skip to Main Content

آستین کا سانپ

عطا ء المصطفیٰ سعید
۔۔۔۔۔

بہت دنوں کی بات ہے، ہمارے محلے میں ایک حاجی صاحب رہا کرتے تھے ۔ان کا اپنا بہت بڑا کاروبار تھا۔ گھر میں پیسے کی ریل پیل تھی۔ وہ بہت خدا ترس انسان تھے۔ غریب اور ضرورت مندوں کی مدد کیا کرتے اور جو بھی ان کے در پر آتا،خالی ہاتھ نہیں لوٹتا تھا۔اسی وجہ سے ان پر دھن برس رہا تھا۔ لیکن بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی کبھی ایسے نیکوکاروں کی آزمائش بھی کرتا ہے۔ حاجی صاحب کے پاس، سب کچھ ہونے کے باوجود، بس ایک کمی تھی۔ ان کی اولاد نہیں تھی اور زمانے بھر کا یہ ایک دکھ ان کے لیے کافی تھا۔
ان کے ہاں ایک ملازم تھا، جس کا نام ارشد تھا ۔وہ کم عمری میں ہی ان کے گھر میں تھا اور ان کی خدمت کرتا تھا۔ارشد اب جوان ہو چکا تھا۔حاجی صاحب اس خدمت کی وجہ سے اسے اولاد کی طرح عزیز رکھتے تھے۔ اسے کبھی ملازم ہونے کے احساس نہیں دلایا اور گھر کے تمام معاملات اس کے سپرد کر دیے۔ اس چمک دمک کو دیکھ کر ارشد کی آنکھوں پر لالچ اور ہوس کی پٹی چڑھ گئی۔
اس نے حاجی صاحب کی تمام مال و دولت پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا لیا۔وہ دن رات شیطانی منصوبے سوچنے لگا۔ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی لالچ میں اضافہ ہونے لگا۔آخر وہ دن بھی آگیاجب اس نے حاجی صاحب کے تمام احسانات فراموش کر دیے۔ ایک رات حاجی صاحب اور اس کی بیوی کو کھانے میں زہر ملا کر دے دیا اور خود رات کے اندھیرے میں سارا قیمتی زیور اور مال و زر لے کر فرار ہو گیا۔
اگلی صبح پورے محلے میں کہرام مچ گیا ۔ہر ایک زبان پر بس یہی ایک جملہ تھا ۔’’حاجی صاحب نے ملازم نہیں’ آستین کا سانپ‘ پال رکھا تھا۔‘‘

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top