skip to Main Content

برابر کا اجر

کاوش صدیقی
۔۔۔۔۔
حضرت ابو مسعود انصاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا: ’’جس شخص نے کسی نیک کام کی طرف کسی بندے کی رہنمائی کی تو اس کو اس نیک کام کرنے والے بندے جتنا ہی اجر ملے گا۔‘‘ (صحیح مسلم، معارف الحدیث جلد نمبر8 صفحہ نمبر74)
۔۔۔۔۔

عرشی خالہ حیران و پریشان تپتی ہوئی گرمی میں سڑپٹر، سڑپٹر کرتی ہوئی چلی جا رہی تھیں۔ جونہی وہ اشرف اسٹیٹ ایجنسی کے سامنے سے گزریں۔ اشرف پھرتی سے باہر نکل آیا۔
’’خالہ کہاں چلیں؟‘‘ اس نے پوچھا: ’’اتنی تپتی دوپہر میں…!‘‘
’’ارے وہ ہے ناں رشید کا لڑکا، وہ سیڑھیوں سے گر گیا۔ سر پھٹ گیا ہے اس کا بہت خون نکلا ہے۔ میں ذرا ریحان کے پاس جا رہی ہوں اس کے بڑے دوست ہیں وہ ذرا خون کا بندوبست تو کرے…!‘‘ عرشی خالہ نے کہا۔
’’اچھا ذرا اندر آ کے سستا تو لو…!‘‘ اشرف نے کہا۔
’’بس ایک گلاس ٹھنڈا پانی پلا دو، اس وقت بیٹھنے کا وقت کہاں بھلا…!‘‘
عرشی خالہ نے دکان کے دروازے پر رک کے کہا۔
اشرف پھرتی سے اندر گیا اور کولر سے ٹھنڈے پانی کا گلاس بھر لایا۔ خالہ نے وہ پانی پیا اور گلاس واپس کرتے ہوئے بولیں: ’’اے بھیا تمھارا خون کا گروپ کون سا ہے…؟‘‘
’’میرا…!‘‘ اشرف نے گھبرا کے کہا۔ ’’مجھے کیا پتا۔ کبھی ضرورت ہی نہیں پڑی…!‘‘
خالہ عرشی ہنسنے لگیں اور آگے بڑھ گئیں۔
انھوں نے ریحان سے کہا۔ ریحان نے فوراً ہی اپنے واٹس اپ گروپ پر میسج کیا اور آدھے گھنٹے میں دو لڑکے مل گئے۔ جو ہاسپٹل خون دینے کے لئے جانا چاہتے تھے اور پتا معلوم کر رہے تھے۔
ریحان نے ہاسپٹل کا پتا بھی گروپ میں شیئر کر دیا۔ اور یوں بروقت خون مل جانے کی وجہ سے رشید کے بیٹے کی جان بچ گئی۔
’’خالہ آپ کا بہت بہت شکریہ…!‘‘ رشید نے کہا۔ اس کی آنکھوں میں احساسِ تشکر سے آنسو آ گئے تھے۔
’’اے لو۔ بھیا اس میں شکریئے کی کیا بات ہے۔ یہ تو میرا فرض تھا ، آخر کو خالہ ہوں تمھاری…!‘‘ عرشی نے بڑے اطمینان سے کہا اور پان چبانے لگیں۔
