skip to Main Content

اولڈ از گولڈ

قاسم بن نظر
۔۔۔۔۔
ماموں خوش باش اپنی دریافت کی ہوئی چیز کو”گولڈ“ قرار دینے پر بضد تھے
۔۔۔۔۔
ماموں خوش باش سے میرا دوہرا رشتہ ہے۔ ایک تو وہ میرے ماموں ہیں ۔ دوسرا میں ان کا بھانجا ہوں ۔ ایک روز انہوں نے مجھے فون کرکے فوری طور پر اپنے گھر پہنچنے کا حکم صادر کیا اور وجہ یہ بتائی کہ انہوں نے کچھ دریافت کیا ہے۔ جتنی دیر میں میں ان کے گھر پہنچا۔ راستے بھر یہی سوچتا رہا کہ وہ کون سی چیز ہو سکتی ہے جو انہوں نے دریافت کی ہے۔ 
”کہیں انہوں نے کوئی سیارہ تو دریافت نہیں کر لیا۔“
میرا یہ خیال زیادہ قوی نہیں تھا کیونکہ ماموں خوش باش گلیلیو نما انسان تو تھے نہیں ۔ اس کے علاوہ وہ چشمہ لگا کے بھی قریب کی چیزیں نہیں دیکھ سکتے تھے تو آسمان پر ستارے دور دراز کے دیکھنا تو ان کے لیے دشوار کام تھا۔ 
”ہو سکتا ہے کہ انہوں نے نیوٹن کی طرح کوئی نیا قانون دریافت کیا ہو۔“ ایسا ہونا بھی ناممکن تھا کیونکہ وہ قانون کے امتحان میں ناکام ہو چکے تھے کیونکہ انہوں نے کبھی قانون کو ہاتھ میں لینا پسند نہیں کیا۔ اسی لیے انہوں نے کبھی قانون کی کتابوں کو بھی ہاتھ نہ لگایا۔
ملک میں لاقانونیت کو بھی وہ اپنی ناکامی کی بڑی وجہ گردانتے تھے۔
اسی شش و پنج میں مبتلا میں ان کے گھر پہنچا۔ انہوں نے نہایت گرم جوشی سے استقبال کیا۔ ان کا انداز یہ تھا کہ وہ دورانِ گفتگو اپنے مخاطب کے کندھے پر ہاتھ مارتے تھے۔ اس لیے میں نے ان سے دور سے ہی بات کرنے میں عافیت جانی۔
” جی ماموں جلدی سے فرمائیے! آپ نے کیا چیز دریافت کی ہے؟“
”ارے صبر کرو! آنے میں اتنی دیر کر دی اور اب آتے ہی جلدی ہورہی ہے۔“ اتنا کہنے کے دوران ہی انہوں نے زوردار طریقے سے میرا کندھا تھپتھپایا۔
پھر وہ میرا کندھا پکڑ کر مجھے اپنے گھر میں واقع اسٹور روم لے گئے۔ میرے ناتواں کندھے پر انہوں نے اپنا پورا وزن ڈالنے کی کوشش کی تھی اور شاید اس میں کامیاب بھی رہے تھے۔ اسٹور روم میں داخل ہوئے تو میں نے کئی ایسی چیزیں دیکھیں جن کی اجاڑ صورت دیکھ کر لگتا تھا کہ ان کا برسوں سے ماموں خوش باش کے علاوہ کوئی پرسان حال نہ تھا۔ جبھی وہ اپنے منطقی انجام کو پہنچیں ۔
ان چیزوں میں پرانے اخباروں کے علاوہ دیمک زدہ کرسیاں ، الماری ، ریڈیو اور برتن وغیرہ تھے۔ 
”تو آپ نے اسٹور روم دریافت کیا ہے؟“ وہ مایوس ہوگیا۔
” نہیں بھئی ! ابھی تم نے وہ چیز دیکھی ہی نہیں جسے دیکھ کر تمہاری آنکھیں چکاچوند ہوجائیں گی۔“ میں سمجھا کہ شاید کوئی ہیرا ہو گا جسے دیکھ کر آنکھیں چکا چوند ہوجائیں گی لیکن تھوڑی ہی دیر میں انہوں نے اس راز سے پردہ اٹھا لیا۔ راز کیا تھا ایک سائیکل تھی جس پر سے انہوں نے میلا کچیلا پردہ اٹھایا تھا اور سائیکل کیا تھی سائیکل کے نام پر دھبہ تھا۔ اتنی زنگ آلود کہ لوہے پر کہیں زنگ لگنے کی جگہ نہیں بچی تھی۔ 
