skip to Main Content

”نونہال“ اور امتحان!

کلیم چغتائی
…..
خوشیاں لیے وہ آیا جب” نونہال “ میرا
مارے خوشی کے ، دیکھیں، تھا کیسا حال میرا
افسوس ، اس سے پہلے ، پہلا ورق الٹتا
آپی نے جھٹ جھپٹ کر مجھ سے رسالہ چھینا
پڑھتی رہیں لیے وہ، دو گھنٹے تک رسالہ
فارغ ہوئیں تو لے گئیں وہ ”نونہال “، خالہ
حیران رہ گیا میں، منہ دیکھتا سبھوں کا
لیکن کسی نے مجھ پر ہرگز ترس نہ کھایا
چھ دن کے بعد واپس جب” نونہال“ آیا
تو یاد مجھ کو امی نے امتحاں دلایا
بولیں کہ امتحاں گر ،دے لوگے دل لگا کے
پھر لطف اُٹھا سکو گے تم” نونہال“ پا کے
چھینا رسالہ مجھ سے ، ہاتھوں میں دیں کتابیں
چُپ چاپ ہوں لیے میں ،حسرت بھری نگاہیں!
Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top