اندھا بانٹے ریوڑیاں
عطاء المصطفیٰ سعید
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی ملک میں ایک بادشاہ رہتا تھا۔وہ بادشاہ بہت ہی عقلمند اور رعایا سے محبت کرنے والا تھا۔ وہ دن رات اپنی رعایا کے بارے میں ہی سوچتا رہتا تھا۔
ایک دن اس نے ارادہ کیا کہ اپنی رعایا میں کچھ مال و دولت تقسیم کرے۔ اس نے اپنے وزیر کو بلایا اور کہا:
’’اے میرے وزیر باتدبیر۔میں تمہارے ذمے ایک اہم ذمہ داری لگانے لگا ہوں ،کیا تم یہ ذمہ داری ادا کر سکو گے؟‘‘
’’بادشاہ سلامت! میں آپ کا ہر حکم بجا لانے کا پابند ہوں۔‘‘وزیر نے سر جھکایا اور ادب سے بولا تو بادشاہ کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔
’’میں کچھ قیمتی جواہرات تمہارے حوالے کرتا ہوں۔تم نے یہ جواہرات اس شخص کو دینے ہیںجو غریب مگر منصب وزارت کا اہل ہو۔اب یہ تمہاری فراست ہے کہ تم کیسے اس کا فیصلہ کرتے ہو۔‘‘
وزیر نے سر جھکایا اور سلام بجا لا کر بادشاہ سے رخصت لی۔
وزیر اپنے محل میں پہنچا تو اس کی نیت میں فتور آگیا۔ اس نے ایک شیطانی منصوبہ سوچا اور اپنی مسہری پر لیٹ کر خواب خرگوش کے مزے لینے لگا۔
اگلے روز اس نے اپنی ملکہ کو بلایا اور کہنے لگا:
’’بادشاہ نے بہت سے قیمتی جواہرات میرے حوالے کیے ہیں اور حکم دیا ہے کہ میں یہ غریب مگر منصب وزارت کے اہل شخص کے حوالے کروں۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ جواہرات ہماری ملکیت میں ہی رہیں۔ ‘‘
ملکہ بھی وزیر جیسی شاطر تھی، اس نے اپنے چند رشتہ داروں کے نام اسے بتائے جو ان کی سازش میں حصہ لے سکتے تھے۔ وزیر نے ملکہ کے ساتھ اس منصوبے کی حامی بھر لی۔
وزیر کچھ دن اپنے محل میں چھپا رہا اور پھر بادشاہ کے سامنے دربار میں حاضر ہو گیا۔
’’بادشاہ سلامت! میں نے آپ کے عطا کردہ زیورات چند غریب مگر نہایت ہی عقلمند لوگوں میں تقسیم کر دیے ہیں۔ ‘‘
بادشاہ نے ان افراد کو دربار میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ وزیر نے انہیں دربار میں بادشاہ کے سامنے پیش کر دیا۔ بادشاہ نے ان کے چہرے دیکھے تو حیران رہ گیا۔وہ شکل سے ہی بے وقوف نظر آرہے تھے۔بادشاہ نے ان کا امتحان لینے کا فیصلہ کیا۔ بادشاہ نے ان کے سامنے کچھ جواہرات رکھے اور کہا:
’’جواہرات پہچانو ،یہ کون سی قسم کے ہیں۔‘‘
جس کو جو معلوم تھا اس نے وہ جواب دیا۔ ایک نے تو حد کر دی ،کہنے لگا:
’’بادشاہ سلامت !یہ کوہ نور ہیرا ہے۔ آپ کو بہت مبارک ہو۔‘‘
دوسرا کہاں پیچھے رہتا،کہنے لگا:
’’بادشاہ سلامت! ان ہیروں کی قیمت تو پوری سلطنت سے بھی زیادہ ہے۔‘‘
بادشاہ کے چہرے کا رنگ بدلتا چلا گیا۔وہ تڑپ کر اپنے تخت سے اٹھ کھڑا ہوا ۔اس نے وزیر کی طرف اشارہ کیا اور بولا:
