skip to Main Content

زین کے جوتے

کلیم چغتائی
۔۔۔۔۔
جب پرانے سے ہوگئے جوتے
اور بری طرح پھٹ چکے جوتے
اپنے بابا سے زین نے یہ کہا
بابا، دلوائیں دوسرے جوتے
چھوٹے ماموں نے یہ سنا تو کہا
آؤ دلواؤں میں نئے جوتے
لے کے وہ زین کو گئے بازار
تھے وہاں پر سجے ہوئے جوتے
سیکڑوں دیکھنے کے بعد آخر
زین نے منتخب کیے جوتے
رنگ ان کا سیاہ چمکیلا
تھے یہ چھوٹے نہ یہ بڑے جوتے
بولا ہنس کر دکان دار ان سے
لے لیے تو ہیں آپ نے جوتے
جوتے ہوں گر بغیر موزَوں کے
لگتے ہیں کچھ عجیب سے جوتے
جوتے موزَوں کے ساتھ موزُوں ہیں
موزے پہنے تو سج گئے جوتے
چھوٹے ماموں نے موزے دلوائے
اور کہا، شکر ہے ملے جوتے
زین بھی بولا، شکر اللہ کا
جس نے مجھ کو عطا کیے جوتے
Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top