جانباز مرے
کلیم چغتائی
۔۔۔۔۔
ہر خطرے سے بے خوف یہ جانباز مرے ہیں
سینوں میں یہ ارمان شہادت کے، لیے ہیں
ساتھ ان کے ہے صبر اور تحمل کا خزانہ
دکھ درد جو اس راہ میں آئے ہیں، سہے ہیں
برّی ہو ، وہ بحری ہو یا ہو جنگ فضائی
ہو کوئی محاذ، اس پہ وہ جرأت سے لڑے ہیں
تعداد و وسائل میں کمی کا انہیں کیا غم
بے شک ہوں وہ تعداد میں کم، پھر بھی ڈَٹے ہیں
طاقت پہ بڑا ناز ہے دشمن کو، مگر یہ
دشمن سے کسی وقت ڈرے تھے، نہ ڈرے ہیں
ہے ان کو یقیں، ارض و سما رب کے لیے ہیں
تکبیر کے نعرے یہ لگا کر ہی بڑھے ہیں
موقع ہو تو یہ مورچوں میں جا کے چُھپے ہیں
اور سینہ سپر وقتِ ضرورت یہ ہوئے ہیں
حکمت کے تحت راہ میں کچھ دیر رُکے ہیں
اور حکم کے ملتے ہی یہ طوفان بنے ہیں
یہ برقِ تپاں بن کے جو دشمن پہ گرے ہیں
دہشت کے سبب ان کی، عدو کانپ اٹھے ہیں
اس راہ میں لڑتے ہوئے جو زخم ہیں آئے
وہ زخم سبھی ان کے لیے پھول بنے ہیں
ان کو ہے بھروسا فقط اللہ پہ ، جب ہی
اللہ کی نصرت سے ظفر مند رہے ہیں
یا پا کے شہادت ہوئے جنت کے یہ حق دار
یا بن کے یہ غازی، بڑی شوکت سے جیے ہیں
Facebook Comments

