یوسف کی سائیکل
کلیم چغتائی
۔۔۔۔۔
یوسف نے جو پائی سائیکل
چم چم چمکے جھلمل جھلمل
گھنٹی بھی کیا خوب لگی ہے
ٹن ٹن چھن چھن چھن بجتی ہے
خانہ بھی ہے سیٹ کے نیچے
چند کھلونے اس میں رکھے
لال اور نیلی پٹی والی
کچھ کچھ پیلی، کچھ کچھ کالی
پیلی نیلی اور گلابی
رنگ برنگی اس کی بتی
لال نشاں کو چُھو لیں، فوراً
ہو جائے ہر بتی روشن
ہارن بھی کیا خوب لگا ہے
ایک اشارے پر بجتا ہے
انڈی کیٹر، دائیں بائیں
مڑنے پر روشن ہو جائیں
پہیے حرکت میں آتے ہیں
سائیکل کو یہ دوڑاتے ہیں
منی بھی بیٹھی سائیکل پر
خوب لگائے گھر میں چکر
یوسف جب سائیکل پر بیٹھے
بسم اللہ وہ فوراً پڑھ لے
یوسف سائیکل روز چلائے
“شکر ہے رب کا” کہتا جائے
Facebook Comments

