نادان بھُتنا
کہانی: The Stupid Goblin
مصنفہ: Enid Blyton
مترجم: محمد الیاس نواز
۔۔۔۔۔
ایک دن چٹاخ اور پٹاخ نامی دو بونے، لال بھُتنے کے تالاب پر مچھلیاں پکڑنے گئے۔ انہوں نے ابھی تین ہی مچھلیاں پکڑی تھیں کہ لال بھُتنا آیا اور ان پر جھپٹ پڑا۔’’آہاہاہا!‘‘وہ چلایا۔’’تم میرے ہتھے چڑھ گئے ہو! اب میں تمہیں اپنے گہرے اور تاریک غار میں قید کر دوں گا۔‘‘
وہ انہیں گھسیٹنے لگا۔ابھی تھوڑاہی فاصلہ طے کیا تھا کہ چٹاخ زور زور سے رونے لگا۔’’میرا جال وہیں رہ گیا ہے، ارے میرا بالکل نیا جال تھا۔‘‘
’’اچھا! جائو اور جلدی سے لے کر واپس آئو!‘‘بھُتنے نے غضب ناک نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہااور چٹاخ نے دوڑ لگا دی۔ لیکن آپ کو اندازہ ہو چکا ہوگا کہ وہ واپس نہیں آیا۔
’’مجھے لگتا ہے وہ راستہ بھول گیا ہے اور ہمیں تلاش نہیں کر پا رہا۔‘‘پٹاخ نے کہا۔’’میں جا کر اسے لے آئوں؟‘‘بھُتنے نے اسے بھی جانے دیا اورآپ نے بالکل درست اندازہ لگا یاہے، وہ بھی واپس نہیں آیا۔
اگلے ہفتے دونوں بے وقوف بونے ، بھُتنے کے باغ سے نیلی گھنٹی والے پھول توڑنے جا پہنچے۔بھُتنے نے دوبارہ جھپٹا مار کے انہیں پکڑ لیا۔
’’آہا!!‘‘ وہ چلایا۔’’اس بار میں تمہیں احتیاط سے لے جائوں گا اورجا کر بند کردوں گا۔‘‘ وہ انہیں گھسیٹتا جا رہا تھا اور وہ دونوں رونا پیٹنا مچا رہے تھے۔اچا نک پٹاخ نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پیٹنا شروع کردیا۔’’ارے، میں اپنی ٹوپی جنگل میں ہی بھول آیا ہوں۔مجھے لُو لگ جاتی ہے۔ مجھے پتا ہے، آج تو مجھے لازمی لُو لگے گی…‘‘
’’یہ چال تو تم پچھلی بار بھی چل چکے ہو!‘‘بھُتنے نے ٹھہرتے ہوئے کہا۔’’میںنے تم میں سے ایک کو جانے دیا تو وہ راستہ بھول جائے گا۔ دوسرا سے تلاش کرنے جائے گا اور پھر واپس نہیں آئے گا۔‘‘
’’اچھا تو پھر ہم دونوں ساتھ ہی چلے جاتے ہیں۔‘‘پٹاخ بولا۔’’اس طرح ہم راستہ بھی نہیں بھولیں گے۔‘‘
’’تو جائو اور جلدی واپس آنا!‘‘بھُتنے نے حکم دیا۔’’ میں یہیں پرتمہارا انتظار کرتا ہوں۔‘‘دونوں بونے چلے گئے اور بھُتنا آدھی رات تک انتظار ہی کرتا رہا۔وہ دونوں گھر جا کربستروں میں آرام کر رہے تھے۔
چند ہی دن گزرے تھے کہ احمق بونے، لال بھُتنے کے سبزہ زار میں کھلنے والے جنگلی گلاب کے پہلے پھول کو توڑنے چل پڑے۔وہ تو پہلے ہی ان کے انتظار میں تھا۔ اس نے بھاگ کر انہیں دبوچا اور بے ساختہ خوشی کے مارے قہقہے لگانے لگا۔’’اس بار میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔‘‘ اس نے چلاتے ہوئے کہا۔
لیکن اس سے پہلے کہ وہ زیادہ فاصلہ طے کرتے ، چٹاخ نے ایک ایک کرکے دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈالے جیسے کچھ کھو گیاہو اور پھر زور زور سے رونا پیٹنا شروع کردیا۔’’اب کیا بات ہے؟‘‘ بھُتنے نے بے صبری سے پوچھا۔
’’میرا پیسوں سے بھرا بٹوہ جھاڑی کے نیچے رہ گیا ہے۔‘‘ چٹاخ نے روتے ہوئے کہا۔’’ارے…! اب کیا کروں؟‘‘
’’اوہو!‘‘ بھُتنے نے ٹھہر کر چٹاخ کی طرف عیارانہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔’’تو تم ایک بار پھر مجھ سے وہی پرانی چال چلنے کی کوشش کر رہے ہو۔ ہے نا؟تم بٹوہ لینے کے بہانے واپس جانا چاہتے ہو تاکہ گھر فرار ہو سکو۔نہیں بونے نہیں!تم میرے جیسے بڈھے بھُتنے کو تیسری مرتبہ وہی فریب نہیں دے سکتے۔میں تمہیں سہ بارہ نہیں جانے دوں گا…میں خود وہ بٹوہ لینے جا رہا ہوں، تب تک تم یہیں رکو گے، ہاہاہاہ…اب تمہیں پتا چلے گا کہ میں تم سے زیادہ چالاک ہوں۔‘‘
وہ واپس جھاڑی کی طرف بھاگا اور وہاں جا کر بے کار میں کافی دیر بٹوہ تلاش کرتا رہا۔جب وہ واپس اس جگہ پہنچا جہاں اس نے بونوں کو چھوڑا تھا تو وہ جا چکے تھے۔بے چارہ بوڑھا بھُتنا…وہ اتنا بھی چالاک نہیں تھا…ہے نا؟

