اندھا کیا چاہے دو آنکھیں
عطاء المصطفیٰ سعید
۔۔۔۔۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی گاؤں میں ایک غریب آدمی رہتا تھا۔ وہ روزانہ شہر جاتا اور محنت مزدوری کرتا۔ سارا دن محنت مشقت کرتا اور جو کچھ کماتا ،لا کر اپنے بیوی بچوں کے سامنے پیش کر دیتا۔ وہ محنتی تھا کم پیسے والا تھا مگر خوش تھا۔
ایک دفعہ وہ گھر واپس آیا تو اس کی بیوی کہنے لگی۔ ’’ہم کب تک ایسے ہی غریب رہیں گے؟ یوں ہی تھوڑے سے کھانے کے لیے ترستے رہیں گے؟‘‘
وہ کہنے لگا۔’’اے خاتون !میں جو کر سکتا ہوں،جو کما سکتا ہوں وہ تمہارے سامنے حاضر کر دیتا ہوں۔‘‘
بیوی کہنے لگی۔’’ایسا کب تک چلے گا؟‘‘
آدمی کے چہرے پر پریشانی کے سائے لہرانے لگے۔وہ خاموش رہا اور وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔
شام کے سائے ڈھلنے لگے۔ رات ہوئی تو دونوں میاں بیوی گہری سوچ میں گم تھے۔ وہ دونوں یہی سوچ رہے تھے کہ آخر اس گھر کا کیا بنے گا ۔ساری رات اسی سوچ بچار میں گزر گئی۔
آدمی صبح صبح رزق کی تلاش میں شہر روانہ ہوا۔ سارا دن محنت مزدوری کرتا رہا ۔شام کو شہر سے واپس آیا تو ایک حیران کن منظر اس کا منتظر تھا۔ اس کی بیوی سلائی مشین پر کپڑے سی رہی تھی۔ آدمی حیران حیران سا اس کے پاس بیٹھ گیا۔
’’اری نیک بخت !یہ کیا؟‘‘
بیوی کہنے لگی۔’’کل رات میں نے سوچا کہ تم اکیلے ہو۔سارا دن محنت مزدوری کرتے ہو۔مجھے بھی تمہارا دست و بازو بننا چاہیے۔ بس اسی لیے پڑوسن کے ہاں سے یہ سلائی مشین اٹھا لائی۔اب میں بھی گھر کے خرچ میں تمہارا ہاتھ بٹاؤں گی۔‘‘
آدمی کی آنکھوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اس نے بیوی کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہنے لگا:
’’تم نے دل خوش کر دیامیرا ۔گھر کے خرچ کا بوجھ میرے کندھوں سے اتر جائے گا تو میں خوشحال ہو جاؤں گا۔بس وہ کہتے ہیں نا ’اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔‘‘‘

