skip to Main Content

کام آئی میز

کلیم چغتائی
۔۔۔۔۔
ہم نے اچھی سی اک منگائی میز
اور بڑے شوق سے بچھائی میز
وزن اس کا بہت زیادہ ہے
چار افراد نے اٹھائی میز
اتنی لمبی ہے اور چوڑی ہے
آدھے کمرے میں ہے سمائی میز
تھی جگہ کم اسی لیے ہم نے
ایک دیوار سے ملائی میز
ہیں بنے پھول ، اس کے پایوں پر
پیارے پھولوں سے جگمگائی میز
اس میں ہے ساگوان کی لکڑی
خوب ترکھان نے بنائی میز
دیکھنے آگئے پڑوسی بھی
جس نے دیکھی، اسے ہے بھائی میز
پوچھتا ہے ہر اک سوال یہی
کتنے میں لائے ہو یہ بھائی، میز؟
ہے جو شفاف میز پوش اس پر
اس نے بالکل نہیں چُھپائی میز
اس پہ گل دان رکھ دیے ہم نے
اور پھولوں سے ہے سجائی میز
اس پہ مہمان کھانا کھاتے ہیں
جب بھی دعوت ہو، کام آئی میز
میں تو کرتا ہوں ہوم ورک اس پر
ساتھ میرے کرے پڑھائی میز!
جب بھی امی پڑھیں قرآن اس پر
ایسا لگتا ہے، مسکرائی میز!
مہرباں رب کا شکر ہے بے حد
جس نے ہم کو ہے یہ دلائی میز
Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top