”تو یہ ہے وہ چکا چوند کرنے والی چیز……!!“
”ہاں ہاں ۔“ انہوں نے دو مرتبہ میرے کندھے پر زوردار ہاتھ مارا اور اپنی بات میں وزن ثابت کیا۔
”وہ کیسے ؟“
”تم نے سنا ہو گا کہ اولڈ از گولڈ۔“
”تو گویا آپ اس نمونے کو گولڈ ثابت کرنا چاہتے ہیں ؟“
”شاید…… کیونکہ اس سائیکل سے میرے بچپن کی یادیں جڑی ہیں ۔“
”مگر مجھے تو اس میں کوئی چیز جڑی ہوئی نظر نہیں آرہی۔ سب کچھ ٹوٹا پھوٹا ہے۔“
ماموں خوش باش نے میرا کندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا۔ 
”بہرحال ، اب میں اسے جیسے ہے جہاں ہے کی بنیاد پر فروخت کرنا چاہتا ہوں ۔“
” پھر تو آپ بعد از فروخت سروس کی ضمانت بھی دیں گے۔“
”تم میرا مذاق اڑا رہے ہو۔“ ماموں خوش باش پریشان ہو گئے لیکن اس پریشانی کے عالم میں بھی انہوں نے میرے کندھے پر دو تین ہاتھ جڑ دیے۔
” کیا میں آپ کا آئندہ کا لائحہ عمل جان سکتا ہوں ؟“
” ٹھکانے لگانا ہے۔“
”ہوش؟“
”ہوش نہیں ، سائیکل کو ٹھکانے لگانا ہے۔“
”کہاں ؟“
”یہی تو سوچنے کے لیے تمہیں بلایا ہے۔“ کندھے پر حملے کا عمل بدستور جاری تھا۔
”میرا خیال ہے کہ اس کو کباڑیئے کے ہاتھوں فروخت کر دیا جائے۔“ میں نے اپنی عقل کے مطابق ایک دانشمندانہ فیصلہ کیا۔
” کیا تم اس اولڈ از گولڈ کو کباڑیئے کے ہاتھ فروخت کرنا چاہتے ہو۔ حالانکہ اتنی پرانی چیزوں کی جگہ عجائب گھر میں ہی ہوتی ہے۔“
” عجائب گھر والے اسے مفت میں بھی نہ لیں گے جبکہ کباڑیا اس لوہے، میرا مطلب ہے اولڈ از گولڈ کے کچھ پیسے تو دے ہی دے گا۔“ میری دلیل سن کر ماموں خوش باش متفق ہو گئے۔
ایک کباڑوالا آیا اور جب اسے وہ نادرو نایاب چیز دکھائی گئی تو وہ کہنے لگا:
”ارے بھئی مذاق کے لیے ہم ہی رہ گئے تھے۔ اب تو میں ٹین ڈبوں کے بجائے کمپیوٹر کے اسپیئر پارٹس خریدتا ہوں ۔“
”اسپیئر پارٹس نہیں ، ہارڈ ویئر کہو۔“ میرے اعتراض پر کباڑیا بولا۔ ” مجھے بے وقوف مت بناؤ۔ میں نہیں جانتا کیا کہ ہارڈویئر کی دکان پر کیلیں ، ہتھوڑا، پانا، پلاس وغیرہ ملتا ہے۔“
کباڑ والا اس سودے پر مزید کوئی گفت و شنید کیے بغیر چلا گیا۔ ماموں خوش باش سنجیدہ ہو گئے۔ انہوں نے کچھ کہنے کے لیے پھر میرے کندھے پر ہاتھ رکھا تو میں بولا۔ ”ماموں ! کیا آپ نہیں چاہتے کہ میرے قداور نشوو نما میں اضافہ ہو۔“
” بیٹاایسی تو کوئی بات نہیں ۔“
” پھر آپ میرے کندھے پر بار بار اتنا پریشر کیوں ڈالتے ہیں ۔ اتنا پریشر تو پریشر ککر میں بھی نہیں ہوتا۔“
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے میرے دائیں کندھے سے ہاتھ اٹھا کر بائیں کندھے پر رکھ دیا۔ پھر کہنے لگے۔ ” اب تم بتاؤ کہ اس سائیکل کا کیا کیا جائے؟ گھر میں پڑے پڑے زنگ لگ گیا ہے۔اگر اب بھی اسے صحیح قیمت پر نہ بیچا تو اگلے دس سالوں میں اس کے دو پیسے بھی نہ ملیں گے۔“
