skip to Main Content

محاوروں کی لڑائی

قاسم بن نظر 
۔۔۔۔۔
دیکھئے کہ اس لڑائی میں کس کس محاورے کی ٹانگ ٹوٹتی ہے
۔۔۔۔۔
چھٹیوں کے دن ختم ہوتے جا رہے تھے اور بالعکس تناسب کے مطابق ہماری بوریت کا گراف بڑھتا جا رہا تھا۔ وہ تو بھلا ہو چچا فلسفی کا جنہوں نے ایک دن فون کرکے یہ کہہ دیا کہ ” جلدی سے آجاؤ۔ میں نے بوریت دور کرنے کا ایک نیا، انوکھا، اچھوتا، دلچسپ اور مزیدار پروگرام بنایا ہے۔“
میں ہوا کے گھوڑے پر سوار ان کے گھر پہنچا۔ اب کوئی یہ نہ پوچھے کہ ہوا کا گھوڑا آیا کہاں سے؟ یہ تو میں نے دانستہ طور پر محاورہ استعمال کیا ہے۔ بہرحال چچا فلسفی کا ارادہ (اور حلیہ) بدلنے سے پہلے میں ان کے گھر پہنچا اور ان کے اچھوتے اور نئے خیال کے بارے میں پوچھا۔
وہ ذرا مغرور ہو گئے۔ پہلے انہوں نے وائٹ کالر ہونے کی وجہ سے اپنا کالر جھاڑا(جو اب وائٹ نہیں رہا تھا) اور گردن اکڑا کر کہنے لگے:
”ارے برخوردار! اتنی جلدی بھی کیا ہے۔ پروفیسر نقاد پوری کو تو آجانے دو۔“
میں نے نکتہ اعتراض اٹھایا۔ ” مگر آپ کو اپنا منصوبہ میرے سامنے پیش کرنے میں کیا دشواری ہے۔“
وہ کہنے لگے۔ ” نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ۔ لیکن مجھے ڈر ہے کہ اس نئے اور اچھوتے خیال کو تم اپنے نام سے منسوب نہ کر لو۔ اسی لیے کسی دوسرے شخص کی موجودگی میں اس بات کے امکانات سو فی صد معدوم ہوجائیں گے۔“
میں نے کہا: ” تو پھر ایسا کریں کہ پروفیسر نقاد پوری کے آنے سے پہلے آپ کسی ایجاد کی طرح اپنے منصوبے بلکہ فلسفے کو اپنے نام سے پیٹنٹ کرالیں اور گنیز بک میں بھی درج کروالیں تاکہ باقاعدہ سند مل جائے اور کوئی آپ کا منصوبہ چوری کرنے کا خیال بھی دل میں نہ لا سکے۔“
وہ شاید میرے طنز کو بھانپ گئے اسی لیے خاموش رہے ۔ میں نے کہا ۔” اچھا آپ چپکے سے اپنا منصوبہ میرے کان میں کہہ دیں ۔ مبادا آپ پروفیسر نقاد پوری کے آنے تک بھول گئے تو آپ کا تو کروڑوں کا نقصان ہوجائے گا۔“
وہ درہم برہم ہو کر کہنے لگے۔ ” تم ذو معنی باتیں کرکے مجھے براہِ راست بھلکڑ کہنے کی کوشش کررہے ہو۔ تمہیں اپنی زبان کو لگام دینی چاہیے۔“ 
میں نے کہا ۔” میں کیسے لگام دوں اپنی زبان کو، لگام تو گھوڑے کو دی جاتی ہے۔ البتہ اگر آپ محاورتاً کہہ رہے ہیں تو واضح کر دیں ۔“
چچا فلسفی کا پارہ آسمان کو چھونے لگا۔ ”بس کردو بس۔ بس کر دو بس…… بس کر دو۔“
میں نے ان کے منہ پر ہاتھ رکھ کر بس کر دیا اور خود بھی خاموش رہنے میں عافیت جانی۔
کافی دیر گزر گئی تو میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ۔ میں نے کہا ۔ ”اتنی دیر ہوگئی۔ کیا پروفیسر نقاد پوری خوشحال ایکسپریس سے آرہے ہیں ؟“
وہ بولے۔” ایک بدحال شخص خوشحال ایکسپریس سے کیوں آئے گا۔ اطمینان رکھو ۔ وہ آتے ہی ہوں گے۔“
انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں ۔ کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے اور پروفیسر نقاد پوری درآمد ہو گئے۔
چچا فلسفی ان سے یہ کہہ کر بغل گیر ہو گئے۔ ”بڑی دیر کردی نادان آتے آتے۔“