عرشی خالہ کو اللہ نے بڑا نرم دل دیا تھا۔ ذرا دیرمیں دوسروں کے کام آنے کے لئے کھڑی ہو جاتیں۔ منہ پھٹ تھیں۔ غصہ جلدی آ جاتا تھا۔ مگر اس کے باوجود کبھی کوئی رنجش دل میں نہیں رکھی اور سارا محلہ ان سے پیار کرتا تھا۔ وہ تھیں بھی تو بہت اچھی۔
بچے مزے دار باتوں کی وجہ سے ان کے دیوانے تو بڑے ان کی صلاح، ان کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے اور ہمیشہ کامیاب رہتے۔
ان ہی دنوں میں اختر ٹیلر ماسٹر کی بیٹی کا رشتہ کہیں سے آیا۔ لڑکے والا شہر کے دوسرے حصے میں رہتے تھے۔ کسی جان پہچان والے نے بتایا۔ ٹیلر ماسٹر اختر کی ماشاء اللہ پانچ بیٹیاں تھیں اور وہ ان کے رشتے کے لئے پریشان تھے۔
ٹیلر ماسٹر اختر نے خالہ سے کہا: ’’بھئی تمھاری بھتیجی کا رشتہ آیا ہے…!‘‘
’’یہ تو بڑی مبارک خبر ہے…!‘‘ خالہ عرشی مزے سے دکان میں رکھے اسٹول پر بیٹھ گئیں۔ ’’اب تو پان اور چائے تم پر فرض ہو گئی…!‘‘
اختر ٹیلر ماسٹر ہنسنے لگے۔’’ لو جی خالہ بھلا چائے، پان آپ سے بڑھ کے ہیں۔‘‘ انھوں نے ساتھ شاگرد کو اشارہ کیا اور وہ دوڑ گیا۔
’’لڑکا کیا کرتا ہے؟‘‘ خالہ نے پوچھا۔
ٹیلر ماسٹر اختر بولے: ’’لڑکے کی والدہ آئی تھیں کہنے لگیں کہ لڑکا دوبئی میں ہے۔ یہ دیکھو تصویر…!‘‘ انھوں نے کٹنگ ٹیبل کی دراز میں سے تصویر نکال کے دکھائی۔ خالہ نے تصویر ہاتھ میں پکڑی اور دیکھنے لگیں۔ یہ چھبیس ستائیس سال کے لڑکے کی تصویر تھی۔ جس نے کھلے گریبان کی شرٹ پہنی ہوئی تھی اور گلے میں اسٹیل کی موٹی سی چین تھی۔
اتنے میں لڑکا پان اور چائے لے آیا۔ خالہ نے چائے کا کپ تھام لیا۔ اتنے میں دو عورتیں اپنے کپڑے لینے آ گئیں۔
ٹیلر ماسٹر ان میں مصروف ہو گئے۔ خالہ چائے پی کر پان کھا کے باہر نکل آئیں۔ ان کا رخ ریحان کی طرف تھا۔
وہ ریحان کے پاس پہنچیں، ریحان کو دو ٹیوشن کی تلاش تھی۔ اس نے ان سے کہہ رکھا تھا۔ پچھلی گلی کے سلیم الدین کو اپنے چھٹی ساتویں میں پڑھنے والے لڑکوں کے لئے ٹیوشن ماسٹر کی ضرورت تھی۔
خالہ وہی بتانے جا رہی تھیں۔ ریحان گھر ہی پر تھا۔ خالہ اس کے پاس جا کے بتانے لگیں کہ وہ شام کو جا کر سلیم الدین سے مل لے۔
ریحان نے شکریہ ادا کرتے ہوئے پوچھا: ’’عرشی خالہ یہ ہاتھ میں کس کی تصویر پکڑی ہوئی ہے آپ نے؟‘‘
