکہ تنقید کرنا میرا پیدائشی حق ہے (اور پیدائشی نشان بھی)۔“
چچا فلسفی نے کہا:” میں آپ کو میز پر مکے مارنے کا حق نہیں دوں گا کیونکہ میز ٹوٹ بھی سکتی ہے۔“
ماموں خوش باش بولے : ” تو آپ نے گھٹیا قسم کی لکڑی کی میز کیوں رکھی ہوئی ہے۔ ہنگامی اجلاس میں تو حاضرین ڈیسکیں اور ٹیبلیں بجا کر اپنے دکھ درد کا اظہار کرتے ہیں ۔“
دلشاد خانپوری نے بھی اپنی رائے پیش کی۔ ” لیکن مجھے یقین ہے کہ تین مکوں سے میز نہیں ٹوٹے گی کیونکہ پروفیسر نقاد پوری کی تنقید کی طرح ان کے مکوں میں بھی دم نہیں ۔ ویسے بھی ان کے پاس کوئی ”بلیک بیلٹ “ تو ہے نہیں ۔“ 
پروفیسر نقاد پوری نے پھر میز پر مکا مار کر کہا: ’ ’میرے پاس دو بیلٹیں ہیں اور دونوں بلیک ہیں ۔“
میں نے کہا: ” ایسی بلیک بیلٹ تو سب کے پاس ہوتی ہے اور میرا خیال ہے کہ جس انداز سے آپ میز پر ہاتھ مار رہے ہیں ۔ میز ٹوٹے یا نہ ٹوٹے، آپ کے ہاتھ کی ہڈی ضرور ٹوٹ جائے گی۔“
ماموں خوش باش نے کہا ” بھئی اب میں بور ہونے لگا ہوں ۔“
چچا فلسفی بولے: ” وہ تو ہونا ہی ہے کیونکہ صرف ایک شخص کی خواہش پر کوئی مزاحیہ پروگرام شروع نہیں کیا جا سکتا۔“
پروفیسر نقاد پوری نے کہا: ”فلسفی صاحب اب آپ بتا ہی دیجئے کہ آج آپ کس پروپیگنڈے پر ہمارا دماغ خراب کریں گے؟“
دلشاد خانپوری نے کہا۔ ” میں یہاں پر دوبارہ تصحیح اور تنقید کروں گا کہ دماغ خراب کرنے کی اصطلاح مت استعمال کی جائے۔ بلکہ باوقار الفاظ استعمال کیے جائیں اور ویسے بھی پروپیگنڈا تو دشمن کرتے ہیں ۔“
پروفیسر نقاد پوری نے پھر سے تین مکے میز پر مار کر کہا: ”تمہاری آخری بات صحیح ہے کہ پروپیگنڈا تو دشمن کرتے ہیں ،اس لیے تو میں یہ لفظ بار بار استعمال کر رہا ہوں (اور بار بار مکے بھی مار رہا ہوں میز پر…… کیونکہ ابھی میں نے تہذیب کا دامن بلکہ پوری قمیض کو اپنے ہاتھ سے نہیں چھوڑا) لیکن تنقید کرنے کا حق میرے ہوتے ہوئے تمہیں نہیں ملے گا۔“
اپنی تقریر کا اختتام انہوں نے اپنے تکیہ کلام پر کیا یعنی میز پر تین مکے مار دیے۔ 
چچا فلسفی بولے: ” اس سے پہلے کہ پروفیسر نقاد پوری کا ہاتھ یا میز (یا دونوں ) ٹوٹ جائیں ۔ میں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ آج کے ہنگامی اجلاس کا پروپیگنڈا …… معاف کیجئے گا …… ایجنڈا کیا ہے؟“
ماموں خوش باش بولے ” معاف کیا لیکن جلدی بتائیے ورنہ یہ اجلاس واقعی ہنگامی ہوجائے گا۔“
چچا فلسفی بولے: ” مجھے تاریخ پر ایک مقالہ لکھنا ہے۔“
میں نے کہا: ” تو اس کے لیے آپ نے ہمیں زحمت کیوں دی۔ ہم کون سا تاریخ کے پروفیسر ہیں ۔“
چچا فلسفی نے کہا: ” یہ تو مسئلہ ہے کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ تاریخ میرا شعبہ نہیں ۔“
دلشاد خانپوری بولے :” ہاں …… آپ کا شعبدہ تو فلسفہ ہے۔“
پروفیسر نقاد پوری نے پھر میز پر تین مکے مار کر کہا: ” آپ نے فلسفہ کو شعبدہ کہا۔“
چچا فلسفی بولے: ” انہوں نے جو کچھ کہا یہ میرا دردِ سر ہے آپ اپنے ہاتھ کو کیوں زحمت دے رہے ہیں ۔“
پروفیسر نقاد پوری نے پھر میز پر تین مکے مارے اور کہا: ” اس طرح میں اپنی بات پر زور دے رہا ہوں اور ویسے بھی یہ میرا درد سر ہے۔“