میں نے برجستہ کہہ دیا۔ ”لیکن اصل شعر تو ہے بڑی دیر کی مہربان آتے آتے۔“
پروفیسر نقاد پوری نے کہا۔ ” تم نے بالکل صحیح کہا اور اسی معاملے پر ایک تنقیدی نشست بھی بٹھائی جا سکتی ہے۔“
میں نے کہا ۔ ” نہ صرف تنقیدی نشست بلکہ ایک اجلاس بھی بلایا جا سکتا ہے۔ “
چچا فلسفی کہنے لگے۔ ”ایسا کیا غضب کر دیا۔ بس ذرا سی ترمیم ہی تو کی ہے۔“
پروفیسر نقاد پوری نے کہا۔ ”ترمیم…… اگر عوام کو پتہ چل گیا کہ آپ نے اچھے بھلے شعر کی کس طرح درگت بنادی۔ تو بات اجلاس سے بڑھ کر دھرنے تک پہنچ جائے گی۔“
میں نے کہا۔ ” اور دھرنا بھی آپ کے گھر کے سامنے ہوگا۔“
پروفیسر نقاد پوری نے کہا۔ ”اگر عوام کی فوج آپ کے دروازے پر جمع ہو گی تو سب کا کھانا پینا آپ کے ذمے ہو گا۔“
چچا فلسفی کہنے لگے۔” مگر فوج میرے دروازے پر کیوں آئے گی۔“
میں نے کہا۔ ”اصل فوج نہیں ۔ ہم نے تو فوج کا لفظ محاورتاً استعمال کیا ہے۔ ہم توعوام کے جم غفیر کی بات کررہے ہیں ۔“
” یہ جم غفیر کیا ہوتا ہے؟“ چچا فلسفی بوکھلا گئے۔
”ہزاروں کا مجمع۔“ میں نے بتایا۔
”مگر اتنے لوگوں کے کھانے پینے اور دھرنے کے لیے تو میرے پاس وسائل نہیں ۔ ہاں مسائل زیادہ ہیں ۔“
میں نے کہا۔ ” اس لیے تو ہم مطالبہ کر رہے ہیں کہ آپ شعر کو صحیح کر لیں اور آئندہ اس قسم کی ترمیم کرنے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچ لیں ۔“
چچا فلسفی نے کہا۔ ” ٹھیک ہے۔ میں شعر صحیح کرکے پڑھتا ہوں ۔ نقاد پوری صاحب بڑی دیر کی مہربان آتے آتے۔“
میں نے کہا۔ ” وہ تو ٹھیک ہے مگر اب تو آپ اپنا منصوبہ بتا دیں ۔“
چچا فلسفی کہنے لگے۔ ” کون سا منصوبہ؟“
میں بولا۔ ” مجھے پتہ تھا کہ آپ بھول جائیں گے۔“
”تو تم ہی مجھے یاد دلا دو۔“
”تو آپ نے مجھے بتایا ہی کب تھا۔“
”تو تم نے پوچھا ہی کب تھا؟“
”میں نے تو سو بار پوچھا تھا۔“
”اوہو، سو بار تو میں نے محاورتاً بولا ہے۔“
” پھر محاورتاً…… محاورے کے جھگڑے میں بھلا دیا کہ منصوبہ کیا تھا۔“ اسی اثناء میں دلشاد خانپوری بھی آگئے۔
” لیجئے آپ ہی کی کمی تھی۔“ نقاد پوری نے کہا۔
دلشاد خانپوری خوش ہو کر بولے۔ ”تو گویا آپ لوگ میری کمی بہت شدت سے محسوس کررہے تھے۔“
میں بولا۔ ” نہیں نہیں ۔ ہم قطعی طور پر آپ کی کمی محسوس نہیں کررہے تھے۔ وہ بھی شدت سے۔“
دلشاد خانپوری افسردہ ہو کر بولے۔ ”تھوڑی دیر خوش رہ لینے دیتے تو کیا چلا جاتا۔“
چچا فلسفی بولے۔ ” اب مزید کوئی جھگڑا کھڑا کرکے میرے لیے پھر کوئی نئی مشکل نہ کھڑی کر دینا۔ پتہ چلا میری رہی سہی یادداشت بھی چلی گئی۔ تو پھر میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہوں گا۔“
پروفیسر نقاد پوری نے کہا۔ ” اب آپ مگر مچھ کے آنسو مت بہائیے گا۔“
چچا فلسفی بولے۔ ” آپ نے مجھے مگر مچھ کہا۔“
پروفیسر نقاد پوری نے کہا۔ ” یہ تو میں نے محاورتاً کہا ہے۔“
چچا فلسفی غصے سے بولے۔ ” کیا مجھے معلوم نہیں کہ محاورہ ہوتا کیا ہے۔ آخر کو میں ایک علمی و ادبی شخصیت ہوں ۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ صرف آپ ہی محاوروں کی زبان بول سکتے ہیں ۔“
