skip to Main Content

دودھ اور روٹی

کہانی: The Bread and Milk
مصنفہ: Enid Blyton
مترجم: محمد الیاس نواز
۔۔۔۔۔

بِنکل نامی بلونگڑے نے ایک دن بڑا ہنگامہ کھڑا کیا۔اس نے دودھ اور روٹی جیسی عمدہ نعمت کو دیکھ کر ناک بھوں چڑھائی جو اس کی مالکن نے اس کے ناشتے کے لیے رکھی تھی۔دراصل وہ مچھلی کھانا چاہتا تھا۔
’’آج دو پہر میں تمہیں مچھلی مل جائے گی۔‘‘ اس کی مالکن نے کہا۔’’اب ٹھیک سے ناشتہ کر لو۔‘‘ مگر بِنکل منہ پھلائے ایک کونے میں جا کر بیٹھ گیا۔کناروں تک بھری ہوئی دودھ اور روٹی کی رکابی برآمدے میں رکھی ہوئی تھی ۔
جلد ہی لال چڑیاکو اس کا پتا چل گیا۔وہ نیچے اتر ی اور بھیگی ہوئی روٹی کا ایک بڑا ساٹکڑا اٹھا لیا۔ چار دیسی چڑیوں نے جب اسے دیکھا تو وہ بھی اڑتی اڑتی نیچے اتر آئیں اور اس کے ساتھ شامل ہو گئیں۔لال چڑیا دوسروں کے ساتھ کھانا پسند نہیں کرتی تھی ، اس لیے وہ اڑ گئی۔دیسی چڑیوں نے روٹی کے ٹکڑے اپنی طرف کھینچ لیے اور ایک مزیدار ناشتے کا لطف اٹھایا۔دوسری چڑیوں نے جب انہیں خوشی سے چہچہاتے سنا تو وہ بھی آکران کے ساتھ شامل ہو گئیں۔
قریب ہی برآمدے کے کنارے ایک چھوٹا سا بل بنا ہوا تھا۔ اس بل میں سے ایک چھوٹے سے چوہے نے جھانکا اور اپنی ننھی سی ناک سے سونگھنے کی کوشش کرنے لگا۔اصل میں وہ خوشبوسونگھ کر اندازہ لگانا چاہتا تھا کہ دودھ اور روٹی عمدہ ہیں کہ نہیں۔اسے ان کے خوش ذائقہ ہونے کا یقین ہوگیا تووہ بھی بھاگتا ہوا رکابی کے پاس آگیا۔چڑیاںناشتے کی رکابی بھورے رنگ کے ننھے چوہے کے لیے چھوڑ کر خود مٹی میں نہانے کے لیے اڑ گئیں ۔چوہاروٹی کو بڑی نزاکت کے ساتھ کترتے ہوئے سوچنے لگا کہ روٹی کے ٹکڑے کو کس چیز نے اتنا لذیذ بنایا ہے …اور یہ کہ آج اسے کتنا مزے دار ناشتہ کرنے کو ملا ہے۔
دروازے کے قریب اگی جھاڑی میں ہونے والی ہلکی سے ہلچل نے اسے چونکا دیا۔وہ یہ سوچ کر جلدی سے بھاگ کھڑا ہوا کہ شاید بِنکل بلونگڑا ہی وہاں چھپا بیٹھا ہے۔مگر وہ بوڑھا خار پشت تھا جو وہیں باغ میں ہی رہتا تھا اور جب بھی اسے بھنورے،گھونگھے یا کیڑے نظر آتے، انہیں کھا جاتا۔ اس نے بھی دودھ اور روٹی کی خوشبو سونگھ لی تھی ۔اسے بھی سب سے زیادہ اگر کوئی چیز پسند تھی تو وہ دودھ اور روٹی سے بھری رکابی تھی۔
وہ رکابی کی طرف لپکا، اپنی آسانی کے لیے اسے تھوڑا سااوپر اٹھایا اور پھر کھانے لگا۔اس نے بھی بے حد لطف اٹھایا۔ وہ روٹی کاایک کے بعد ایک ٹکڑا کھاتا رہا اور اس وقت تک نہیں رکا جب تک کہ رکابی خالی نہیں ہو گئی۔پھر اس نے اپنی چھوٹی سی لال زبان نکالی، اپنے ہونٹوں پر اچھی طرح پھیری اورخوشی سے ہنکارا بھرتا ہوا چلا گیا۔
اسی وقت اسے چلنے کی آواز سنائی دی اور کتا اوپر آتا دکھائی دیا۔ خار پشت جو دنیا کے کسی جانور سے نہیں ڈرتا، واپس جھاڑی میں چلا گیا اور سونے کے لیے انگڑائیاں لینے لگا۔کتا اسے اچھی طرح جانتا تھا اسی لیے اس نے اسے اکیلا چھوڑ دیا۔ کتے نے چاروں طرف سے اچھی طرح رکابی کو چاٹا۔ بدقسمتی سے اس کے لیے روٹی کا ایک بھی ٹکڑا نہیں بچاتھا اور دودھ کا بھی صرف ایک ہی قطرہ موجود تھا۔بہرحال وہ ہر قیمت پر رکابی کو چاٹ چاٹ کر خشک کرنا چاہتا تھا…اور اس نے یہی کیا۔
اب بِنکل بلونگڑے کو شدید بھوک محسوس ہونے لگی۔وہ یہ سوچ کر ناشتہ ڈھونڈنے نکلا کہ دودھ اور روٹی اتنی بھی بری نہیں تھی… لیکن جب وہ رکابی کے پاس آیا تو وہ خالی تھی۔
’’کچھ تو ہم نے لے لیا۔‘‘ لال چڑیا اور دیسی چڑیوں نے ڈھٹائی سے کہا۔’’کچھ میں نے کھا لیا۔‘‘ ننھے چوہے نے باہرجھانکتے ہوئے کہا۔’’باقی میں کھا گئی۔‘‘ خار پشت نے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہا۔’’اور میں نے رکابی کو چاٹ لیا۔‘‘ کتا بولا۔
’’تم لالچی مخلوق!‘‘ بِنکل غصے سے چلایا۔’’ یہ میرا ناشتہ تھا۔‘‘
’’اور ہمارا بھی !!‘‘ سب نے مل کر کہا اور پھر انہوں نے جو قہقہے لگائے…!

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top