skip to Main Content

جوڑوں کے درد کا علاج

قاسم بن نظر
۔۔۔۔۔
چچا فلسفی اس روز جوڑوں کے درد میں بری طرح مبتلا ہو چکے تھے بلکہ یوں سمجھئے کہ پوری طرح سے وہ جوڑوں کے درد کا شکار تھے۔ سونے پر سہاگہ وہ اوپر سے مسلسل ہائے ہائے کا راگ انتہائی بے سرے بلکہ بھونڈے انداز میں الاپ رہے تھے۔ دو گھنٹے سے یہ راگ رنگ کا پروگرام سنتے سنتے میرے کان پک چکے تھے کہ اسی اثناء میں دلشاد خان پوری (جنہیں چچا فلسفی اپنا بہترین دوست گردانتے تھے) مزاج پرسی کے لیے آن کھڑے ہوئے۔ ان کا ساتھ دینے کیلئے ماموں خوش باش آنا نہیں بھولے تھے۔
”ارے فلسفی! تمہارے جوڑوں میں درد کی خبر تو پورے شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی ہے۔“ دلشاد خانپوری نے سنسنی خیز انداز میں کہا۔
ماموں خوش باش بولے۔ ”جنگل میں آگ لگ چکی ہے۔ یہ تو تم نے بتایا ہی نہیں ۔“
چچا فلسفی نے کمر پکڑ کر کہا۔ ” ارے کبھی تو محاوروں کے علاوہ سلیس اردو میں بھی بات کر لیا کرو۔“
دلشاد خانپوری مجھے صحیح طرح سے ڈانٹتے ہوئے بولے۔ ” اور تم یہاں بیٹھے بیٹھے کیا مکھیاں ماررہے ہو۔ تم ایک آدمی کو تکلیف میں کس طرح دیکھ سکتے ہو۔ اگر جوڑوں کا درد تمہیں ہو گیا تب پتہ چلے گا۔“
میں نے کہا۔ ” لیکن جوڑوں کا درد ایسی بیماری نہیں جو ایک سے دوسرے کو لگے۔“ دلشاد خانپوری سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ پھر کہنے لگے۔ 
” بھئی فارغ بیٹھنے سے بہتر تھا کہ تم کسی ڈاکٹر کو بلا لاتے۔“
چچا فلسفی کہنے لگے۔ ” نہ بابا نہ……“
یہ سنتے ہی دلشاد خانپوری بھڑک اٹھے جیسے کسی نے انہیں پھلجھڑی دکھا دی ہو۔ 
” ارے ہم تمہیں بابا نظر آتے ہیں …… یعنی بھئی حد ہو گئی…… ہم بابا ہیں کیا؟“
ماموں خوش باش نے کہا۔ ”دلشاد صاحب! ایک بیمار آدمی کے سامنے اتنا غصہ ٹھیک نہیں ۔ آپ گھر جا کر غصہ اپنے بیوی بچوں پر اتار لیجئے گا۔“
چچا فلسفی بولے ۔” بھئی! ڈاکٹر نے ایک مرتبہ گھر کا راستہ دیکھ لیا تو یہیں ڈیرہ جما لے گا۔“
دلشاد خانپوری نے کہا۔ ”دھت تیرے کی۔ اتنی سی بات سے تم ڈر گئے کہ ڈاکٹر گھر کا راستہ نہ دیکھ لے۔ تو بھئی ایسا کرتے ہیں کہ اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اسے یہاں لے آتے ہیں ۔ جیسے کہ اغوا کرتے ہیں ۔“
ماموں خوش باش حیرت سے بولے۔ ”دلشاد خانپوری ! سچ سچ بتاؤ تم نے کتنے لوگوں کو اغوا کیا؟“
دلشاد خانپوری ان کے منہ پر ہاتھ رکھ کر بولے ۔”اوہو! تم تو اپنا منہ بند رکھو۔“
میں نے کہا۔ ”بھئی! ڈاکٹر کی دواؤں کا سلسلہ تو قسط وار ڈرامے کی طرح کئی ہفتے تک چلتا رہے گا اور ڈاکٹر فیس پر فیس بٹورتا رہے گا۔“
