مسہری کا بایاں پہلو
کہانی: The Wrong Side of The Bed
مصنفہ: Enid Blyton
مترجم: محمد الیاس نواز
۔۔۔۔۔
بہت زمانہ پہلے ایک جادوگر ہوا کرتا تھا ۔اس کے ایک ایک پائوں کی دس دس انگلیاں تھیں ، اس لیے لوگ اسے’ ’دس شاخہ‘‘ کہتے تھے۔دس شاخے نے ایک شان دار مسہری خریدی۔ مسہری کے سرہانے پر بڑے بڑے پروں والے بل کھاتے اژدہے اور بڑے بڑے مور تراشے گئے تھے جن کی دمیں مسہری کے پایوں تک پھیلی ہوئی تھیں۔اژدہوں کی آنکھوںمیں یاقوت اور موروں کی آنکھوںمیں نیلم لگے ہوئے تھے۔ رات کی تاریکی میں جب وہ چمکتے تو بڑا ہی عجیب و غریب منظر ہوتا ۔جادوگر کو مسہری بے حد پسند آئی اور وہ خود کو پہلے سے زیادہ بڑاجادوگر محسوس کرنے لگا۔
دراصل اس نے یہ مسہری ایک چڑیل سے خریدی تھی اور چڑیل نے بیچتے ہوئے کہا تھا۔’’دس شاخہ…! دیکھو!چاہے کچھ بھی ہوجائے ، ہمیشہ مسہری کی دائیں طرف سے اترنا ۔اگر ایسا نہیں کروگے تو بعد میں پچھتائوگے۔‘‘
اگرچہ چڑیل نے جادوگر کو اس کی وجہ نہیں بتائی تھی مگر وہ خود بہت اچھی طرح جانتی تھی۔ایک چھوٹے سے بدمزاج شطونگڑے نے اسے اپنا بستر بنا لیا تھا۔ہوا یوں کہ ایک دن چڑیل نے منتر پھونک کر اسے اپنے قابو میں کیا اور اس کی مسہری پرقابض ہو گئی مگر وہ اس ننھے اور سیاہ شطونگڑے سے چھٹکارا نہ پاسکی۔شطونگڑے نے دوسروں کی نگاہوں سے خودکو پوشیدہ کر لیا۔وہ اپنی دیدہ زیب مسہری کے پہلو میں گھٹنوں کے بل جھک کر بیٹھ گیا اور پھر مسلسل دن رات وہیں بیٹھا رہتا۔ایک صبح جب چڑیل مسہری کی اُس طرف سے اتری تو اس نے شطونگڑے کو جھک کر بیٹھے ہوئے دیکھ لیا۔
یہ اس کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا۔اس نے جیسے ہی پائوں ذرا سا نیچے اتارا، شطونگڑے نے اپنے تیز نوکیلے دانتوں سے اس کے پائوں میں زہر اتار دیا۔یہ اس کی اپنی بدمزاجی کا زہر تھا۔اس دن چڑیل کوئی بھی کام ڈھنگ سے نہ کر سکی۔وہ کیسی بدمزاج اور غضب ناک ہوئی،کیسے زمین پر پائوں پٹخنے لگی اور کیسی تیوریاں چڑھانے لگی…یہ دیکھنے میں بڑا ہی خوف ناک منظر تھا۔
اس نے مسہری تو دس شاخے کو فروخت کردی مگر اس کے ساتھ جانے والی غیبی مخلوق کے بارے میں کچھ نہ بتایا۔اسے ڈر تھا کہ اگر اس نے دس شاخے کو بتایا تو وہ اسے مسہری کے اچھے دام نہیں دے گا۔جادوگر مسہری لے کر بہت خوش تھا۔ وہ آرام سے اس پر سوتا اور روزانہ صبح احتیاط کے ساتھ دائیں طرف سے اترتا۔
ایک دن وہ بھول کر نیند کے خمار میں مسہری کے غلط پہلو سے اتر گیا۔اس کا پائوں غیبی شطونگڑے پر پڑگیا اور اس نے غصے میں آ کر فوراً کاٹ لیا۔’’ارے! ارے!‘‘ جادو گر حیران ہو کر بولا۔’’شاید میرا پیر کسی پڑی ہوئی سوئی پر آگیا ہے۔‘‘
اس دن دس شاخے کے سارے کام الٹے ہوگئے۔وہ برداشت کھو بیٹھااور غصے میں چیخنے چلانے لگا۔اس نے کھڑکیوں کی صفائی کے لیے آنے والے ملازم کی پٹائی کر دی۔پھر آلو فروخت کرنے والی خاتون کو مکا دے مارا۔اس نے واقعی بہت برا سلوک کیا تھا۔ بد مزاجی کا زہر بہت شدت سے اس کے اندر کام کر رہا تھا۔
اگلی صبح دس شاخہ مسہری کی دائیں طرف سے اترا اور ساری چیزیں ٹھیک ہو گئیں۔اس سے اگلی صبح وہ پھر غلط طرف سے اترا اوراس کی بد مزاجی کی وجہ سے سارے کام پھر الٹے ہوگئے۔اس کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔
وہ چڑیل سے جا کر ملا اور اسے اتنی غضب ناک نگاہوں سے گھورا کہ وہ حیران اور خوف زدہ رہ گئی۔پھر اچانک اسے ایک خیال آیا۔
’’کیا آج صبح تم مسہری کی غلط طرف سے اترے تھے؟‘‘ اس نے سوال کیا۔جادو گر نے ذرا ٹھہر کر سوچا۔نتیجہ یہی نکلا کہ غلط طرف سے ہی اترا تھا ۔ تو میرے عزیزو! چڑیل نے اسے اس کی بدمزاجی کی وجہ بتائی۔ کتنے تعجب والی بات ہے نا…؟بہرحال وہ آئندہ احتیاط کرے گا اور دائیں طرف سے اترے گا۔
یہ اگرچہ سیکڑوں سال پہلے کا واقعہ ہے مگر کتنی عجیب بات ہے کہ آج بھی ہم بد مزاج شخص سے یہی کہتے ہیں کہ’’آج صبح تم بستر کی غلط طرف سے اترے ہوگے۔‘‘اب آپ جان ہی گئے ہوں گے کہ یہ کہاوت کہاں سے شروع ہوئی۔

