سارجنٹ
قاسم بن نظر
۔۔۔۔۔
ٹریفک پولیس کے سارجنٹ پرایک پُرمزاح تحریر…………
۔۔۔۔۔
یہ بڑے سفید پوش لوگ ہوتے ہیں ۔ ویسے تو بحریہ والوں کا یونیفارم بھی سفید ہوتا ہے، لیکن اُن کا کام ملک و قوم کی خدمت و حفاظت وفاداری و دیانت داری اور ایمانداری سے کرنا ہوتا ہے۔
یہ لوگ بڑے ثابت قدم ہوتے ہیں ۔ کئی کئی گھنٹے ایک ہی جگہ کھڑے گزار دیتے ہیں ۔ یہ خوبی معاشرے کی دوسری اکائیوں میں نہیں ہوتی۔ مستقل مزاجی ان کا شیوہ ہے اور پیشہ بھی۔ یہ نہ ہو تو سرمایہ کاری ان کے بس کی بات نہیں ۔ بس اور مزدا ان کی نوٹ چھاپنے کی مشینیں ہیں ۔ ڈرائیوروں سے یہ خاصی ملنساری سے پیش آتے ہیں اور انہیں اپنے سے دور نہیں ہونے دیتے، بلکہ ڈرائیور حضرات سے علیک سلیک کرنے کے لئے تو ان کی گاڑیاں رُکوا لیتے ہیں ۔ پھر سڑک پر ہی دفتر کھل جاتا ہے جو نئے نئے ڈرائیور ہوتے ہیں ان سے باقاعدہ گفتگو ہوتی ہے۔ پرانے سکے ان کی مٹھی گرم کرکے چلتے بنتے ہیں ۔
”پیٹی بھائی“ اور ”ماموں “ ان کے القابات ہیں ۔ تیسرا لقب تو ہر زبانِ خاص و عام پر ہے۔ ویسے تو ان کا فرض ٹریفک جام والی شاہراہوں پر جاکر ٹریفک رواں دواں رکھنا ہے، لیکن عموماً (بلکہ خصوصاً بھی) یہ اس جگہ نہیں ہوتے۔ پھر عوام کہتی ہے کہ یہاں ٹریفک پولیس نہیں ہے۔ بھئی جب ٹریفک ہی جام ہے تو کوئی آگے تک کیسے پہنچ سکے گا۔ ایسی صورت میں ہیلی کاپٹر استعمال کرکے سارجنٹس کو اس چوراہے تک پہنچایا جاسکتا ہے جہاں سے یہ ٹریفک کو رواں دواں رکھ سکیں ۔ لیکن یہ طریقہ بہت مہنگا ہے اور کراچی جیسے شہر کی بیسیوں مصروف شاہراہوں پر یہ طریقہ ”ناقابلِ افورڈ“ ہے۔ ویسے تو سارے ہی سارجنٹس ایک جیسے نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے یہ ایک جداگانہ برادری معلوم ہوتی ہے، خاص طور پر اپنی توند کی وجہ سے یہ معاشرے کے دوسرے افراد سے ممتاز (و مقبول) نظر آتے ہیں ۔ نوآموز سارجنٹ اس برادری میں شامل ہونے کے بعد دبلے پن سے نجات حاصل کرلیتے ہیں ، لیکن بے حد ایماندار لوگوں کے لئے یہ نسخہ کارگر نہیں ۔ ورنہ ہم بھی یہ تحریر لکھنے کے بجائے آج کسی گاڑی کا چالان کاٹ رہے ہوتے۔
یہ خاصے ذہین بھی ہوتے ہیں ۔ یہ اسی جگہ کھڑے ہوتے ہیں جہاں سے ڈرائیور انہیں د یکھ لینے کے بعد کسی گلی میں داخل نہیں ہوسکتے اور نہ ہی گاڑی ریورس کرسکتے ہیں ، لیکن جو پیٹی بھائی نئے نئے اس فیلڈ میں طبع آزمائی کرتے ہیں ، وہ ایسی جگہ جا کھڑے ہوتے ہیں جہاں فرار کے کئی راستے ہوتے ہیں اور ہوشیار مشتری باش ڈرائیور انہیں دور سے ہی دیکھ کر کسی گلی میں گھس جاتے ہیں اور یہ ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں ۔ ویسے تو ہاتھ اس وقت ملتے ہیں جب ہاتھوں میں کھجلی ہوتی ہے اور یہ دولت آنے کی نشانی سمجھی جاتی ہے، حالانکہ ایسا ہے نہیں ، اگر ایسا ہوتا تو ہم بھی (اور یہ بھی) کاغذ قلم چھوڑ کر ہاتھ مل رہے ہوتے۔
ویسے تو سفید رنگ امن کی علامت ہے، مگر ڈرائیور حضرات اس بابت سارجنٹوں سے کافی شاکی نظر آتے ہیں کہ یہ سیدھے منہ بات نہیں کرتے اور ان کا رویہ بھی خاصا جھگڑالو ہوتا ہے، حالانکہ یہی سلوک پہلے ڈرائیور اور کنڈیکٹر مسافروں سے کررہے ہوتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ایک کہاوت بھی مشہور ہے کہ جہاں دو برتن ہوں وہ کھنکتے ضرور ہیں اور ظروف کا واحد ظرف ہے۔ یہاں فاعل (سارجنٹ) اور مفعول (ڈرائیور) دونوں ہی کم ظرف ہوتے ہیں ، کیونکہ مسافروں کا دونوں ہی خیال نہیں رکھتے، لیکن کم ظرف ہونے سے یہ مطلب ہرگز ہرگز مت لیجئے گا کہ یہ دونوں برتن ہی ہیں ۔ ان دونوں کی بحثِ طولیٰ میں مسافر چپ چاپ بیٹھے رہتے ہیں اور انہی مسافروں کے لئے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔
کہہ رہا ہے موجِ دریا سے سمندر کا سکوت
جس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے
سارجنٹ حضرات تیز رفتاری پر بھی چالان کرتے ہیں ۔ اگرچہ ایک ہی گاڑی تیز دوڑ رہی ہو۔ تیز رفتاری کا چالان دو ریس لگانے والی بسوں اور کوچوں پہ لاگو نہیں ہوتا۔ (اس لئے کہ اتنی تیز رفتار بسوں کو تو یہ خود بھی نہیں روک سکتے۔ انہیں پکڑنے کے چکر میں یہ اپنے ایریا سے باہر نکل گئے تو ہوچکی ان کی کمائی)۔ حالانکہ ایک بڑا خوبصورت قانون بنایا جاسکتا ہے کہ ریس لگانے والے ڈرائیوروں کو ”گراں پری ریس آف فرانس“ میں بھیجا جاسکتا ہے اور ہم پورے وثوق سے کہنے میں حق بجانب ہیں کہ یہی ڈرائیور پہلا انعام بھی جیت سکتے ہیں ۔ مگر بات وہی ہے کہ اپنی گلی (اور سڑک) پہ تو سب ہی شیر ہوتے ہیں ۔
جس طرح تیز رفتاری پر چالان ہوتا ہے اسی طرح سست رفتاری پر بھی چالان ہونا چاہئے۔ کیونکہ ہماری قوم کے کئی قیمتی منٹ (اور ان کو جمع کیا جائے تو ہزاروں گھنٹے) بسوں میں ہی ضائع ہوجاتے ہیں ۔ سست رفتاری پر چالان کاٹنے سے تو ملکی خزانے میں اتنا روپیہ بھر جائے گا کہ سارے غیر ملکی قرضے بھی اُتر جائیں گے اور ہم خود دوسرے ملکوں کو قرضہ دے رہے ہوں گے۔
جو نئے نئے ڈرائیور بنتے ہیں وہ خوب کھیل کھیلتے ہیں ۔ صبح کو مالک سے بس پکڑتے ہیں اور شام کو کسی سارجنٹ کو بس بمع کاغذات (اوریجنل) سونپ دیتے ہیں ۔ بہرحال ہر شخص تجربوں سے ہی سیکھتا ہے۔ ایسے ڈرائیور سلام کرکرکے وقت ضائع کرتے ہیں اور حاصل حصول کچھ نہیں ہوتا، جبکہ تجربہ کار اور مایہ ناز ڈرائیور سارجنٹ کو سلامتی دے کر گزر جاتے ہیں ۔
ویسے تو اور بھی جملہ غلطیوں پر چالان کٹتا ہے جیسے بس یا مزدا کی چھت پر لوگ بیٹھے ہوئے ہوں تو چالان کاٹنا چاہئے، مگر یہاں ان کی شخصیت میں تضاد پایا جاتا ہے۔ اگر گاڑی کی چھت مسافروں سے لبا لب بھری ہوئی ہو تب تو یہ گاڑی نہیں روکتے۔ حالانکہ ایسی صورت میں حادثہ زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے، لیکن اگر اِکا دُکا مسافر چھت پر بیٹھے ہوئے نظر آئیں تو یہ چالان کاٹنے کے لئے لڑنے مرنے کٹنے پر تیار ہوجاتے ہیں ۔ یہ آئی سی سی اور اقوام متحدہ کی طرح قوانین کا دوہرا معیار اپنائے ہوئے ہیں ، جس سے انہیں گریز کرنا چاہئے اور سب کو ایک ہی لکڑی سے ہانکنا چاہئے (یہ ازبر رہے کہ چھت پر لیٹے ہوئے مسافر انہیں دکھائی نہیں دیتے)۔
قانون سے یاد آیا کہ لیڈیز کمپارٹمنٹ میں مردوں کو نہ چڑھانے اور گاڑی میں گانا نہ بجانے کا بھی ایک قانون ہے مگر تعلیم کے بعد مخلوط کھیل اور آکاس بیل کی طرح قوم کی رگوں میں پھیلتا ہوا الاپ ایسی سڑک پر دوڑ رہے ہیں جہاں نہ تو کوئی سگنل ہے اور نہ کوئی سارجنٹ اور نہ کوئی دوراہا اور واپس جانے کے لئے بھی کوئی تیار نہیں ۔ ہم بھول گئے ہیں کہ ہمیں اپنی گاڑی صراطِ مستقیم پر چلانی ہے، تبھی ہم اپنی حقیقی منزل تک پہنچ سکتے ہیں ۔ ورنہ چالان کٹتے رہیں گے اور ہم بھٹکتے رہیں گے۔

