گپ جو سچ ہوگئی
کہانی: The Boast That Came True
مصنفہ: Enid Blyton
مترجم: محمد الیاس نواز
۔۔۔۔۔
گپو ایک بہت ہی بڑبولا خرگوش تھا۔ گپ مارناتواس نے اپنا وتیرہ ہی بنا لیا تھا۔ چمکتے سورج کے نیچے کوئی ایسی چیز نہ تھی جس کے بارے میں اس نے گپ نہ ماری ہو۔وہ اپنے آپ کو دنیا کا سب سے حیرت انگیز اور طاقت ور خرگوش سمجھتا اورکہتا تھا۔
ایک دن تو اس نے بہت ہی بڑی گپ ماری جو آپ آگے چل کر پڑھیں گے۔ہوا یوں کہ ایک دن بہت سارے جانور تالاب کے کنارے بیٹھے آپس میں باتیں کر رہے تھے ۔یہ تالاب کوکو پہاڑی کے اس طرف ایک بہت طویل سبزہ زار کے کنارے پر واقع تھا۔جانور خوش گپیوں میں مصروف تھے کہ آسمان پر ایک جہاز شور مچاتا ہوا نمودار ہوا۔
’’ارے ارے اس عجیب و غریب پرندے کو تو دیکھو!‘‘سیہ نے قدرے خوف زدہ ہو کر کہا۔’’یہ یہاںتونہیں اترے گاناں؟‘‘
’’ ہونہہ میں چاہوں تو اسے نیچے بلا سکتا ہوں۔‘‘ گپو نے حسب عادت ایک بار پھر گپ ماری۔’’لیکن اس کے نیچے اترنے سے تم خوف زدہ ہو جائوگی ، اس لیے میں اسے نیچے بلائوں گا نہیں۔سمجھی کانٹوں بھری …؟‘‘
’’تم بھی کیا کیا کہانیاں سناتے ہو!‘‘ چھچھوندر نے طنزیہ لہجے میں کہا۔’’تم تو ایسے کہہ رہے ہو جیسے واقعی اس عظیم پرندے کو ہمارے اس سبزمیدان میں اتار سکتے ہو۔تم اپنے نام کی طرح ایک انتہائی احمق گپ باز ہو، گپو اور بس…!‘‘
’’میں تمہیں بتا رہا ہوں کہ میں اسے نیچے لا سکتا ہوں۔‘‘ گپونے فوراً کہا۔’’لیکن اگر یہ نیچے اترا تو یہ کانٹوں بھری ڈر جائے گی۔ صرف اس لیے میں اسے نیچے نہیں بلا رہا۔‘‘
’’فضول بکواس!‘‘چھچھوندر بولی۔’’ سیہ! تم جا ئو اور میرے بل میں جا کر چھپ جائو!ہاں تو گپو…!سیہ جا چکی ہے۔اس بڑے پرندے کو نیچے آنے کا کہو تاکہ ہم دیکھ سکیں کہ تم سچ کہہ رہے ہو یا ہمیشہ کی طرح گپ مار رہے ہو۔‘‘
’’ہاں ہاں چلو بلائو گپو!‘‘ گپوکا چہرہ لال ہوتا دیکھ کر باقی سب بھی خوشی سے چہکے۔
گپو کے پاس اب اس کے سوا کیا چارہ تھا کہ وہ پرندے کو نیچے آنے کا کہتا؟ اس نے کھنکارکر گلا صاف کیا اور پھر ڈھٹائی کے ساتھ آواز لگائی۔ ’’ اے آسمان پر شور مچانے والے عظیم پرندے، ہمارے اس سبزمیدان میں اتر آئو!‘‘
اورپھر ان سبھی کی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں جب واقعی وہ جہاز گول گول چکر کاٹتا ہوا نیچے اترنے لگا۔دراصل ہوا باز کو اس لمبے اور ہموار میدان میں اترنے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں تاکہ پیچھے آنے والے مزید چھ جہاز بھی اس کے ساتھ شامل ہو سکیں۔وہ نیچے اتر آیا۔یہ دراصل ایک سائنسی مشن تھا جس کو پورا کرنے کے لیے یہ سارے جہاز اس علاقے میں آئے تھے۔
’’اررررررررر…‘‘ جہاز جیسے جیسے نیچے آرہا تھا، اس کے انجن کا شور بڑھتا جا رہا تھا۔آخر کار وہ گھاس پر اترآیا۔تمام جانور جہاں تھے، اپنی جانوں کے خوف سے وہیں جم کر رہ گئے۔ان میں سے کسی میں بھی ہلنے کی ہمت تھی اور نہ ہی چلانے کی کہ کہیں یہ بڑے پروں والاعجیب و غریب پرندہ انہیں کھاہی نہ جائے۔اسی خوف کی کیفیت کے دوران اسی طرح کے چھ مزید پرندے آسمان پر نمودار ہوئے اور گول گھوم گھوم کر نیچے اترنے لگے۔
اب توجانور چیختے، چلاتے اپنے بلوں اور غاروں کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے۔اوران میں سے جو سب سے زیادہ تیز دوڑ رہا تھا، وہ گپو گپ باز تھا۔ وہ سب سے گہری سرنگ میں جا گھسا اورایسا دبک کر بیٹھا کہ ہلا تک نہیں۔
’’گپو! گپو!‘‘ اچانک کسی نے اسے پکارا۔’’ تم کہاں ہو؟آئو اور ان بھیانک پرندوں سے کہو کہ یہاں سے چلے جائیں۔تمہی نے انہیں یہاں بلایا تھا اور اب تمہی انہیں واپس بھیجو۔‘‘
لیکن دوبارہ اس میدان میں جانا تو درکنار ، گپو تواپنے بل سے اپنی ناک تک نہیں نکالنا چاہتا تھا۔وہ خوف سے تھرا رہا تھا، پھر وہ ایک خیال کے تحت اٹھااور اپنے بل سے اندر ہی اندر کھدی ہوئی ایک سرنگ سے دوسری سرنگ میں اترا اور کوکو پہاڑی کی دوسری طرف میلوں دور جا نکلا۔
بس اسی دن سے اسے یہ خوف لاحق ہو گیا کہ ایسا نہ ہو کوئی گپ ماروں اور وہ سچ ہو جائے۔اس ڈر سے اس نے گپ مارنا ہی چھوڑ دی۔