’’ایں…!‘‘ عرشی خالہ چونکیں: ’’ارے یہ تو میں اختر ٹیلر ماسٹر کے ہاں سے بے خیالی میں پکڑے پکڑے چلی آئی…!‘‘
’’ذرا دکھایئے تو…!‘‘ ریحان نے ان سے تصویر لے لی اور غور سے دیکھنے لگا۔
عرشی خالہ نے پوچھا : ’’کیا تم اس کو پہچانتے ہو…؟‘‘
’’ریحان نے کہا: ’’پہلے یہ بتائیں کہ یہ تصویر آپ کے پاس کیسے آئی؟‘‘
’’عرشی خالہ نے کہا: ’’یہ اختر ٹیلر ماسٹر نے مجھے دکھائی ہے۔ ان کی بیٹی کے لئے اس کا رشتہ آیا ہے…!‘‘
’’رشتہ…؟‘‘ ریحان نے سوچتے ہوئے کہا: ’’ذرا ایک منٹ ٹھہریں…!‘‘
ریحان نے فوراً ہی اپنا کمپیوٹر آن کیا اور اپنی فیس بک کھولی۔ پھر اس پر کچھ ڈھونڈنے لگا۔ پھر اس نے کہا: ’’یہ مل گیا…!‘‘
’’کیا مل گیا؟‘‘ عرشی خالہ نے پوچھا۔
’’یہ دیکھئے…!‘‘ ریحان نے مانیٹر کا رخ عرشی خالہ کی طرف کر دیا۔ وہاں اسی نوجوان کی تصویر تھی جس میں وہ دولہا بنا ایک لڑکی کے ساتھ موجود تھا جو دلہن بنی ہوئی تھی…!
’’یہ میرے فیس بک فرینڈز میں ہے۔ ابھی اس نے اپنی شادی کی سالگرہ کی تصویر شیئر کی ہے…!‘‘ ریحان نے کہا۔
’’ہائیں ، یہ شادی شدہ ہے اللہ مارا…؟‘‘ عرشی خالہ ماتھے پر ہاتھ مار کے بولیں۔
’’اے یہ تصویر مجھے کیسے ملے گی؟‘‘ انھوں نے پوچھا۔
’’ابھی نکال دیتا ہوں…!‘‘ ریحان نے کہا اور چند ہی لمحوں میں پرنٹر سے تصور نکال کے عرشی خالہ کو پکڑا دی۔
خالہ دونوں تصویریں لے کر باہر نکل آئیں اور سیدھی ٹیلر ماسٹر اختر کے پاس پہنچیں اور بولیں: ’’اے بھیا۔ بے خیالی میں، میں یہ تصویر لئے چلی گئی تھی۔ ویسے اب کب آئیں گے لڑکے والے؟‘‘
’’کل شام کو آئیں گے، ان کی والدہ تو دیکھ گئی تھیں کل اپنے داماد اور بیٹی کے ساتھ آئیں گی…!‘‘ ٹیلر ماسٹر اختر نے بتایا۔
اگر برا نہ مانو تو میں بھی آ جائوں…!‘‘ عرشی خالہ نے پوچھا۔
’’اس میں برا ماننے کی کیا بات۔ آپ تو ہماری خالہ ہیں۔‘‘ ٹیلر ماسٹر اختر نے کہا: ’’آپ بھی دیکھ لیجئے گا اور مشورہ دے دیجئے گا۔ ہمیں فیصلہ کرنے میں آسانی ہو جائے گی…!‘‘
’’ٹھیک ہے بھیا…!‘‘ عرشی خالہ اٹھ کھڑی ہوئیں۔ انھوں نے باقی کچھ بتانا مناسب نہیں سمجھا۔

