skip to Main Content

اُلّو

کلیم چغتائی
…..
اُلّو ہے چالاک شکاری
رب نے دی اِس کو ہُشیاری
دنیا بھر میں اِس کو پائیں
ڈھائی سو قِسموں کے مِل جائیں
پاکستاں میں بھی ملتا ہے
کوئی بڑا، کوئی چھوٹا ہے
رب سے پر ایسے ہیں پائے
اُڑتے ہوئے آواز نہ آئے
بڑی بڑی ہیں اِس کی آنکھیں
روشنی کم ہو پھر بھی دیکھیں
گردن کو تیزی سے گُھمائے
اپنی نظروں کو دوڑائے
کان نہیں ہیں سیدھ میں اِس کے
دونوں ذرا ہیں اوپر نیچے
کانوں تک آواز جو آئے
دونوں میں کچھ فرق آ جائے
فرق یہ ہلکا سا پہچانے
سَمت و مَقام آواز کا جانے
سر پہ پروں کے چھوٹے گُچّھے
جو کانوں جیسے ہیں لگتے
تیز اور طاقت ور ہیں پنجے
جن سے شکار اپنا یہ پکڑے
کھائے چوہے، مینڈک، کیڑے
اور چھپکلی، چھوٹے پرندے
کچھ اُلّو تو سانپ بھی کھائیں
کچھ اُلّو مچھلی کھا جائیں
تنوں کے سوراخوں میں رہ لیں
یا غاروں میں گھر یہ بنائیں
مادہ دے وقفوں سے انڈے
چھوٹے بڑے ہوتے ہیں بچّے
ماں باپ ان کی کریں حفاظت
کھانا دیں، پہنچائیں راحت
چوہا، مینڈک جو کچھ پکڑے
چونچ سے اپنی، پھاڑے چیرے
چھوٹا ہو تو سالم نگلے
بڑا ہو، کردے چھوٹے ٹکڑے
گوشت تو سارا ہضم یہ کرلے
پیٹ اپنا اُس سے یہ بھر لے
بال و پر، ہڈّی جو کھائے
اُس کی اک گولی بن جائے
یہ گولی تن میں نہ سمائے
چونچ کے رستے باہر آئے
چوہے، کیڑے جب یہ کھائے
کھیتوں کو نقصاں سے بچائے
چار انچ لمبائی چھوٹے کی
ایک چھٹانک سے بھی کم وزنی
بڑا ہو اُلّو چھ فٹ لمبا
اور وزن میں چار کِلو کا
آوازیں چالیس نکالے
مادہ یا بچّوں کو بُلالے
ہُو ہُو بولے، سِیٹی بجائے
چیخ نکالے، سِسکی آئے
جب بھی اس کو نیند ستائے
شاخ کو پکڑے اور سوجائے
سوتا ہے دس بارہ گھنٹے
خطرہ ہو تو فوراً جاگے
Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top