چچا فلسفی نے کہا :” مگر آپ اپنی بات (اور میز) پر زور دینے کیلئے اتنی فضول خرچی نہ کریں ۔ آپ تین کے بجائے ایک آدھ مکے پر بھی اکتفا کر سکتے ہیں ۔“
ماموں خوش باش نے کہا: ” میرا خیال ہے کہ پروفیسر نقاد پوری کو چائے پلا ئی جائے تاکہ ان کا ہاتھ مصروف رہے۔“
پروفیسر نقاد پوری نے پھر تین عدد مکے میز پر مار کر کہا: ”اور اگر چائے کے ساتھ بسکٹ بھی کھلائے جائیں تو میرے دونوں ہاتھ مصروف رہ سکتے ہیں ۔“
چچا فلسفی نے کہا: ” لیکن ریفریشمنٹ کا انتظام تو اجلاس کے باضابطہ اختتام پر ہے۔ اگرچہ ہو سکتا ہے کہ کوئی ایک آدھ چیز ریفریش نہ رہے جیسے کہ میں یا میری میز……یا کسی کا ہاتھ۔“
میں نے کہا: ” تو کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ آپ اجلاس کو جلد از جلد ختم کرنے کے آپشن پر غور کریں ۔“
دلشاد خانپوری نے کہا: ” انہیں غور کرنے کا آپشن نہ دیا جائے کیونکہ غور کرنے میں یہ کافی دیر لگا سکتے ہیں ۔“
ماموں خوش باش بولے۔ ” فلسفی صاحب! غالباً آپ منہ کالا کرنے کا کہہ رہے تھے۔“
چچا فلسفی کانوں کو ہاتھ لگا کر بولے :”لاحول ولاقوۃ …… میں نے منہ کالا نہیں کہا تھا…… مقالہ کہا تھا۔ وہ بھی تاریخ پر۔“
دلشاد خانپوری بولے: ” تو اس سلسلے میں ہم کیا کر سکتے ہیں ۔ تاریخ کے لیے آپ کیلنڈر کی مدد لے سکتے ہیں ۔“
چچافلسفی بولے: ” جب مجھے تاریخ ہی نہیں پتہ ہوگی تو میں کیلنڈر میں کیا دیکھوں گا۔ صرف تصویر یں ۔“
پروفیسر نقاد پوری نے پھر میز پر ہاتھ مار کر کہا: ”تو آپ کا مسئلہ کیا ہے۔ مقالہ لکھنا…… کیا آپ کو لکھنا بھی نہیں آتا۔“
پروفیسر نقاد پوری غصے میں اٹھ کھڑے ہوئے۔ ماموں خوش باش بولے: ”پروفیسر نقاد پوری! اتنی توہین مت کریں …… ان کو لکھنا تو آتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ اپنا لکھا ہوا خود بھی نہیں پڑھ سکتے۔ مگر آپ کم از کم ذاتیات پر تو نہ جائیں ۔“
چچا فلسفی کمرے سے واک آؤٹ کر گئے۔
دلشاد خانپوری بولے: ” جس طرح کا سلوک چچا فلسفی ہمارے ساتھ کرتے ہیں ۔ اس کے بعد تو ہمیں واک آؤٹ کرنا چاہیے۔“
اس کے بعد تو پروفیسر نقاد پوری نے حد کر دی۔ وہ بولے: ”اور ہمیشہ کیلئے آئندہ کے اجلاسوں کا بائیکاٹ کرتے رہنا چاہیے۔“
وہ بولنے کے ساتھ ساتھ میز پر مکے بھی مارتے رہے اور شاید وہ مکے مارنے کا سلسلہ مزید جاری و ساری رکھتے۔ چچا فلسفی چائے کی پیالی اور بسکٹ لے کر بھاگتے ہوئے واپس آئے اور دونوں چیزیں پروفیسر نقاد پوری کو دے کر کہا۔
”ارے میز پر طبع آزمائی کی کیا ضرورت تھی مجھے پیار سے آواز دے کر بلا لیا ہوتا۔“
پروفیسر نقاد پوری نے دونوں چیزوں کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں سمیت مصروف رکھنے کا آغاز کیا۔
چچا فلسفی نے کہا: ” میں یہ کہہ رہا تھا کہ ایک مذاکرے میں مجھے تاریخ پر کوئی مقالہ لکھنے اور پڑھنے کو کہا گیا ہے۔ اگر صرف پڑھنا ہوتا تو میں کسی کا بھی مقالہ لے کر پڑھ سکتا تھا۔ لیکن اگر کسی کو پتہ چل گیا تو مجھ پر نقل چوری کا الزام لگ سکتا ہے اور مجھے بلیک لسٹ کرکے میری مارکیٹ ویلیو کو خراب کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ میری فی الفور مدد کی جائے کہ اس ضمن میں میں کیا کر سکتا ہوں ۔“