٭٭٭

دوسرے دن شام کو خالہ ٹیلر ماسٹر اختر کے گھر پہنچیں تو وہاں مہمان آئے ہوئے تھے۔ لڑکے کی ماں، داماد اور دونوں بیٹیاں، کھانے پینے کا دور چل رہا تھا۔
عرشی خالہ کو دیکھ کر ماسٹر اختر حسین خوش ہو گئے اور بولے: ’’یہ لیجئے ہماری خالہ بھی آگئیں۔ بہت اچھی ہیں۔ ہمارا بہت خیال رکھتی ہیں…!‘‘
’’اجی کیوں نہیں ہوں گی۔ آپ لوگ خود اتنے اچھے ہیں…!‘‘ لڑکے کی ماں نے مسکرا کے کہا۔
’’اتنی دیر میں باتیں شروع ہو گئیں۔ عرشی خالہ تو تھیں ہی باتوں کی ماہر۔ جلد ہی بے تکلفی کا ماحول پیدا ہو گیا۔
لڑکے کی والدہ نے کہا: ’’ہم تو بس ہاں سن کر ہی جائیں گے…!‘‘
ماسٹر اختر حسین نے اپنی بیگم کی طرف دیکھا۔ انھوں نے خالہ کی طرف دیکھا۔ عرشی خالہ نے کہا: ’’لیکن آپ کا لڑکا تو دوبئی میں ہے پہلے لڑکا تو دیکھ لیں…!‘‘
’’ارے یہ کیا مشکل ہے۔ جیسے ہی آئے گا دیکھ لینا…!‘‘ لڑکے کی ماں نے چمک کے کہا۔ ’’ہم پر کوئی اعتبار نہیں ہے کیا…؟‘‘
’’اپنی بہو سے پوچھ لیا؟‘‘ عرشی خالہ نے بڑی سنجیدگی سے پوچھا۔
’’کیا…؟‘‘ لڑکے کی اماں کرسی سے یوں اچھلیں جیسے بچھو نے کاٹ کھایا ہو۔
’’یہ … یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟‘‘ انھوں نے ہکلاتے ہوئے کہا۔
’’جو آپ نے سنا…!‘‘ عرشی خالہ نے جواب دیا۔
’’یہ … یہ بالکل جھوٹ ہے۔ آپ کو الزام لگاتے ہوئے شرم آنی چاہئے…!‘‘
لڑکے کی ماں نے غصے سے چلاتے ہوئے کہا۔
ٹیلر ماسٹر اختر اور ان کی بیگم ہکا بکا یہ سب دیکھ رہے تھے۔
’’تو پھر یہ کیا ہے؟‘‘ عرشی خالہ نے پرس میں سے ریحان کی نکالی ہوئی تصور ٹیلر ماسٹر اختر کو پکڑا دی۔ انھوں نے دیکھا لڑکا اپنی دلہن کے ساتھ مسکرا رہا تھا…!
انھوں نے تصویر بیگم کو دکھائی۔ بیگم اختر نے تصویر دیکھی اور لڑکے کی ماں کے آگے پٹخ دی۔ اور بولیں۔
’’شرم ہمیں نہیں آپ کو آنی چاہئے۔ آپ دھوکا دے رہی تھیں ہمیں۔ اپنے لڑکے کی دوسری شادی کر رہی تھیں آپ؟‘‘
’’وہ … وہ تو …!‘‘ لڑکے کی ماں نے کہنے کی کوشش کی مگر ٹیلر ماسٹر اختر نے کہا: ’’بہن بہتر ہے آپ تشریف لے جائیں…!‘‘
وہ لوگ خاموشی سے اٹھے اور سر جھکائے باہر نکل گئے۔
ٹیلر ماسٹر اختر نے عرشی خالہ سے کہا: ’’عرشی خالہ آپ نے تو ہمیں بڑے دھوکے سے بچا لیا۔ آپ کا کیسے شکریہ ادا کروں؟‘‘
’’بس ایک پان کھلا دو…!‘‘ خالہ عرشی نے اطمینان سے کہا ۔
’’اس میں میرا احسان کیسا۔ بیٹیاں تو سب ہی ایک جیسی ہوتی ہیں۔ آخر کو حمیرا میری بھی تو بیٹی ہے…!‘‘
وہ مسکرا کے بولیں اور پان چبانے لگیں۔

