چالاک لومڑی
کلیم چغتائی
۔۔۔۔۔
لومڑی ہوں چالاک نہایت
سن لو میری آج حکایت
ہوتی ہوں میں دنیا بھر میں
جنگل میں ، صحرا میں گھر میں
گُر ایسے بخشے ہیں رب نے
لوہا میرا مانا سب نے
آسانی سے رات میں دیکھوں
چھوٹے جانوروں کو پکڑوں
ارضی مقناطیسی لہریں
میری دوست معاون ٹھہریں
لہریں مجھ کو راہ سُجھائیں
وار مرے خالی نہ جائیں
مینڈک، ٹڈے ، چوہے کھاؤں
پھل بھی سارے چٹ کر جاؤں
مرغی بطخیں لے جاتی ہوں
کیڑے مکوڑے بھی کھاتی ہوں
کوئی صدا جو دُور سے پہنچے
یا گہرائی سے وہ ابھرے
آسانی سے سُن لیتی ہوں
اپنا کھانا چُن لیتی ہوں
کارآمد یہ ناک مری ہے
ڈھونڈوں جو خوراک چھپی ہے
شوق مجھے ہے گیند سے کھیلوں
ہرنوں کو بھی ساتھ ملاؤں
گیند چرا کر لاتی ہوں میں
کھیل میں پھر لگ جاتی ہوں میں
دوڑ لگانے میں ہے مہارت
تیروں جب پڑ جائے ضرورت
گھر میرا دھرتی کے اندر
چھوٹا سا ہے میرا ٹبر
پیڑ پہ بھی میں سوجاتی ہوں
نیند میں پھر میں کھو جاتی ہوں
Facebook Comments