” آپ غلط مت سمجھئے۔ آپ سب کچھ کر سکتے ہیں ۔“ دلشاد خانپوری نے انہیں جھوٹی تسلی سے بہلانا چاہا۔
پروفیسر نقاد پوری نے کہا۔ ” آپ مدعے پر آئیں کہ آپ نے ہمیں یہاں بلایا کیوں تھا؟“
چچا فلسفی نے کہا۔ ” کون سا مدعا …… کیا یہاں کوئی مقدمہ چل رہا ہے۔“
پروفیسر نقاد پوری بولنے لگے۔ ”مدعے کا لفظ تو میں نے ……“
میں نے فوراً ان کے منہ پر ہاتھ رکھ کر جملہ پورا کرنے سے باز رکھا اور بولا۔ 
”چچا فلسفی …… آپ کوئی نیا اور اچھوتا خیال پیش کرنے والے تھے۔“
چچا فلسفی بولے۔ ” بھئی اب سب خاموش ہو جاؤ اور مجھے سوچنے دو کہ وہ آئیڈیا کیا تھا؟“
دلشاد خانپوری نے کہا۔ ”ہاں بھئی …… اب کوئی کچھ نہ بولے۔“
میں نے کہا۔ ” مکمل خاموشی طاری ہوگی تو چچا فلسفی کو یاد آجائے گا کہ ان کا منصوبہ کیا تھا۔“
پروفیسر نقاد پوری نے کہا۔ ”ایسی خاموش کہ سوئی بھی گرے تو آواز آئے ۔“
چچا فلسفی بولے۔ ”مگر سوئی گرائے گا کون؟“
پروفیسر نقاد پوری نے کہا۔ ”اوہو محترم! اب میں پھر کچھ بولوں گا تو آپ لڑنے لگیں گے۔ سوئی گرنے والی بات تو میں نے محاورتاً کہی ہے۔“
چچا فلسفی کھلے لفظوں اپنی تذلیل برداشت نہ کر پائے۔ وہ دل پر ہاتھ رکھ کر بولے۔ 
” اب کوئی محاورہ نہ بولنا ورنہ براہ راست میں یہ صدمہ برداشت نہ کر پاؤں گا۔“ ہم سب نے ایک دوسرے کو اشاروں اشاروں میں منہ پر انگلی رکھ کر خاموش بیٹھنے کو کہا۔
چچا فلسفی کافی دیر تک دم سادھے بیٹھے رہے۔ ہم سب بھی احتراماً (بلکہ احتجاجاً) خاموش رہے۔ شاید بھولے سے چچا فلسفی کو اپنا منصوبہ یاد آجائے۔
مگر پروفیسر نقاد پوری سے رہا نہ گیا اور بول پڑے۔ ” کب تک خاموش بیٹھے رہیں گے۔ اب تو دیواریں کاٹنے کو دوڑ رہی ہیں ۔“
چچا فلسفی بولے ۔” مگر دیواریں تو اپنی جگہ پر ہی ہیں ۔“
پروفیسر نقاد پوری نے کہا۔ ”مگر جناب دیواریں کاٹنے کا محاورہ تو میں نے محاورتاً استعمال کیا ہے۔“
چچا فلسفی نے قریب پڑا ہوا ایک تکیہ اٹھایا اور کھینچ کر پروفیسر نقاد پوری کے سر پر مارا۔ اگر تکیہ کی جگہ کوئی پتھر ہوتا تو شاید پروفیسر نقاد پوری آج صرف ہماری یادوں میں زندہ ہوتے۔
” کیا ہوا جناب؟“
” کیا ہوا! اگر تھوڑی دیر خاموش رہتے تو شاید مجھے اپنا منصوبہ یاد آجاتا۔ “
چچا فلسفی کو غصے میں دیکھ کر پروفیسر نقاد پوری فرار ہو گئے۔ چچا فلسفی غصے میں بولے۔ ”اگر اب کہیں یہ ملے تو میں اسے جان سے مار دوں گا۔“
دلشاد خان پوری بولے۔ ”کیا واقعی آپ اسے جان سے مار دیں گے۔“
میں نے کہا۔ ” نہیں نہیں …… یہ تو محاورتاً کہہ رہے ہیں ۔“
اب میری باری تھی۔ چچا فلسفی نے ڈھول سمجھ کر میری کمر پر زور زور سے ہاتھ مارنا شروع کر دیا اور میں بڑی مشکل سے اپنی جان بچا کر بھاگا۔
اس دن کے بعد چچا فلسفی نے کئی مرتبہ فون کرکے مجھے بلانا چاہا مگر کسی انجانے خطرے کے پیش نظر میں نے ان کے سامنے جانے سے معذوری ظاہر کر دی۔ البتہ پروفیسر نقاد پوری اب محاوروں کو استعمال کرتے ہوئے احتیاط برتنے لگے ہیں ۔
٭……٭……٭
Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top