چھوٹی سی احمق لڑکی
کہانی: The Stupid Little Girl
مصنفہ: Enid Blyton
مترجم: محمد الیاس نواز
۔۔۔۔۔
کسی زمانے میں ایک چھوٹی سی لڑکی ہوا کرتی تھی جس کا نام اِیلِیْن تھا۔اس کا دماغ بہت اچھا تھا مگر اسے استعمال کرنے میں وہ بے حدکاہلی کا مظاہرہ کرتی تھی۔جب وہ آٹھ سال کی ہوئی تو دوسری بار کوئی بات تک نہیں بتاتی تھی۔ اس سے اندازہ لگائیے کہ وہ کتنی سست اور کاہل تھی…حالانکہ یہ کتنا آسان کام ہے، ہے کہ نہیں؟
’’ اِیلِیْن ! تم اتنی بے وقوف کیوں ہو؟‘‘اس کی استانی نے ایک دن اس سے پوچھا۔’’تمہارے پاس ایک اعلیٰ دماغ ہے مگر تم اسے استعمال کرو تو نا…تمہیں تو جماعت میں سب سے اوپر ہونا چاہیے ناکہ سب سے نیچے۔‘‘
’’جی، مگر شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ میری نہ تو کوئی بہن ہے اور نہ کوئی بھائی۔‘‘ اِیلِیْن نے کہا۔’’میں اکلوتی بچی ہوں اور اکلوتے بچے کبھی بھی اپنی پسماندگی سے نکل نہیں سکتے۔‘‘
’’بکواس!‘‘ اس کی استانی نے کہا۔’’اگر تمہارے آدھے درجن بھائی بہن ہوتے تب بھی تم ایسی ہی ہوتیں، اِیلِیْن !‘‘
’’ارے نہیں، مس برائون! مجھے یقین ہے کہ میں ایسی بالکل نہ ہوتی۔‘‘ اِیلِیْن نے کہا۔’’اگرکوئی مجھے ایک بھائی یا بہن لادے تو مجھے پتا ہے کہ میں بالکل بدل جائوں گی۔‘‘
اِیلِیْن نہیں جانتی تھی کہ ایک چھوٹا سا بونا اس کی باتیں سن رہا ہے۔ شام ہوتے ہی اس نے اِیلِیْن کے گھرکا دروازہ کھٹکھٹا کراسے بلایا۔
’’ اِیلِیْن !‘‘ وہ چلایا۔’’تمہارابھائی اور بہن یہاں آئے ہیں اورتمہارے ساتھ کھیلنے کو ترس رہے ہیں۔‘‘
’’اوہوہوہو!‘‘ اِیلِیْن خوشی سے چہکی۔’’تو آخر کار مجھے بھائی بہن مل ہی گئے اور مجھے پتا تک نہیں۔کیا بات ہے۔‘‘
وہ بھاگ کر باہر باغ میں گئی اور پہلی چیز جس پر اس کی نظر پڑی وہ ایک بڑا سا سرمئی رنگ کا گدھا تھا۔گدھے نے اس سے ہاتھ ملانے کے لیے بڑی سنجیدگی سے اپنا اگلا سُم اٹھا یا۔ اِیلِیْن نے حیرت سے بونے کی طرف دیکھا۔
’’یہ تمہارا بھائی ہے۔‘‘ بونا بولا۔’’ہاتھ ملائو، کیوں نہیں ملا رہیں؟یہ بھی بالکل تمہاری طرح بے وقوف اور ضدی ہے۔لہٰذا تم دونوں کا ساتھ بہت اچھا رہے گا اور یہ تمہارا بہت اچھا بھائی بن جائے گا۔‘‘
’’مجھے بھائی بنانے کے لیے گدھے کی ضرورت نہیں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اِیلِیْن کا چہرہ سرخ ہوگیا۔’’تم کتنے بھیا نک ہو بونے!میری بہن کہاں ہے؟میں اس گدھے کے بجائے اس کے ساتھ کھیلنا پسند کروں گی۔‘‘
’’یہ رہی تمہاری بہن۔‘‘بونے نے کہا اور باغ میں گھومتی ہوئی ایک بڑی سی بطخ کی طرف اشارہ کیا۔’’یہ تمہاری بہت اچھی بہن بن جائے گی۔میں نے اکثر تمہاری امی کو تمہیں ’’باولی بطخ‘‘ کہتے سناہے لہٰذا تمہاری بہن بنانے کے لیے میں نے ایک بطخ ہی کا انتخاب کیاہے۔ تمہارا، گدھے کا اور بطخ کا ایک ساتھ بہت اچھا وقت گزرے گا، کیا خیال ہے؟‘‘
’’میں گدھے یا بطخ کے ساتھ نہیں کھیلوں گی۔‘‘ اِیلِیْن غصے سے بولی۔گدھے اور بطخ نے غصیلی نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
’’یہی وہ بچی ہے جس کے بارے میں تم نے کہا تھا کہ ہماری بہن بنے گی؟‘‘ گدھے نے سوال کیا۔ ’’ ہمیں نہیں چاہیے۔یہ تو ہر حوالے سے بہت بے وقوف لگتی ہے۔یہ ہمارے ساتھ کھیلنے میں بھی اتنی ہی بے وقوف ہوگی۔الوداع ننھی لڑکی!ہم جا رہے ہیں اور جا کر کوئی اور مشغلہ تلاش کریںگے۔‘‘
وہ چلے گئے تو بونے نے اِیلِیْن کی طرف دیکھااور بے زاری سے بولا۔’’یہ تم ہی ہو کہ جس سے ایک بے وقوف گدھا اورباولی بطخ تک سلام دعاء نہیں رکھنا چاہتے۔تم تو ہو ہی بے وقوف! حالانکہ تمہاری استانی کا کہنا ہے کہ تم ایک اعلیٰ دماغ کی مالک ہو۔‘‘
’’میرے پاس ایک اعلیٰ دماغ ہے۔‘‘یہ کہتی ہوئی وہ گھر کے اندر بھاگی تاکہ اپنا ہوم ورک مکمل کر لے۔اور آپ کو یہ سن کر خوشی ہوگی کہ اس نے اپنا دماغ استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ چند ہفتوں میں وہ اپنی جماعت میں سب سے اوپر آگئی ہے۔یہ تو اچھا ہواکہ بونے نے اس کے بہن بھائی تلاش کرنے کی کوشش کی تھی، کیا خیال ہے؟

