آنحضورؐ کی پیدائش کے وقت دنیا کی حالت
خواجہ عابد نظامی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
| بڑی شان والے ہمارے نبی |
| دلوں کے اجالے ہمارے نبی |
| وہ مکہ میں جس وقت پیدا ہوئے |
| برے ساری دنیا کے حالات تھے |
| ستاروں کی کرتا تھا پوجا کوئی |
| درختوں کے آگے تھا جھکتا کوئی |
| تھے اخلاق لوگوں کے اتنے خراب |
| کہ یہ زندگی بن گئی تھی عذاب |
| بتوں کو سمجھتے تھے اپنا خدا |
| وہ بندے تھے سب کے، خدا کے سوا |
| تھا دن رات ان کو لڑائی سے کام |
| گزرتے تھے جھگڑوں ہی میں صبح و شام |
| جو لڑکی کسی گھر میں پیدا ہوئی |
| گڑھا کھود کر زندہ گاڑی گئی |
| تھا شیطاں کا قبضہ ہر اک جان پر |
| تھے چھوٹے بڑے اس کے زیر اثر |
| برائی تھی ہر شے پہ چھائی ہوئی |
| تباہی تھی دنیا پہ آئی ہوئی |
| غرض جس قدر بھی برے کام تھے |
| پھنسے ان میں سب خاص اور عام تھے |
| گھٹا رحمت حق کی آخر اٹھی |
| زمانے میں تشریف لائے نبی |
| وہ پیارے نبی جن کا اعلیٰ مقام |
| ہوا جن پہ نازل خدا کا کلام |
| اندھیرے ہوئے جن کے آنے سے دور |
| کیا عام آکر ہدایت کا نور |
| زمانے کو دی علم کی روشنی |
| کہ تبدیل جس سے ہوئی زندگی |
| نبی نے سنایاخدا کا کلام |
| ہر اک کو بتایا خدا کا مقام |
| ہوئی ختم رات اور سویرا ہوا |
| مٹی تیرگی اور اُجالا ہوا |
| بڑی شان والے ہیں پیارے نبی |
| کہ سب کے نبی ہیں ہمارے نبی |
Facebook Comments

