skip to Main Content

ادھورا منصوبہ

قاسم بن نظر
۔۔۔۔۔
بھئی آپ کا کیا بھروسہ اگر اس دوران آپ کسی گہرے فلسفے میں ڈوب گئے تو……
۔۔۔۔۔
اس مرتبہ میں چچا فلسفی کے گھر گیا تو انہیں گہری سوچ میں غرق پایا۔ کبھی وہ سر تھامے اتنے گم صم ہوجاتے جیسے کہ سانس بھی نہ لے رہے ہوں۔ کبھی حسب روایت کمرے میں دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں جو گنگ کرنے لگتے۔ کبھی بے چاری میز پر پاؤں رکھ کر بیٹھ جاتے۔ آخر مجھ سے رہا نہ گیا اور پوچھا:
”کیا ہوا چچا فلسفی؟ کوئی چیز گم ہو گئی ہے جو آپ اتنے گم صم بیٹھے ہیں۔“ جواب میں انہوں نے مجھے بلی کی طرح گھورنے پر اکتفا کیا۔ ان کی آنکھیں خالی خالی سی دکھائی دیں۔ نہ ان میں کوئی جواب تھا نہ آنسو۔
میں نے پھر پوچھا۔ ”کیا چچی نے کچھ کہہ دیا۔“ 
جواب ندارد۔
میں نے سوچا کہ شاید وہ کوئی فلسفہ ”گھڑنے“ لگے ہیں مگر ایسا ہونے کے امکانات زیرو فی صد تھے کیونکہ وہ فلسفے کے نام پر شور و غوغا کرکے سکون غارت کر سکتے تھے مگر یہ پراسرار خاموشی اپنے اندر کوئی گہرا راز (یا فلسفہ) سموئے ہوئے تھی۔
میں نے بھی ہار نہ مانی اور کہا۔ ”چچا فلسفی! اگر آپ کہیں تو میں آپ کے غم یا خوشی میں برابر کا حصہ دار بن جاؤں۔ میرا مطلب ہے شریک ہوجاؤں۔“
چچا فلسفی میرے قریب آکر بیٹھ گئے اور رازداری میں کہنے لگے۔ ”آج میں اپنی زندگی کا اہم ترین فیصلہ کرنے والا ہوں۔“
”کک کیا؟“ میری زبان لڑکھڑا گئی۔ ”یعنی کہ…… آپ شادی کرنے والے ہیں۔“
”حد ادب گستاخ……“ چچا فلسفی یکدم فارم میں آگئے۔ ”یہ تم نے کیسے سوچ لیا؟“
”آپ ہی نے تو اہم فیصلہ کرنے کو کہا ہے۔ میں نے تو ہمیشہ یہی سنا ہے کہ شادی زندگی کا اہم فیصلہ ہوتا ہے۔“
چچا فلسفی غصے میں آگئے (گویا میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا) وہ بولے۔ ”زندگی میں اور بھی اہم فیصلے ہوتے ہیں۔“
میں نے کہا ”مثالوں سے ثابت کیجئے۔“
”ابھی مجھے ایک گہرا مسئلہ درپیش ہے اور مسئلوں کے درمیان مثالیں مت مانگا کرو۔“
میں نے کہا۔ ”کیسا مسئلہ؟ کیسا فیصلہ؟ کچھ بتائیے تو سہی۔“
چچا فلسفی بولے۔ ”میں نے کچھ سیکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔“
میں حیرت زدہ رہ گیا۔ وہ تو ہمیشہ سکھانے کی باتیں کرتے تھے اور آج خود کچھ سیکھنے جا رہے ہیں۔ میں نے حیرت سے پوچھا۔ ”آپ کیا سیکھنا چاہتے ہیں۔“
چچا فلسفی بولے۔”بھئی یہ راز کی بات ہے۔ دوچار لوگوں کو اور آنے دو پھر بتاؤں گا۔“
