skip to Main Content

انسانی ریڈار

کلیم چغتائی

۔۔۔۔۔

وہ کسی مشین کی آواز تھی۔
ڈاکٹر خورشید نے گھڑی پر نظر ڈالی۔ رات کے دس بج رہے تھے۔ بہت سے لوگ اس وقت سونے کی تیاری شروع کر دیتے ہیں اور کئی افراد سو بھی جاتے ہیں۔ طالب علم پڑھائی کر رہے ہوتے ہیں۔ اتنی تیز آواز یقینا ہر ایک کو بُری لگے گی۔ آواز پڑوس کے مکان سے آ رہی تھی۔ ذراسی دیر کے لیے آواز رک جاتی، پھر آواز آنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا۔ نوید کمرے میں داخل ہوا۔ اُس نے بھی بُرا سامنہ بنا رکھا تھا۔ کہنے لگا:
”پڑوس میں کوئی صاحب ڈرل مشین کی مدد سے کوئی کام کر رہے ہیں۔“
”اس وقت؟ یہ تو بہت سے لوگوں کے آرام کا وقت ہے۔ میں انھیں جا کرسمجھاتا ہوں۔“ ڈاکٹر خورشید اُٹھے اور انھوں نے پڑوس والوں سے اتنے اچھے طریقے سے بات کی کہ اُنھوں نے معذرت کرتے ہوئے فوراً ڈرل مشین روک دی۔ ڈاکٹر خورشید واپس آئے تو نوید کہنے لگا:
”بھائی جان، کان اللہ کی بہت بڑی نعمت ہیں لیکن جب کوئی ناگوار اورتیز آواز آ رہی ہو تو اپنے کانوں پر غصہ آنے لگتا ہے۔“
”یہ تو تم نے بالکل غلط بات کہی۔ اگر کوئی دوسرا فردشور مچانے کا باعث بن رہا ہے تو اس میں ہمارے کانوں کا کیا قصور؟ کان تو اللہ کی بہت بڑی نعمت ہیں۔ اب یہ ہماری مرضی ہے کہ ان کانوں سے بھلی بات سنیں یا بری بات۔“
”واقعی بھائی جان، میں نے بڑی ناشکری کی بات کہی۔ اللہ مجھے معاف فرمائے۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اللہ نے اگر ہمیں سننے کی صلاحیت نہ دی ہوتی تو ہم کتنی بڑی نعمت سے محروم ہوتے۔ ہم کس طرح زندگی گزارتے۔“
”یہ تم ٹھیک کہ رہے ہو۔ ہمارا پورا جسم اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی نہایت حیرت انگیز مشین ہے۔ ہمارے کان بھی اللہ کی بے پناہ قدرت کی ایک جھلک دکھاتے ہیں۔ سائنس دانوں نے انسانی جسم کے ہر حصے کی بناوٹ اور اس کے کام کرنے کے طریقے کا تفصیل سے جائزہ لیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ انسانی جسم کتنی حیرت ناک مشین ہے۔ کان کو انسانی ریڈار بھی کہہ سکتے ہیں۔ انسان ایسی مشین کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی نہیں بنا سکتا۔ یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے۔“
”بھائی جان، مجھے کانوں کے متعلق کچھ باتیں بتائیے۔“نوید نے کہا۔
”اب تو ساڑھے دس بج رہے ہیں۔ تم سو جاؤ۔ کل صبح فجر کے لیے اٹھنا بھی ہے۔میں ان شاء اللہ کل عصر کی نماز کے بعد تمھیں کان کے متعلق کچھ باتیں بتاؤں گا۔ اُس وقت مجھے کچھ فرصت ہو گی۔“ ڈاکٹر خورشید نے جواب دیا۔ نویدانھیں سلام کر کے سونے کے لیے چلا گیا۔
اگلے دن عصر کی نماز کے بعد ڈاکٹر خورشید اپنے کمرے میں داخل ہوئے تو نوید وہاں پہلے سے موجود تھا۔ ڈاکٹر خورشید مسکرائے اور بولے:
”کان پکڑے بیٹھے ہو؟“
”کان تو نہیں بھائی جان، لیکن کان کا موضوع ضرور تھام کر بیٹھا ہوں!“ نوید نے مسکرا کر جواب دیا۔ ڈاکٹر خورشید بھی مسکر ا پڑے۔ پھر وہ کرسی پر بیٹھ گئے اور کہنا شروع کر دیا:
”ہمیں اللہ نے جو پانچ مشہور حسیں عطا کی ہیں، یعنی دیکھنے، سننے، سونگھنے، چکھنے اور چھونے کی حسیں، ان میں سننے کی حس بڑی اہم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں، انسان کو بخشی گئی تین نعمتوں، قلب، سمع اور بصر یعنی دل، کان اور آنکھ کا ذکر بار بار فرمایا ہے۔ یہ درست ہے کہ کان سے ہم سنتے اور آنکھ سے دیکھتے ہیں، لیکن اصل سُننا یہ ہے کہ ہدایت کی اور بھلائی کی بات سنی جائے اور اُس پر عمل کیا جائے۔ اسی طرح اصل دیکھنا، کسی شے کو دیکھ کر اللہ کو یاد کرنا ہے اور بُری چیز سے باز رہنا ہے۔“
”آپ نے بالکل درست فرمایا۔“نوید نے کہا۔
”تم کان جیسی نعمت پر غور کرو۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ انسان تقریباً پانچ لاکھ مختلف آوازوں کے درمیان فرق محسوس کر سکتا ہے۔ آواز کے ہمارے کانوں تک پہنچنے اور پھر دماغ تک پہنچنے کا عمل کوئی سادہ عمل نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری سماعت کا نظام بڑی مہارت سے بنایا ہے۔ میں تمھیں چندباتیں بتا تا ہوں۔“
”جی، فرمائیے۔“ نوید نے کہا۔
”ہم لوگ”کان“ تو انہی اعضاء کو کہتے ہیں جو ہمارے چہرے کی دونوں جانب نظر آتے ہیں۔ لیکن یہ صرف بیرونی کان ہیں۔ کان کے مزید دو حصے اندرونی جانب واقع ہوتے ہیں۔ بیرونی کان کا کام آواز یں جمع کر کے اندرونی کان میں بھیج دینا ہے۔ آواز ایک طرح کی توانائی ہے، جو ہوا میں ارتعاش پیدا کرتی ہے۔ یہ آواز لہروں کی شکل میں سفر کرتی ہے۔ بیرونی کان سے یہ اندرونی کان تک ایک چھوٹی سی نالی کے ذریعے سے پہنچ جاتی ہے۔ اس چھوٹی سی نالی میں نازک بال اور غدود ہوتے ہیں جو موم کی طرح کا مادہ پیدا کرتے ہیں۔ اس مادے کا کام یہ ہے کہ گرد وغبار اور جراثیم وغیرہ کو کان کے اندر نہ جانے دے، ورنہ ہماری سننے کی صلاحیت متاثر ہو گی۔ جب کبھی کان میں میل زیادہ ہو جائے تو اسے احتیاط سے صاف کروالینا چاہیے۔“
”آواز اندرونی کان تک پہنچ جاتی ہے تو پھر کیا ہوتا ہے؟“نوید نے پوچھا۔
”بیرونی کان کی نالی جہاں ختم ہوتی ہے، وہاں کان کا پردہ ہوتا ہے۔ اس کی دوسری طرف درمیانی کان ہوتا ہے۔ کان کے اس حصے میں تین نہایت نازک اور چھوٹی لیکن بہت اہم ہڈیاں پائی جاتی ہیں۔ یہ ہڈیاں بیرونی کان سے آنے والی آواز کو اندرونی کان تک منتقل کرتی ہیں۔ کان کا یہ حصہ ہڈی کے خول میں محفوظ ہوتا ہے۔ اس حصے میں بہت باریک نلکیاں ہوتی ہیں جن میں محسوس کرنے والے خاص خلیے ہوتے ہیں۔ یہاں بیس ہزار سے تیس ہزار بار یک اعصاب کے سرے ہوتے ہیں جو مختلف طاقت کی آوازوں کو جمع کر کے دماغ کو بھیج دیتے ہیں۔“
”بھائی جان یہ تو بڑا پیچیدہ نظام ہے۔“ نوید نے کہا۔
”میں نے تو تمھیں صرف چند باتیں بتائی ہیں۔ یہ واقعی بہت پیچیدہ نظام ہے اور یہ چند باتیں تمھیں بتانے میں تو دیر لگی ہے مگر یہ دیکھو کہ کوئی آواز ہمارے کانوں سے ٹکراتی ہے تو وہ اس پیچیدہ نظام سے فوراً گزر کر دماغ تک پہنچ جاتی ہے۔ دماغ فوراً اس آواز کا تجزیہ کرتا ہے۔ اس غرض سے وہ اپنے اندر موجود آوازوں کی یادداشت کو استعمال کرتا ہے۔“
”آوازوں کی یادداشت؟“ نوید نے حیرانی سے پوچھا۔