’’میں نے تم جیسا دھوکے باز اور لالچی شخص آج تک نہیں دیکھا۔ میں نے تم پر اعتبار کیا اور تم نے میری آنکھوں میں دھول جھونک دی۔ یہ سب جواہرات نقلی ہیں۔ تم ایسے لوگ لائے ہو جنہیں شاہی جواہرات کی پہچان تک نہیں تو یہ منصب وزارت کے اہل کیسے ہوں گے۔ بتاؤ یہ کون لوگ ہیں ورنہ ابھی شاہی جلاد تمہاری گردن اڑا دے گا اور تم خاک اور خون میں لت پت ہو جاؤ گے۔‘‘
یہ خوفناک تقریر سن کر وزیر کے چھکے چھوٹ گئے اور وہ خوف سے تھر تھر کانپنے لگا۔
’’بادشاہ سلامت! یہ میرے خاندان کے لوگ ہیں۔ یہ سازش میں نے اور میری ملکہ نے بنائی تھی۔آپ میری جان بخشی فرما دیجئے۔ آئندہ میں آپ کو اس دربار میں نظر نہیں آؤں گا۔‘‘
بادشاہ غصے سے کپکپاتا ہوااپنے تخت پر بیٹھ گیا۔ اس نے تالی بجائی اور شاہی خطاط کو حاضر ہونے کا حکم دیا۔ لمحوں میں وہ حاضر ہو گیا۔
’’شاہی خطاط !‘‘بادشاہ نے کہا۔’’ایک عمدہ اور بڑا کاغذ لو اور اس پر لکھو۔’اندھا بانٹے ریوڑیاں مڑ مڑ اپنوں کو ہی دے۔‘یہ تحریر شاہی نقارچی کے حوالے کرو۔ ان سب دھوکے بازوں کو ساتھ لے کر جاؤ۔بازاروں میں گھماؤ اور ڈھول پیٹ کر یہ تحریر پڑھتے جاؤ۔ ‘‘
وزیر کی سب عزت خاک میں مل گئی۔وہ سر بازار رسوا ہوا اور ہر شخص کو یہ بات پتا چل گئی کہ عقل کا اندھا ہمیشہ سارا فائدہ اپنے آپ کو ہی دینے کی کوشش کرتا ہے چاہے وہ نا اہل اور کام چور ہی کیوں نہ ہوں۔
ایک دن اس نے ارادہ کیا کہ اپنی رعایا میں کچھ مال و دولت تقسیم کرے۔ اس نے اپنے وزیر کو بلایا اور کہا:
’’اے میرے وزیر باتدبیر۔میں تمہارے ذمے ایک اہم ذمہ داری لگانے لگا ہوں ،کیا تم یہ ذمہ داری ادا کر سکو گے؟‘‘
’’بادشاہ سلامت! میں آپ کا ہر حکم بجا لانے کا پابند ہوں۔‘‘وزیر نے سر جھکایا اور ادب سے بولا تو بادشاہ کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔
’’میں کچھ قیمتی جواہرات تمہارے حوالے کرتا ہوں۔تم نے یہ جواہرات اس شخص کو دینے ہیںجو غریب مگر منصب وزارت کا اہل ہو۔اب یہ تمہاری فراست ہے کہ تم کیسے اس کا فیصلہ کرتے ہو۔‘‘
وزیر نے سر جھکایا اور سلام بجا لا کر بادشاہ سے رخصت لی۔
وزیر اپنے محل میں پہنچا تو اس کی نیت میں فتور آگیا۔ اس نے ایک شیطانی منصوبہ سوچا اور اپنی مسہری پر لیٹ کر خواب خرگوش کے مزے لینے لگا۔
اگلے روز اس نے اپنی ملکہ کو بلایا اور کہنے لگا:
’’بادشاہ نے بہت سے قیمتی جواہرات میرے حوالے کیے ہیں اور حکم دیا ہے کہ میں یہ غریب مگر منصب وزارت کے اہل شخص کے حوالے کروں۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ جواہرات ہماری ملکیت میں ہی رہیں۔ ‘‘