یہ توجیہہ سن کر میں پھر حیران رہ گیا۔
تھوڑی دیر میں چچا فلسفی کا مختصر سا حلقہ احباب آگیا۔ یعنی دلشاد خانپوری اور پروفیسر نقاد پوری آٹپکے۔
میں نے کہا۔ ”چچا فلسفی! اب تو آپ بھانڈا پھوڑ دیجئے کہ آپ کیا سیکھنے والے ہیں۔“
دلشاد خانپوری بولے۔ ”بھئی تم میتھ سیکھ لو۔ کیونکہ تمہارا میتھ بہت کمزور ہے تمہاری طرح…… اور میتھ سیکھنے کے بعد تم ٹیوشن پڑھا کر چار پیسے بھی کما سکتے ہو۔“
”ارے اب چار پیسے کا زمانہ کہاں؟“ چچا فلسفی دکھ سے بولے۔ ”اور ویسے بھی میتھ سے تو مجھے خدا واسطے کا بیر ہے۔“
پروفیسر نقاد پوری نے کہا۔ ”تو بھئی فلسفی صاحب! آپ انگلش سیکھ لیجئے۔ انگلش سیکھنے کے بعد آپ اندرونِ ملک کے علاوہ سات سمندر پار جا کر بھی اپنا فلسفہ انگلش میں بیان کر کے دوسروں کا دماغ کھا سکتے ہیں۔“
چچا فلسفی نے سر کھجاتے ہوئے کہا۔ ”نہ بھائی نہ! انگلش سیکھنے سے نہ مجھے کوئی خاطر خواہ اضافہ ہوگا تو دوسروں کی لاعلمی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ کیونکہ دوسرے تو انگلش زبان سے نابلد ہوں گے اور مجھے بھی انگلش سیکھتے سیکھتے نہ جانے کتنا عرصہ لگے۔ اس وقت تک تو……“
میں نے ہمیشہ کی طرح ان کے منہ پر ہاتھ رکھ کر انہیں خاموش کرایا۔ دلشاد خانپوری بولے:
”تو اس سے اچھی کیا بات ہوگی! ابھی بھی لوگ کون سا آپ کی بات سمجھ پاتے ہیں۔“
چچا فلسفی نے انگلش سیکھنے کا منصوبہ بھی رد کر دیا۔ نقاد پوری نے کہا۔ ”تو پھر آپ تاریخ سیکھ لیں۔ آپ اکثر تاریخ بھول جایا کرتے ہیں۔“
چچا فلسفی فلسفیانہ لہجے میں بولے۔ ”میں ہی کیا؟ یہاں تو پوری قوم ہی اپنی تاریخ بھولی ہوئی ہے۔“ میں نے پھر ان کے منہ پر ہاتھ رکھا کہ کہیں پھر ان کے منہ سے فلسفہ پھول کی طرح نہ جھڑنے لگے۔
میں نے کہا ”چچا فلسفی! اب آپ بتا ہی دیجئے۔ آپ ”خود سے“ کیا سیکھنے والے ہیں۔“
چچا فلسفی نے ٹھنڈی آہ بھر کر کہا۔ (ٹھنڈی آہ بھرنا بھی ان کا تکیہ کلام تھا) ”میں نے……“
میں ہمہ تن گوش ہو گیا۔ 
”میں نے……“
اب کی بار دلشاد خانپوری نے اپنے کان چچا فلسفی کے ہونٹوں کے قریب کر لیے۔
”میں نے……“
نقاد پوری نے سانسیں روک لیں کہ چچا فلسفی کچھ آگے کہیں اور وہ فوراً سن لیں۔
آخر چچا فلسفی نے کہا۔ ”میں نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔“
یہ سنتے ہی چچا فلسفی کے علاوہ کمرے میں موجود باقی ماندہ افراد کی ہنسی چھوٹ گئی۔ دلشاد خانپوری تو زمین پر پیر مارمار کر ہنسنے لگے۔ نقاد پوری کی آنکھوں میں ہنستے ہنستے خوشی کے آنسو آگئے۔