ماموں خوش باش بولے۔ ” تو فلسفی میاں ! آپ کیا چاہتے ہیں ؟ قسط وار ڈرامہ پہلے ختم ہو…… یا جوڑوں کا درد۔“
چچا فلسفی بولے۔ ” ظاہر ہے…… جوڑوں کا درد۔“
چچا فلسفی کے چہرے سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ جلد از جلد جوڑوں کے درد (اور تیمارداروں ) سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔
دلشاد خانپوری بولے۔ ” میں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جو جوڑوں کا درد ختم کرنے میں ماہر ہے۔“
ماموں خوش باش بولے۔ ”تو پھر دیر کس بات کی؟“
دلشاد خانپوری نے کہا۔ ”دیر تو کرنی پڑے گی…… کیونکہ دیر آید درست آید۔“
چچا فلسفی کراہ کر بولے۔ ” پھر محاورہ……“
دلشاد خانپوری باہر جاتے ہوئے مجھے نصیحت کر گئے۔ ” میرے واپس آنے تک دیکھتے رہنا۔“
” کیا؟ …… ٹی وی؟“
”اوہو…… چچا فلسفی کو…… وہ اور ان کے جوڑوں کا درد بھاگنے نہ پائیں ۔“
یہ کہہ کر دلشاد خانپوری اور ماموں خوش باش باہر چلے گئے۔
آدھے گھنٹے بعد وہ دونوں واپس آئے تو ان کے ساتھ ایک عجیب سے حلئے گا آدمی تھا۔ بال تیل میں لت پت تھے۔ کپڑے میلے کچیلے اور پاؤں میں ٹوٹی چپلیں اور ہاتھ میں چند بوتلیں ۔
چچا فلسفی بولے۔” یہ کون ہے؟“
دلشاد خانپوری نے بتایا ۔ ” یہ پہلوان ہے۔“
چچا فلسفی نے کہا۔ ” مگر میں جوڑوں کے درد کے ساتھ اس سے کشتی کس طرح لڑ سکتا ہوں ؟“
دلشاد خانپوری نے کہا۔ ” بھئی اس کا نام پہلوان ہے لیکن اصل میں یہ مالشیا ہے۔“
چچا فلسفی غور سے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے بولے۔ ” لیکن میرا فلسفہ تو کہتا ہے کہ ملائیشیا بہت خوبصورت ملک ہے۔“
دلشاد خانپوری افسوس کرتے ہوئے کہنے لگے۔”لگتا ہے جوڑوں کا درد آپ کے دماغ تک پہنچ گیا ہے۔ ارے بھئی یہ مالش کرنے والا ہے۔ یہ مالش کرکے آپ کے جوڑوں کا درد ختم کر دے گا۔“
دلشاد خانپوری نے اس سے پوچھا۔ ”ارے بھئی پہلوان! تمہارے پاس کون سی ڈگری ہے؟“
پہلوان بولا۔ ” میرے پاس تجربہ ہے تجربہ…… اور تجربہ ڈگری سے بڑا ہوتا ہے۔“
”وہ کیسے بھلا؟“ ماموں خوش باش نے کہا۔ 
پہلوان نے کہا۔ ” بھئی ڈگری چار سال پڑھ کر مل جاتی ہے اور میرے پاس دس سال کا تجربہ ہے مالش کرنے کا…… اب بتاؤ ڈگری بڑی ہوئی یا تجربہ؟“
ماموں خوش باش نے کہا۔” واہ کیا بات کی ہے عالم فاضل والی۔ اگر تمہارے ہاتھوں میں تیل کی بساند نہ ہوتی تو میں تمہارے ہاتھ چوم لیتا۔“
چچا فلسفی نے کہا۔ ” بھئی جو کرنا ہے جلدی کرو۔ جوڑوں کا درد اب پھٹ پڑنے کو ہے۔“
پہلوان نے کہا۔ ” پہلے میں کندھوں کی بھرپور مالش کروں گا۔“
پہلوان نے چچا فلسفی کا گریبان کھولا۔ پھر ایک بوتل اٹھائی ۔ جس میں کالے رنگ کا تیل تھا۔ چچا فلسفی گھبرا کر بولے۔ ” کیا یہ ڈیزل ہے؟“