ملکہ بھی وزیر جیسی شاطر تھی، اس نے اپنے چند رشتہ داروں کے نام اسے بتائے جو ان کی سازش میں حصہ لے سکتے تھے۔ وزیر نے ملکہ کے ساتھ اس منصوبے کی حامی بھر لی۔
وزیر کچھ دن اپنے محل میں چھپا رہا اور پھر بادشاہ کے سامنے دربار میں حاضر ہو گیا۔
’’بادشاہ سلامت! میں نے آپ کے عطا کردہ زیورات چند غریب مگر نہایت ہی عقلمند لوگوں میں تقسیم کر دیے ہیں۔ ‘‘
بادشاہ نے ان افراد کو دربار میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ وزیر نے انہیں دربار میں بادشاہ کے سامنے پیش کر دیا۔ بادشاہ نے ان کے چہرے دیکھے تو حیران رہ گیا۔وہ شکل سے ہی بے وقوف نظر آرہے تھے۔بادشاہ نے ان کا امتحان لینے کا فیصلہ کیا۔ بادشاہ نے ان کے سامنے کچھ جواہرات رکھے اور کہا:
’’جواہرات پہچانو ،یہ کون سی قسم کے ہیں۔‘‘
جس کو جو معلوم تھا اس نے وہ جواب دیا۔ ایک نے تو حد کر دی ،کہنے لگا:
’’بادشاہ سلامت !یہ کوہ نور ہیرا ہے۔ آپ کو بہت مبارک ہو۔‘‘
دوسرا کہاں پیچھے رہتا،کہنے لگا:
’’بادشاہ سلامت! ان ہیروں کی قیمت تو پوری سلطنت سے بھی زیادہ ہے۔‘‘
بادشاہ کے چہرے کا رنگ بدلتا چلا گیا۔وہ تڑپ کر اپنے تخت سے اٹھ کھڑا ہوا ۔اس نے وزیر کی طرف اشارہ کیا اور بولا:
’’میں نے تم جیسا دھوکے باز اور لالچی شخص آج تک نہیں دیکھا۔ میں نے تم پر اعتبار کیا اور تم نے میری آنکھوں میں دھول جھونک دی۔ یہ سب جواہرات نقلی ہیں۔ تم ایسے لوگ لائے ہو جنہیں شاہی جواہرات کی پہچان تک نہیں تو یہ منصب وزارت کے اہل کیسے ہوں گے۔ بتاؤ یہ کون لوگ ہیں ورنہ ابھی شاہی جلاد تمہاری گردن اڑا دے گا اور تم خاک اور خون میں لت پت ہو جاؤ گے۔‘‘
یہ خوفناک تقریر سن کر وزیر کے چھکے چھوٹ گئے اور وہ خوف سے تھر تھر کانپنے لگا۔
’’بادشاہ سلامت! یہ میرے خاندان کے لوگ ہیں۔ یہ سازش میں نے اور میری ملکہ نے بنائی تھی۔آپ میری جان بخشی فرما دیجئے۔ آئندہ میں آپ کو اس دربار میں نظر نہیں آؤں گا۔‘‘
بادشاہ غصے سے کپکپاتا ہوااپنے تخت پر بیٹھ گیا۔ اس نے تالی بجائی اور شاہی خطاط کو حاضر ہونے کا حکم دیا۔ لمحوں میں وہ حاضر ہو گیا۔
’’شاہی خطاط !‘‘بادشاہ نے کہا۔’’ایک عمدہ اور بڑا کاغذ لو اور اس پر لکھو۔’اندھا بانٹے ریوڑیاں مڑ مڑ اپنوں کو ہی دے۔‘یہ تحریر شاہی نقارچی کے حوالے کرو۔ ان سب دھوکے بازوں کو ساتھ لے کر جاؤ۔بازاروں میں گھماؤ اور ڈھول پیٹ کر یہ تحریر پڑھتے جاؤ۔ ‘‘
وزیر کی سب عزت خاک میں مل گئی۔وہ سر بازار رسوا ہوا اور ہر شخص کو یہ بات پتا چل گئی کہ عقل کا اندھا ہمیشہ سارا فائدہ اپنے آپ کو ہی دینے کی کوشش کرتا ہے چاہے وہ نا اہل اور کام چور ہی کیوں نہ ہوں۔
Facebook Comments