میں نے کہا۔ ” اگر اسے ہم دونوں کے علاوہ کوئی گولڈ تسلیم کر لے تو ہم اسے صرافہ بازار لے جاتے ۔“
”تو گویا تم مان گئے کہ اولڈ از گولڈ۔“ ماموں فتح یاب ہو گئے ورنہ اگر وہ میرے کندھے پر دباؤ نہ ڈالتے تو میں کبھی بھی زنگ آلود لوہے کو گولڈ ماننے کے جرم کا ارتکاب نہ کرتا۔
میں نے کہا۔ ” ارے یاد آیا!! نیپا چورنگی کے فلائی اوور کے نیچے ایک کچی بستی ہے۔ وہاں پر بڑا بڑا لکھا ہوا ہے کچرا دو سو نا لو۔“
”ارے تو پہلے کیوں نہیں بتایا۔“ اس مرتبہ تو انہوں نے اتنی زور سے ہاتھ مارا کہ میرا کندھا اترتے اترتے رہ گیا۔ ” ہم اپنے گھر کا کچرا ہمیشہ باہر پھینک دیتے ہیں ۔ اگر وہیں لے چلتے تو کچھ سونا تو ملتا۔ لیکن ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا۔ یہ سائیکل لے چلتے ہیں ۔ مجھے یقین ہے کہ اگر کچرے کے بدلے سونا مل سکتا ہے تو یہ تو پھر بھی کام کی سائیکل ہے۔ “
” اور اولڈ از گولڈ ہے۔“ میں نے ان کی قرارداد پاس کر دی اور اولڈ از گولڈ پر آخری مہر ثبت کر دی۔
نیپا چورنگی تک جانے کے لیے ہم نے ایک ٹیکسی پکڑی۔ راستے بھر لوگ سائیکل کودیکھ کر ہمیں عجیب و غریب نظروں سے گھورتے رہے مگر ماموں خوش باش بہت خوش نظر آرہے تھے۔
بہرحال کچرا بازار پہنچ کر ماموں نے سائیکل کو بیچنے کے لیے لوگوں سے بات کی تو لوگوں نے آنکھیں پھیر لیں ۔ بہت سے لوگوں نے تو یہی کہا کہ ہم تو اس کو فری میں بھی نہ لیں ۔
ماموں خوش باش غصے میں کہنے لگے۔ ” اس کے کوئی دام نہیں لگیں گے۔ یہ اس سائیکل کی توہین ہے۔“
”اور میری بھی۔“ میں نے کہا تو وہ بولے۔ ”تمہاری توہین کہاں سے ہوئی ۔ تمہاری سائیکل تھوڑی ہے۔“
ماموں خوش باش اس سائیکل کو سونے کے بھاؤ خریدنے کی اپیل کرتے رہے۔ میں نے کہا:
”ماموں مجھے تو لگتا ہے کہ آپ کی منت سماجت کا کوئی پھل نہ ملے گا۔“
”ارے برخوردار ! “ میں ان کی پہنچ سے دور تھا مگر ان کے ہاتھ قانون کی طرح لمبے تھے۔ جو میرے کندھے تک پہنچ جاتے۔ ” ہمتِ مرداں مددِ خدا۔ اور ہم یہاں پھل لینے نہیں ، سونا لینے آئے ہیں ۔“
میں نے جھنجلا کر کہا۔ ”تو کیا آپ واقعی سونے کے چکر میں اتنی مغز ماری کر رہے ہیں ؟“ انہوں نے چونک کر کہا۔ ” تم ہی تو یہ کہہ کر مجھے یہاں لائے ہو۔ کچرا دو سونا لو۔“
”مگر اس کا مطلب تو یہ تھا کہ چیز اچھی ہو گی تو دام اچھے ملیں گے۔ یہ کوئی صرافہ بازار تھوڑی ہے۔ اب جلدی سے اس کا پیچھا چھوڑیں ۔“
ماموں نے ہار مان لی اور ایک کباڑیئے کو وہ سائیکل پچاس روپے میں فروخت کر دی مگر اس سودے میں بھی انہوں نے خوب بارگیننگ کی۔
واپسی میں وہ مجھ سے کہنے لگے۔ ”ارے یار! تم نے مجھے ماموں بنا دیا۔“
اب میں انہیں کیا بتاتا کہ وہ تو پہلے ہی سے میرے ماموں ہیں ،میں انہیں مزید کس طرح ماموں بنا سکتا تھا؟
٭……٭
Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top