پہلوان ہنس کر بولا۔ ”ارے نہیں …… ڈیزل تو بہت مہنگا ہے۔“
پہلوان نے تیل ہاتھوں میں مل کر چچا فلسفی کے کندھوں کو دبانا شروع کیا۔ کچھ دیر تک تو چچا فلسفی برداشت کرتے رہے۔ پھر کہنے لگے۔ 
” ارے بھئی ! اتنا وزن میرے کندھوں پر مت ڈالو۔ تمہارے وزن سے میری ہڈی یا چارپائی ٹوٹ جائے گی۔“
پہلوان جو چچا فلسفی پر بند ر کی طرح لدا ہوا تھا بولا۔ ”ہڈی اور چارپائی ٹوٹنے کی فکر نہ کرو ۔ بس جوڑوں کا درد چلا جائے۔ پھر میرا کام ختم۔“
چچا فلسفی درد سے کراہتے ہوئے بولے۔ ” مجھے تو لگتا ہے تم میرا ہی کام ختم کر دو گے۔ “ کندھوں کی مالش کرتے ہوئے پہلوان بولا۔ ” آپ گانا تو نہیں گاتے بھائی جان۔“
چچا فلسفی نے کہا۔ ” نہیں …… گانا تو نہیں گاتا…… البتہ فلسفے سناتا ہوں کیوں کیا ہوا؟“
” نہیں میرا ہاتھ آپ کے گلے تک بھی جا سکتا ہے۔ اب آپ کا گلا میرے ہاتھ کے مقابلے میں کتنا مضبوط ہے یہ تو مجھے نہیں معلوم ناں ۔“ 
پہلوان کے ارادے کیا تھے؟ یہ جاننے کے بعد دلشاد خانپوری بولے۔ 
”فلسفی میاں ! کوئی وصیت ! کوئی انشورنس وغیرہ کی ہے تو بتا دو۔“
چچا فلسفی بولے ۔” ارے بس بھی کرو۔“
پہلوان کا ہاتھ رک گیا۔ ” کیا ہوا جوڑوں کا درد ختم۔“
چچا فلسفی غصے سے بولے۔ ” میں تم سے نہیں …… دلشاد خانپوری سے کہہ رہا ہوں ۔ تم ایسا کرو اب سر کی مالش کرو۔“
پہلوان بولا۔ ” یہ بات کی ناں …… میں تو اسی موقع کی تاک میں تھا۔“
ہم سب غور سے دیکھنے لگے کہ اب پہلوان کیا کرتا ہے۔ اس نے دوسری بوتل اٹھائی اور سارا تیل چچا فلسفی کے سر میں انڈیل دیا یہاں تک کہ تیل سر کے چاروں طرف سے بہتا ہوا ان کی قمیض کے اندر تک چلا گیا۔ 
ماموں خوش باش نے کہا۔ ”ارے کیا انہیں تیل میں نہلا رہے ہو۔ “ تم سر پر چٹکی بھر تیل ہی ڈال لیتے۔“
پہلوان نے کہا۔ ” بھئی میں ناجائز کام نہیں کرتا صاف بات ہے۔ میرا تو مشن ہے پورے پیسے اور تیل کی پوری مقدار اور بہترین معیار۔“
یہ کہہ کر پہلوان نے چچا فلسفی کا سر کھجانا شروع کر دیا۔ پھر وہ زور زور سے ان کے بالوں کو رگڑنے لگا۔ پھر وہ بالوں کو اپنی مٹھیوں میں لے کر کھینچنے لگا۔ پھر وہ چچا فلسفی کے سر کو ڈھول سمجھ کر ہاتھ مارنے لگا۔ 
”ارے یہ کیا کررہے ہو؟“ چچا فلسفی چلا اٹھے۔ 
پہلوان نے کہا۔ ” میں چاہتا ہوں کہ جوڑوں کے درد کے ساتھ ساتھ جوڑوں کو بھی جڑ سے اکھاڑ دوں ۔“
”مجھے تو لگتا ہے تم میرے بچے کھچے بالوں کو بھی جڑ سے اکھاڑ دو گے اور مجھے کلی طور پر گنجا کر دو گے۔“ چچا فلسفی اپنے گنجے مستقبل سے خوفزدہ ہو گئے۔ 
