skip to Main Content

حمدِ باری تعالیٰ

کلیم چغتائی
۔۔۔۔۔
مِرا رب ہے کتنا رحیم و کریم
ہے ذات اُس کی کتنی شفیق و حلیم
ہے مخلوق سے رب کو اُلفت بہت
ہے سب کے لیے اُس کی رحمت بہت
وہ ایمان والوں کا ہے قدر داں
بہت اہلِ تقویٰ پہ ہے مہرباں
دلوں میں جو ہے ، سب ہے اُس کو خبر
وہ سب جانتا ہے، جو ہو خیر و شَر
بنائی ہے اُس نے حسیں کائنات
بدل جاتے ہیں جس میں دن اور رات
اُسی نے دو آنکھیں مجھے بخش دِیں
کہ جِن کے بِنا، گویا دنیا نہیں
مجھے ہاتھ پاؤں عطا کر دیے
جو ہر وقت رہتے ہیں تابع مرے
زباں مجھ کو دی بولنے کے لیے
اِسی سے مجھے ذائقے بھی دیے
عطا نیند کی، تَن کو بخشا سُکوں
کہ میں تازہ دَم ہوکے آگے بڑھوں
مجھے آبِ شیریں اُسی نے دیا
بجھائی مِری پیاس اُس نے سدا
دیے مجھ کو خوش ذائقہ پھل کئی
توانائی جِن سے مجھے مل گئی
میں ہوں جب پریشاں، پڑھوں میں نماز
کروں دل میں محسوس اپنے، گُداز
ہمیشہ میں خفگی سے اُس کی، ڈروں
غلط کام ہوتے ہی توبہ کروں
مجھے رب دے رحمت سے اپنی نواز
مصیبت رہے، پاس آنے سے باز
کروں یاد رب کو تو پاؤں سُکوں
کہ جیسے میں رب کے بہت پاس ہوں
مِرے رب مجھے سیدھا رستہ دِکھا
چلوں جس پہ، مِل جائے تیری رضا
Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top