”ہاں، بچہ جب پیدا ہوتا ہے، اسی وقت سے وہ مختلف آوازیں سننے لگتا ہے اور وہ آہستہ آہستہ اس کے دماغ میں محفوظ ہونے لگتی ہیں۔ بڑے ہونے تک بے شمار آواز یں اس کی یادداشت میں محفوظ ہو چکی ہوتی ہیں۔ پھر ایک بات یہ بھی کہ دماغ صرف آوازوں کی یادداشت کی مدد سے تجزیہ نہیں کرتا بلکہ اپنے اندر موجود، مشاہدے، ذائقے، سونگھنے اور چھونے سے تعلق رکھنے والی یادداشتوں کی بھی جانچ پڑتال کرتا ہے، جو لاکھوں خلیوں میں محفوظ ہوتی ہیں۔ اس طرح دماغ ان سب یادداشتوں کو کام میں لا کر اس آواز کے بارے میں فیصلہ کرتا ہے، جو کان کے راستے اس تک پہنچی ہوتی ہے۔ یہ کام اتنی تیزی سے ہوتا ہے کہ جوں ہی آواز ہمارے کان میں آتی ہے، ہم اکثر اسی وقت سمجھ جاتے ہیں کہ یہ فلاں شے کی آواز ہے یا ہمارے سامنے جو جملہ کہا گیا ہے، اس کا یہ مطلب ہے۔“
”بھائی جان، کیا ہم ہر قسم کی آوازیں سُن سکتے ہیں؟“
”نہیں، اللہ نے ہماری صلاحیت محدود رکھی ہے۔ آواز کو ایک پیمانے سے ناپا جاتا ہے، اسے ”ڈیسی بل“ کہا جاتا ہے۔ جب کوئی سرگوشی کی جاتی ہے تو اس کی پیمائش دس ڈیسی بل کے قریب ہوتی ہے۔ ہم اسے سُن سکتے ہیں۔ جب بھاری گاڑیاں شور مچاتی گزریں تو اُن کی آواز اسّی ڈیسی بل کے برابر ہو سکتی ہے لیکن کوئی تیز آرامشین چل پڑے تو وہ سوڈیسی بل کے برابر شور مچاتی ہے۔ یہ شور اگر دو گھنٹے تک جاری رہے تو کان کے پردے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ جیٹ طیارے کی آواز ایک سو تیس ڈیسی بل کے برابر ہوتی ہے۔ اس سے سماعت جا سکتی ہے۔ اس طرح ہماری سماعت کی حدود صفر سے سوڈیسی بل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر ایک ساتھ کئی قسم کی آوازیں ہمیں سنائی دے رہی ہوں تو ہم اُن میں فرق کر سکتے ہیں۔“
”بھائی جان آپ نے بڑی کام کی باتیں بتائیں۔“
”ایک اور بات سنو! ہمارے کان کے ایک حصے کا اہم کام یہ ہے کہ وہ جسم کے توازن اور سمت کا تعین کرے۔ اگر یہ نہ ہو تو ہمیں احساس ہی نہ ہو کہ ہم سیدھے کھڑے ہیں یا لیٹے ہیں۔ اگر جسم غیر متوازن ہو تو یہی حصہ دماغ کو خبر کرتا ہے۔ اب آخر میں ایک سب سے اہم بات سن لو۔“
”جی فرمائیے۔“
”پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کان تو قیف کی طرح ہے یعنی باتیں اس کے راستے ہمارے اندر اس طرح جاتی ہیں جس طرح کسی بوتل پر قیف رکھ کر اس میں کوئی مائع انڈیلا جاتا ہے۔ مسند احمد میں بیان کی گئی اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”وہ شخص کامیاب ہوا جس کے دل کو اللہ نے ایمان کے لیے خالص کر دیا۔ اُس کے دل کو صحیح و سالم بنا دیا، اُس کی زبان کو سچائی، اس کے دل کو اطمینان عطا فرمایا۔ اُس کے کان کو سننے والا اور آنکھ کو دیکھنے والا بنا دیا اور کان تو قیف کی طرح ہے اور آنکھ ان چیزوں کو پہنچانے اور ٹھہرانے والی ہے جنھیں وہ دل کو سونپتی ہے اور بامراد ہو وہ شخص جس کے دل کو اللہ نے یادرکھنے والا بنا دیا۔“
میں نے تمھیں یہ حدیث اس لیے سنائی ہے کہ اللہ کی نظر میں ہمارا سننا، صرف ایسا عمل نہیں جیسے جانور سنتے ہیں۔ جانور بھی آواز سن لیتے ہیں لیکن ہمیں اللہ نے عقل اور شعور عطا کیا ہے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے کانوں سے کیا سنتے ہیں۔ وہ آوازیں اور باتیں جو اللہ کو پسند ہیں، یا وہ جنھیں اللہ ناپسندفرماتا ہے۔“
”بھائی جان، اللہ آپ کو جزا دے، آپ نے اتنی اچھی باتیں بتا ئیں،ان شاء اللہ میں اپنے کانوں سے وہ باتیں سنوں گا جو اللہ کو پسند ہیں۔“
اسی وقت مغرب کی اذان ہونے لگی۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top