چچا فلسفی بولے ”اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے؟“
پروفیسر نقاد پوری بولے۔ ”کچھ نہیں۔ ہم سمجھے کہ آپ نے تو کوکنگ سیکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم آپ کو تصور میں کوکنگ کرتے ہوئے دیکھ کر ہنس رہے ہیں۔“
”میں نے ڈرائیونگ سیکھنے کا کہا ہے۔“
”یہ سوچ کر تو اور بھی ہنسی آرہی ہے۔“دلشاد خانپوری تو ہنسی سے بے قابو ہو گئے۔
چچا فلسفی غصے سے بولے۔ ”اتنا مت ہنسو کہ بتیسی باہر آجائے۔“
پروفیسر نقاد پوری نے کہا۔ ”ہمارے منہ میں نقلی بتیسی نہیں لگی ہوئی۔ اصلی دانت ہیں کیلشیم اور فلورائیڈ کے۔“
چچا فلسفی نے کہا۔ ”مگر اصلی بتیسی بھی باہر آسکتی ہے اگر میں ایک فولادی گھونسا تمہارے جبڑوں پر جڑ دوں۔“
دلشاد خانپوری نے کہا۔ ”بھئی مجھے تو فکر لاحق ہو رہی ہے کہ آپ کے ڈرائیونگ سیکھنے کے بعد (اور دوران)…… ٹریفک حادثات کی شرح میں خدانخواستہ …… غیر معمولی اضافہ نہ ہوجائے۔“
”بھلا وہ کیسے؟“ چچا فلسفی نے اپنی ہتھیلی تھوڑی کے نیچے اور کہنی، ران کے اوپر رکھ کر پوچھا۔
”بھئی آپ کا کیا بھروسہ؟ کار چلاتے ہوئے آپ کسی گہرے فلسفے میں ڈوب گئے اور فلسفے کی طرح کار بھی آپ کے کنٹرول سے (یا آپ کار کے کنٹرول سے) باہر آجائیں۔ تو کیا ہوگا؟“دلشاد خانپوری نے کہا۔ 
پروفیسر نقاد پوری بھی کہاں پیچھے رہنے والے تھے۔ وہ بولے: 
”اور کبھی کبھار…… بلکہ اکثر و بیشتر آپ نے سرکاری تنصیبات پر کار چلا دی(روڈ پر چلانے کے بجائے)…… تو قوم کب تک ان نقصانات کا خمیازہ بھگتے گی۔“
میں نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے اور کہا۔ ”اور چچا فلسفی! آپ کو ڈرائیونگ لائسنس بھی بنوانا پڑے گا اور اس ضمن میں آپ کو بڑا خرچہ کرنا پڑے گا۔“
دلشاد خانپوری نے میری بات کی تائید کرتے ہوئے کہا: 
”اور آپ تو سرکاری اداروں کا بار بار چکر لگانے سے باز رہے۔ کسی معمولی کلرک نے آپ کو جی بھر کر لوٹ لیا تو آپ الٹا ہمیں ہی لعنت ملامت کرتے رہیں گے کہ ہم نے آپ کو صحیح مشورہ نہیں دیا۔“
میں نے کہا۔ ”کب آپ ڈرائیونگ سیکھیں گے؟ کب آپ کا ڈرائیونگ لائسنس بنے گا؟“ یہ معاملہ سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔“
”تم لوگ میری حوصلہ شکنی کررہے ہو۔“ چچا فلسفی خفا ہو گئے۔ 
”ہمارا تو کام ہی ہے دشمن کے مذموم عزائم کی حوصلہ شکنی کرنا۔“ یہ دلشاد خانپوری تھے۔
چچا فلسفی بولے۔ ”لیکن تم لوگوں نے میری آگے کی پلاننگ تو سنی ہی نہیں۔“
