skip to Main Content

بُلبل اُداس ہے

جاوید بسام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا آپ بلبل کی اُداسی دور کر سکتے ہیں، کیوں کہ درختوں کو بچانے کا سوال ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سورج غروب ہوئے کچھ ہی دیر ہوئی تھی۔ اُفق پر نارنجی روشنی ابھی باقی تھی۔ آبادی سے دور خشک ہوتے تالاب میں مینڈک ٹرٹرا رہے تھے۔ جھینگر بھی وقفے وقفے سے اپنا راگ اَلاپتے اور چپ کر جاتے جیسے رات کے لیے اپنے آلات چیک کررہے ہوں۔ قریب ہی ایک سوکھے درخت کی شاخ پر ایک بلبل اُداس بیٹھا تھا۔ وہ نہ تو ہل جل رہا تھا نہ کچھ بول رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے چہچہانا بھول گیا ہو۔ اس کی آنکھوں میں اُداسی تیررہی تھی۔
تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ دور ایک جُگنو اُڑتا نظر آیا۔ بلبل پر نظر پڑتے ہی وہ سیدھا اس کے پاس چلا آیا اور پرجوش لہجے میں بولا: ”پیارے بلبل! مجھے معلوم ہے تم کیوں اداس بیٹھے ہو۔ تمھیں اپنے گھر جانا ہے لیکن اندھیرا ہو گیا ہے، آؤ میں تمھیں چھوڑ دیتا ہوں۔ ایک عرصے بعد آج مجھے نیکی کمانے کا پھر موقع مل رہا ہے۔ میں تمھاری مدد کے لیے حاضر ہوں۔“
بلبل کی اداسی اور بڑھ گئی اس نے اپنی غمگین نظریں اٹھا کر جگنو کو دیکھا اور بولا: ”تمھارا شکریہ بھائی جگنو اب مجھے تمھاری مدد کی ضرورت نہیں ہے۔“
”کیوں، کیا تمھیں اپنے گھر نہیں جانا؟“ جگنو تیزی سے بولا۔
”نہیں مجھے کہیں نہیں جانا، اس لیے کہ میرا گھر برباد ہو چکا ہے۔“
”تمھارے گھر کو کیا ہوا؟“ جگنو نے حیرت سے پوچھا۔
”جس درخت پر میرا گھونسلا تھا اسے کاٹ دیا گیا ہے بلکہ آس پاس کے سب درخت کٹ گئے ہیں۔“ بلبل بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔
”ہاں، یہاں تو بہت درخت تھے لیکن اب ایک بھی نظر نہیں آرہا، آخر درخت کیوں کاٹے گئے ہیں۔“ جگنو نے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے پوچھا۔
”تمھیں وہ شاہراہ نظر آرہی ہے؟ اس کو چوڑا کرنے کے لیے۔“ بلبل نے کچھ دور سے گزرتی سڑک کی طرف اشارہ کیا۔
”اوہ! اب میری سمجھ میں آیا لیکن دوسری طرف اتنی زمین بھی کوئی دینے پر تیار نہیں تھا لہٰذا حکومت نے ان تمام پرانے پیڑوں کو کاٹ ڈالا جو گزرنے والوں کو سایہ فراہم کرتے تھے اور ہزاروں پرندوں کے بسیرے کی جگہ تھے۔“ بلبل نے کہا۔
جگنو نے افسوس سے گردن ہلائی اور بولا: ”انسان زمین کا دشمن بن گیا ہے۔ وہ دن بدن اس کو برباد کررہا ہے۔ جنگل کاٹے جارہے ہیں جس سے موسم بدل رہے ہیں اور جگہ جگہ تباہی آرہی ہے۔ انسان کے ساتھ ساتھ اس سے جنگلی حیات کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے لیکن اسے اس کا احساس نہیں۔“
بلبل نے آہ بھری اور بولا: ”میرے سب ساتھی یہ علاقہ چھوڑ کر چلے گئے ہیں کل میں بھی یہاں سے چلا جاؤں گا۔“دونوں خاموش ہو گئے اور اُفق پر اس بدلی کو تکنے لگے جس میں ابھی روشنی کی کچھ کرنیں باقی تھیں۔ پھر جگنو دھیرے سے بولا: ”حالات بہت خراب ہیں لیکن ہمیں نااُمید نہیں ہونا چاہیے۔ انسانوں میں ابھی ایسے لوگ موجود ہیں جنھیں اس تباہی کا احساس ہے اور وہ اسے روکنے کی کوشش کررہے ہیں، خاص طور پر بچے، انہیں تو درخت اور پودے بہت اچھے لگتے ہیں۔“
بلبل نے گردن ہلائی اور بولا: ”ہاں تم ٹھیک کہتے ہو۔ ہماری بقا انسانوں کی نئی نسل کے ہاتھوں میں ہے۔“ دونوں خاموش ہوگئے۔
جب اندھیرا بڑھ گیا تو جگنو روشنی پھیلاتا ایک طرف اُڑ گیا اور بلبل نے اپنی چونچ پروں میں چھپا کر آنکھیں موند لیں۔

٭….٭

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top