skip to Main Content

شمالی ہوا اور لڑ کا

میکسیکو کی کہانی

رضوانہ سید علی
۔۔۔۔۔

ایک غریب بیوہ اپنے بیٹے کے ساتھ زندگی کے دن پورے کر رہی تھی۔ اپنا اور اپنے بیٹے کا پیٹ بھر نے کے لئے اسے بہت محنت کرنی پڑتی تھی۔ ایک روز صبح سویرے ماں نے لڑکے کو کچھ پیسے دیگر چکی کی طرف بھیجا تا کہ وہ تھوڑاساد لیہ خرید لائے۔ لڑ کا دلیہ لے کر لوٹ رہا تھا کہ شمالی ہوا کے تیز جھونکوں نے اسے آ لیا اور اسکے ہاتھ سے دلیے کی پوٹلی چھوٹ گئی اور سارادلیہ بکھر گیا اور ہوا اسے اڑا کر کہیں سے کہیں لے گئی۔ لڑ کا ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر رونے لگا۔ پھرا سے خیال آیا کہ اس طرح رونے سے کیا فائدہ؟ مجھے شمالی ہوا سے اپناد لیہ وصول کرنا چاہیے۔ یہ سوچ کر وہ اٹھا اور شمال کی جانب چلنے لگا۔ چلتے چلتے وہ آخر اس جگہ پہنچ گیا جہاں شمالی ہواسیاہ گھٹاؤں کے دامن میں منہ چھپائے سورہی تھی۔
”شمالی ہوا! شمالی ہوا!!“لڑکے نے کئی مرتبہ زور زور سے آواز دی تو ہوا اٹھ بیٹھی اوراپنی گڑ گڑاہٹ والی آواز میں کہنے لگی۔
”کون مجھے جگانے کی کوشش کر رہا ہے؟“ لڑکے نے کہا:
”یہ میں ہوں۔ جس کا سارا دلیہ تم نے گرادیا اور پھر نجانے کہاں سے کہاں پہنچادیا۔ اب میں اپنی غریب ماں سے کیا کہوں؟ بولو؟؟ بتاؤ؟؟؟ اب جواب کیوں نہیں دیتی؟؟؟؟“
شمالی ہوا بھلا کیا جواب دیتی۔ وہ تعجب سے اس نڈ ر اور معصوم لڑکے کو دیکھتی رہی جو شمالی ہوا کی طوفان خیزیوں سے بالکل نا واقف معلوم ہوتا تھا اور شاید یہ تو جانتا ہی نہ تھا کہ شمالی ہوا کی لپیٹ میں آنے والی کسی بھی چیز کا بچناممکن ہی نہیں۔ اسے بچے کی معصومیت پہ پیارآ گیا اور اس نے اسے ایک دستر خوان دیتے ہوئے کہا کہ:
”یہ تمہارے اس نقصان کی تلافی کر دے گا جومیری وجہ سے ہوا ہے۔ تم اس سے بچھا کر جو بھی کھانے کے لئے مانگو گے،پالوگے۔“
ہوا اپنامنہ چھپا کر پھر سوگئی اورلڑ کا دستر خوان لے کر چل پڑا۔ راہ میں ایک سرائے آئی تو آرام کے لئے ٹھہر گیا اور پھر میز پہ دسترخوان بچھا کر اچھے اچھے کھانوں کی فرمائش کی۔ دستر خوان طرح طرح کے کھانوں سے بھر گیا۔ لڑکے نے دوسرے مسافروں اور سرائے کے مالک کو بھی کھانوں میں شریک کر لیا۔ یہ دیکھ کر سرائے کے مالک کے دل میں لالچ آ گئی اور اس نے رات کو چپکے سے دستر خوان تبدیل کر دیا۔ لڑ کا صبح اٹھ کر اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔ جا کر ماں کو پوری بات بتائی اور پھر دستر خوان بچھا کر اس سے ماں کے پسندیدہ کھانوں کی فرمائش کی پر دستر خوان خالی ہی رہا۔ ماں ہنس پڑی اور لڑکے سے کہا کہ وہ خیالوں کی دنیا میں رہنا چھوڑ دے۔
لڑکے کو شمالی ہوا سے اس دھوکہ بازی کی امیدنہ تھی کہ اس کا تحفہ بس ایک دفعہ ہی کام کرے گا۔ وہ غصے میں دوبارہ شمالی ہوا سے بات کرنے جا پہنچا۔ وہ گہرے بادلوں میں چھپی بہت ہی میٹھی نیندسور ہی تھی۔ بمشکل جا گی اور اس سے بھی زیادہ مشکل سے اسے لڑ کے کی بات سمجھ میں آئی۔ خیر اس مرتبہ اس نے لڑ کے کو ایک دنبہ د یا جسکی کمر پہ چھڑی رسید کر نے سے و ہ مینگنی کی جگہ چاندی کے روپے گراتا تھا۔ راہ میں سرائے آئی تو اس کا مالک اتفاق سے باہر کھڑا تھا۔ لڑ کے کود یکھ کر اسکی بانچھیں کھل گئیں اور وہ ا سے بہلا پھسلا کر سرائے میں لے گیا اور دنبے کا راز بھی معلوم کر لیا۔ رات کو اس نے چپکے سے دنبہ تبدیل کر دیا۔ گھر پہنچ کر جب لڑکے نے دنبے کی کمر پر چھڑی رسید کی تو اس نے ڈھیر ساری مینگنیاں گراد یں اور لڑ کا ایک مرتبہ پھر شمالی ہوا سے لڑنے چل پڑا۔ اس مرتبہ شمالی ہوا کے ماتھے پہ بل پڑگئے۔”لڑ کے! کیوں بار بار مجھے جگا کر میرے غصے کو دعوت دے رہے ہو؟“
”کیونکہ تم ایسا تحفہ دیتی ہو جوایک مرتبہ کام کر کے بیکار ہو جا تا ہے۔“لڑ کے نے کہا۔
”ایسا نہیں ہوسکتا۔“
”ایسا ہی ہوتا ہے۔ سرائے میں تو تمہارا تحفہ کام کرتا ہے پر میرے گھر جاتے ہی بیکار ہو جا تا ہے۔“
پھر اس نے ہواکو تفصیل سے پوری بات بتائی تو وہ سرائے کے مالک کی چالاکی کو سمجھ گئی اور اس نے لڑکے کو ایک رسی اور ایک ڈنڈا دے کر کہا۔”سیدھے سرائے میں جاؤ اور سرائے کے مالک کے سامنے کھڑے ہو کر کہنا،چل بھئی رسی کام دکھا، چل رے ڈنڈے شروع ہو جا۔ پھر دیکھنا کیا ہوتا ہے۔ لڑکے نے ایسا ہی کیا۔ سرائے کا مالک بہت شوق سے دیکھ رہاتھا کہ اس مرتبہ دیکھولڑ کے سے اسے کیا ملے پر رسی اسکے سارے جسم پر لپٹ گئی اورڈ نڈاتڑ اتڑ پڑنے لگا تو اسکے ہوش ٹھکانے آ گئے اور اس نے ہاتھ جوڑ کرمعافی مانگی اور اپنی جان چھڑائی اور سب چیز یں بھی واپس کر د یں۔ لڑ کا شمالی ہوا کے تحفے لے کر گھر پہنچا تو اس کی ماں کو تھوڑے سے دلیے کی خاطر گھر گھر کام کرنے سے نجات مل گئی بلکہ اب ہر بھو کے اور غریب آدمی کو ان کے گھر سے کھانا ملنے لگا۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top