پہلوان بولا۔ ”ارے فکر نہ کرو۔ سر کی صفائی کرتے ہوئے جوڑوں کو میں یوں نکال پھینکوں گا جیسے گٹر کی صفائی کرتے ہوئے اس میں سے کوڑا کرکٹ نکالتے ہیں ۔“
یہ سنتے ہی چچا فلسفی چارپائی سے نکل بھاگے اور چلا کر بولے۔ ”یعنی تم جمعدار بھی ہو۔“
پہلوان بولا۔ ” یہ تو میں نے مثال دی تھی۔ کہاں بھاگے جا رہے ہو؟“
چچا فلسفی بولے۔ ” میں اب تمہارے دھوکے میں نہیں آنے والا۔“
پہلوان بولا۔ ”پکڑو اسے۔“
چچا فلسفی ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ ماموں خوش باش اور دلشاد خانپوری ان کے پیچھے پیچھے بھاگنے لگے۔ پکڑم پکڑائی کا یہ کھیل کچھ دیر تک جاری رہا اور ماموں خوش باش اور دلشاد خانپوری نے بالآخر ان کو پکڑ لیا۔
پہلوان بولا۔ ”اب ان کے پاؤں کی مالش کرنا باقی رہ گیا ہے۔“
چچا فلسفی کے پاس کوئی چارہ نہ تھا۔ وہ دوبارہ چارپائی پر لیٹ گئے۔ پہلوان اب ایک اور تیل کی بوتل کھولتے ہوئے بولا۔ ” اب تیل دیکھو…… تیل کی دھار دیکھو۔“
چچا فلسفی غصے میں بھنا کر بولے۔ ” کم بخت تیل میں پورا نہلا دیا پھر بھی کہہ رہا ہے کہ …… “ دلشاد خانپوری نے سختی سے ان کا منہ بند کر دیا۔
پہلوان نے چچا فلسفی کے پیروں کی مالش شروع کر دی۔ وہ کبھی کبھار ان کے پیر پکڑ کر اپنی جانب کھینچتا تو یوں محسوس ہوتا کہ اب ان کی ٹانگیں ان کے دھڑ سے الگ ہوجائیں گی۔ چچا فلسفی تو اب کچھ بولنے کے قابل بھی نہیں رہے تھے۔ 
پہلوان جب ان کے پیر پکڑ کر زور سے اپنی طرف کھینچتا تو فلسفی ایک انچ پائنتی کی طرح سرک جاتے۔ ساتھ ہی ساتھ پہلوان چچا فلسفی کا حوصلہ بھی بڑھاتا۔
” بس دو منٹ اور…… جوڑوں کا درد اب نکلنے کو ہے۔“
لیکن جب ٹانگیں کھینچنے کا تجربہ کرتے کرتے ایک بار جو پہلوان نے پورا زور لگایا تو چچا فلسفی پلنگ کی حدود سے باہر نکل آئے اور سر اور کمر اور ٹانگوں سمیت زمین پر زور سے گر پڑے۔ ” ہائے میں مر گیا۔“ پتہ نہیں یہ چچا فلسفی نے خوشی کے عالم میں کہا تھا یا درد سے بے قابو ہو کر ۔ یہ میں ان سے پوچھ نہ سکا کیونکہ وہ بے ہوش ہو چکے تھے۔
پہلوان خوشی سے بولا۔ ” یہ دیکھو…… ختم ہو گیا جوڑوں کا درد۔“
”وہ کیسے؟ “ میں نے پوچھا تو وہ بولا۔ ” اب دیکھو! یہ صاحب پہلے کتنے بلبلا رہے تھے۔ آئے ہائے کر رہے تھے۔ لیکن اب ان کا چہرہ کتنا پرسکون ہے۔“
” واہ! یہ تو تم نے کمال کر دیا۔ “ یہ ماموں خوش باش تھے۔ 
چچا فلسفی کا اب ہمیں واقعی ”لگ کے“ علاج کرانا تھا۔ لیکن اس سے پہلے دلشاد خانپوری نے پہلوان کو مالش کرنے کی پوری فیس دے کر بھگایا ورنہ وہ ہم سب کی بھی ایسی مالش کرتا کہ ہم بھی چچا فلسفی کے ساتھ ہسپتال کے ہڈی جوڑ وارڈ میں پڑے ہوئے ہوتے۔
٭……٭……٭
Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top