میں نے کہا: ” جب آپ اپنی مدد آپ کر سکتے ہیں ۔ تو ہم کیا کر سکتے ہیں ۔ ہم تو ہیں ہی ناچیز۔“
چچا فلسفی بولے: ” ایسا مت کہو…… تم نے سنا نہیں کہ نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں …… کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں ۔“
دلشاد خانپوری بولے: ” میں آپ کو شاباش دیتا ہوں کہ آپ نے براہِ راست ہمیں نکما اور برا کہنے سے حتی الامکان گریز کیا۔“
ماموں خوش باش بولے: ” میرے ذہن میں ایک ترکیب ہے۔“
چچا فلسفی نے کہا: ” ارشاد ارشاد۔“
ماموں خوش باش بولے: ” اگر آپ مقالہ پڑھنے سے صاف مکر جائیں ۔“
دلشاد خانپوری نے کہا: ” میں اس بات پر تنقید کرنا چاہوں گا کہ مکر جانے کا لفظ آپ نے صحیح جگہ استعمال نہیں کیا۔“
”تو آپ ہی بتا دیجئے کہ مکر جانے کا لفظ کون سی جگہ جا کے استعمال کرنا تھا۔“ماموں خوش باش نے تحریک اعتراض کے جواب میں دوسرا اعتراض داخل کیا۔
دلشاد خانپوری نے کہا: ”بھئی چچا فلسفی نے کوئی جھوٹ تھوڑا ہی بولا تھا جو مکر جاتے۔“
ماموں خوش باش نے کہا: ” بھئی آپ تو جانتے ہیں کہ تاریخ سے کسے دلچسپی ہو سکتی ہے؟ صرف تاریخ کے طالب علموں کو …… اور تاریخ کے بارے میں کون جانتا ہی کتنا ہے…… یہ تو پوری قوم کا المیہ ہے…… ہاں تاریخ کے بارے میں تو میں اتنا جانتا ہوں کہ جس کام کے بارے میں کچھ پتہ نہ ہو…… اس میں ہاتھ ڈالا جائے تواس کا بیڑا غرق ہی ہوتا ہے۔ اس لیے اگر آپ فلسفے کے کھیت میں تاریخ کی فصل اگائیں گے تو نتیجہ کچھ نہیں نکلے گا۔ مختصراً یہ کہ آپ مذاکرے میں شامل ہونے سے انکار کر دیں ۔ اس طرح تاریخ پر مقالہ لکھنے اور پڑھنے سے جان چھوٹ جائے گی۔“
چچا فلسفی نے کہا: ” اوہو! اتنی سی بات میرے دماغ میں کیوں نہیں آئی۔“
دلشاد خانپوری نے کہا: ” یہ تو آپ کا اپنا دردِ سر ہو سکتا ہے کہ ہمیشہ کی طرح آپ کے دماغ پر تالے یا عقل پر پردے پڑے ہوں ۔“
چچا فلسفی بولے: ”ٹھیک ہے پھر میں مذاکرے کے منتظمین کو کہہ دیتا ہوں کہ کچھ ناگریز وجوہات کی بنا پر میں مقالہ نہ تو لکھ سکتا ہوں …… نہ پڑھ سکتا ہوں ۔“
ماموں خوش باش نے کہا: ” آپ سیدھا سیدھا یہ کیوں نہیں کہہ دیتے کہ آپ مذاکرے میں شرکت نہیں کر سکتے۔“
پروفیسرنقاد پوری جو اتنی دیر سے خاموش بیٹھے ہوئے تھے۔ کہہ پڑے: ” جب کچھ کرنا دھرنا نہیں تھا تو ہمیں یہاں بلا کر اتنا پروپیگنڈا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ میں اس پر سخت تنقید اور احتجاج کرتا ہوں …… اور ایک منٹ۔“
یہ کہہ کر انہوں نے چائے کی پیالی مجھے تھما ئی ۔ میں نے کہا: ” یہ تو اب خالی ہو چکی ہے، اس میں اب بچا ہی کیا ہے۔“ بعد ازاں انہوں نے بسکٹ کی خالی پلیٹ بھی دلشاد خانپوری کو تھمائی اور احتجاجاً انہوں نے میز پر مکا مارا لیکن ساتھ ہی وہ چیخ اٹھے ۔ ”ٹوٹ گئی۔“
دلشاد خانپوری بھی چیخ اٹھے: ”ہاں ہاں میز ٹوٹ گئی مگر تم کیوں چیخ رہے ہو۔“
پروفیسر نقاد پوری بولے: ” مجھے لگتا ہے میرے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔“ چچا فلسفی بیہوش ہوگئے اور پورے اجلاس کا بے ضابطہ اختتام ہو گیا۔
٭……٭……٭
Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top