٭٭٭

کبھی کسی کے لئے خالہ تیمار دار بنی ہوئی ہیں تو کبھی کسی کے اسکول کی فیس معاف کروانے دوڑی چلی جا رہی ہیں۔
میں نے پوچھا: ’’عرشی خالہ کیوں اس بڑھاپے میں بھاگ دوڑ کرتی رہتی ہیں۔ آرام سے بیٹھیں۔ اللہ اللہ کریں…!‘‘
وہ ہنسنے لگیں اور بولیں: ’’اے بھیا کاہے کو مجھے معذور بنانے پر تلے ہوئے ہو۔ میں تو بس سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان پر دوڑی پھرتی ہوں…!‘‘
’’کیا…؟‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا: ’’ذرا مجھے بتایئے…!‘‘
عرشی خالہ بولیں: ’’سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ جس شخص نے کسی نیک کام کی طرف کسی کی راہنمائی کی تو اس کو اس نیک کام کرنے والے جتنا ہی اجر ملے گا…!‘‘
’’بھیا میں مال و دولت تو رکھتی نہیں۔ نہ ہی کوئی اور طاقت ہے میرے پاس۔ بس کسی کے کام کے لئے بھاگ دوڑ کر لیتی ہوں جو کرتا ہے اصل ثواب تو اسی کو ملے گا۔ میرا نام بھی بھاگ دوڑ کرنے والوں میں سرکار کے رجسٹر میں لکھا جائے گا۔‘‘
انھوں نے مزے سے جواب دیا اور مجھے ڈانٹنے کے انداز میں دیکھتے ہوئے بولیں۔
’’بس اب باتیں ہی بنائے جائے گا یا پان بھی کھلائے گا۔ راجا جانی تیز پتی کا…؟‘‘
’’جی بالکل…!‘‘ میں نے جلدی سے کہا اور عرشی خالہ کے لئے پان بنانے لگا۔
عرشی خالہ پان کلے میں دبا کے دعائیں دیتی ہوئی کسی اور کے کام کے لئے نیکی کمانے نکل گئیں۔

٭…٭

کہانی پر تبصرہ کیجئے، انعام پائیے

کاوش صدیقی کے مداحو ! تیار ہو جاؤ ایک زبردست مقابلے کیلئے۔
کتاب دوست لے کر آرہا ہے ایک اور زبردست خبر ! کاوش صدیقی صاحب نے روشنائی ڈوٹ کوم پر اگست کے پورے مہینے کہانیاں لکھنے کی زبردست خبر سنائی تو کتاب دوست نے اس کا مزہ دوبالا کرنے کیلئے آپ لوگوں کے لئے ایک زبردست مقابلے کا آغاز کرنے کا سوچا۔
☆ تو لیجئے کتاب دوست کی جانب سے ایک اور اعلان ہو رہاہے۔ وزٹ کیجئے روشنائی ڈوٹ کوم roshnai.com  پر اور پڑھئے کاوش صدیقی کی روزانہ ایک کہانی۔ اس پر اپنا بھرپور تبصرہ کیجئے اور جیتیے مندرجہ ذیل کیش انعامات مع کتاب دوست کی اعزازی سند کے۔
★ پہلا انعام : 1500 روپے + کتاب دوست اعزازی سند
★ دوسرا انعام : 1000 روپے + کتاب دوست اعزازی سند
★ تیسرا انعام : 700 روپے + کتاب دوست اعزازی سند
نوٹ: 31 اگست یعنی آخری کہانی تک کا وقت مقررہ ہے۔ یعنی آخری دن۔
جتنے زیادہ تبصرے ہوں گے اتنے جیتنے کے مواقع زیادہ ہوں گے۔
☆ ایک قاری کی طرف سے ایک کہانی پر ایک تبصرہ کیا جا سکتا ہے۔
☆ تبصرہ ہر کہانی کے آخر میں کمنٹس باکس میں کرنا ہے اور اسے یہاں اس پوسٹ میں بھی کمنٹ کرنا ہے۔
☆ تبصرہ کم ازکم 300 الفاظ ہوں اس سے کم الفاظ کو صرف کمنٹ تصور کیا جائے گا۔ مقابلے میں شامل نہیں ہوگا۔
☆ ججمنٹ کے فرائض Shahzad Bashir – Author انجام دیں گے اور نتائج کا اعلان 6 ستمبر بروز “یومِ دفاع” کیا جائے گا۔
Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top