اسلم کا گھوڑا
شریف شیوہ
| ٹا نگیں ہیں پتلی ، موٹی کمر ہے |
| دُم اس کی لمبی ، چھوٹا سا سر ہے |
| مخمل کی کاٹھی ، لکڑی کا دھڑ ہے |
| جاتا ہے سر پٹ ، کھاتا ہے تھوڑا |
| اسلم کا گھوڑا |
| آندھی سی تیزی ہے اس کے چلن میں |
| بجلی سی پُھرتی ہے اس کے بدن میں |
| چھپا ہے خدا جانے کیا اس کے من میں |
| کوئی اس نے میداں نہ جنگل ہی چھوڑا |
| اسلم کا گھوڑا |
| پاؤں میں اس کے جو گھنگھرو بندھے ہیں |
| یہ چھن چھن چھنا چھن بڑے بولتے ہیں |
| عجب میٹھا کانوں میں رَس گھولتے ہیں |
| اُچھلتا ہے یہ سُن سُن کے یہ تھوڑا تھوڑا |
|
اسلم کا گھوڑا |
Facebook Comments