”لو بھئی!“ پروفیسر نقاد پوری نے کہا۔ ”اب اور بھی کچھ سنانا باقی رہ گیا ہے (اتنی بے عزتی کے بعد بھی)۔“
”خیر فرمائیے۔“ دلشاد خانپوری نے کہا۔ ”کیا ہے آپ کی آگے کی پلاننگ؟“
چچا فلسفی (اور ہم سب) سنبھل کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے۔ ”میرا ارادہ ہے کہ ڈرائیونگ سیکھنے کے بعد دوسروں کو بھی ڈرائیونگ سکھاؤں۔“
”لیجئے! یک نہ شد دو شد۔“ پروفیسر نقاد پوری نے کہا تو دلشاد خانپوری بولے۔”آپ نے محاورہ غلط جگہ فٹ کیا ہے۔“
پروفیسر نقاد پوری بولے۔ ”کیا آپ کو میری سمجھ بوجھ پر شک ہے؟“
میں نے کہا۔ ”رہنے دیجئے، پہلے ہم ایک گتھی سلجھائیں۔“
”کون سی گتھی؟“ چچا فلسفی نے بھولپن سے کہا۔ 
دلشاد خانپوری نے کہا۔ ”میں نے پروفیسر نقاد پوری کو منع بھی کیا تھا کہ محاوروں کے چکر میں مت پڑنا۔“
چچا فلسفی نے کہا۔ ”تو طے ہو گیا، میں جلد از جلد ڈرائیونگ سیکھوں گا تاکہ چھٹیاں ضائع نہ ہوں۔“
میں بولا۔ ”مگر آپ تو اسٹوڈنٹ نہیں ہیں۔“
”تو چھٹیاں تو ہیں نا۔ چاہے کسی کی بھی ہوں۔“ چچا فلسفی اپنی ضد پر اڑے رہے۔ ”اور ہاں ڈرائیونگ سیکھنے سے صرف مجھے ہی نہیں بلکہ تم لوگوں کو فائدہ ہو گا۔ میں تم لوگوں کو بھی پک اینڈ ڈراپ کی سہولت دوں گا۔“
دلشاد خانپوری نے کہا۔ ”تو پھر جب آپ گھر سے نکلیں تو ہمیں فون کر دیجئے گا کہ آپ کی گاڑی کون سے روٹ سے گزرے گی تاکہ ہم بس اسٹاپ پر آکر کھڑے ہوجائیں۔“
یہ بات چچا فلسفی کی فلسفیانہ ذہنی سطح کو چھوڑے بغیر گزر گئی۔ ورنہ وہ دلشاد خانپوری کو ایک ہاتھ ضرور لگاتے۔
ایک مہینہ گزرنے کے بعد نہ تو چچا فلسفی نے کوئی دعوت دی نہ ہمیں اپنی گاڑی میں سیر کو لے گئے اور نہ ڈرائیونگ سیکھ سکے۔ ان کی ناکامی کے ذمہ دار ان کے فلسفے تھے جو انہوں نے اپنے ڈرائیونگ انسٹرکٹرز کو سنائے۔ چچا فلسفی کے فلسفوں سے تنگ آکر تو ایک صاحب نے اپنا ڈرائیونگ اسکول ہی دوسرے شہر میں شفٹ کر لیا تاکہ چچا فلسفی ادھر کا رخ بھی نہ کریں۔ 
چچا فلسفی کو ایک مرتبہ کار میں بیٹھا دیکھ کر دلشاد خانپوری نے تو ایک محاورہ ہی بدل دیا اور کہا۔ ”چچا فلسفی کے ہاتھ میں اسٹیئرنگ آگیا (جیسے بندر کے ہاتھ میں ناریل)۔“
بہرحال چچافلسفی کسی اچھے ڈرائیونگ انسٹرکٹر کی تلاش میں ہیں (اور اچھا تو وہی ہوگا جو دورانِ سفر چچا فلسفی کے فلسفے بھی سن سکے) مگر اس طرح چچا فلسفی شاید ہی کبھی گاڑی چلانا سیکھ پائیں۔
٭……٭……٭
Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top