شیر کی واپسی
سید سمیر احمد
۔۔۔۔۔
بارش کے بعد سیاہ گھنے بادلوں کا سایہ ہٹ گیا۔ سورج نے مسکراتے ہوئے اپنی کرنوں کی چادر کو پھیلا دیا۔ خوبصورت ہرے بھرے جنگل میں ایک قوس قزاح کچھ اس طرح سے بنگ بن گئی کہ اس کا ایک سرا پہاڑی پر سے گرنے والے آب شار پر تھا۔ اور دوسرا سرا کہیں دور آسمان پر موجود سفید بادلوں میں گم۔ ان سفید بادلوں کے نزدیک سے کالے رنگ کے تین پرندے نمودار ہوئے اور آکر ایک برگد کے خوب رو درخت پر بیٹھ گئے جو آب شار کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی قدرت کو سلامی دے رہا تھا۔ لیکن یہ کیا؟… درخت کے پہلو میں ایک سرخ رنگ کی خوبصورت لومڑی ہچکیاں لے رہی ہے! پرندوں نے جب اتنے خوشگوار موسم میں بی لومڑی کو یوں اداس دیکھا تو نیچے اتر آئے۔
لومڑی، جس کی ہچکیاں اب سسکیوں میں بدل چکی تھیں، محسوس کر گئی کہ کوئی غمخوار اس کے قریب آبیٹھا ہے۔ اس نے اپنے بازوؤں میں سے سر نکالا اور ایک نظر تینوں پرندوں پر ڈالی۔ کبوتر، مینا اور کوئل تینوں اس کی سرخ آنکھوں اور مرجھائے چہرے کو دیکھ کر سمجھ گئے کہ کیا ماجرہ ہے۔ لومڑی کا پیارا سا سرخ سرخ بچہ جو ہر وقت اس کے ساتھ ساتھ ہوتا تھا، آج موجود نہ تھا۔ اس بیچاری پر بھی وہی ستم ٹوٹا تھا جو ایک عرصے سے جنگل کے ہر جانور پر ٹوٹ رہا تھا۔ جنگل کا خوف ناک کالا بھیڑیا کسی کے ماں باپ کو مار ڈالتا تو کسی کے بچہ کو ہضم کرجاتا۔ اس خونخوار بھیڑیئے کی دہشت گردی سے جنگل کے چرند پرند سب ہی تنگ تھے۔ یہ کالا بھیڑیا اکیلا نہ تھا۔ اس کے ساتھ پوری فوج ظفر موج تھی۔ گیدڑ، گدھ اور لگڑ بھگڑ جیسے خطرناک جانور اس کے ہاتھ مضبوط کرتے رہتے تھے۔
تینوں پرندوں نے مل کر لومڑی کا دکھ بانٹا اور اسے صبر کی تلقین کی۔ جب لومڑی کا غم کچھ ہلکا ہوگیا تو اسے شدید پیاس کا احساس ہونے لگا۔ وہ اٹھی اور پانی پینے لگی۔ اسے بار بار اپنا بچہ یاد آرہا تھا۔ اب اس نے بھی دوسرے مظلوم جانوروں کی طرح اس جنگل سے کہیں دور چلے جانے کا فیصلہ کرلیا۔ وہ نہر کے ساتھ ساتھ چلتی رہی یہاں تک کہ سورج ڈھلنے لگا۔
وہ اب ایک ایسے علاقے میں آچکی تھی کہ جہاں نہ تو زیادہ اونچے پہاڑ تھے اور نہ گھنے گھنے درخت ۔یہ ایک میدانی علاقہ تھا۔ یہاں پر دور دور تک ہری ہری گھاس پھیلی ہوئی تھی۔ اس علاقے میں وہ پہلے کبھی نہیں آئی تھی۔ چلتے چلتے اسے نہر کے پار دور دو چھوٹی پہاڑیاں نظر آئیں جن کے دامن میں کچھ جانوروں کا ہجوم تھا۔ وہ احتیاط کے ساتھ نہر پار کر کے اس جھنڈ کی جانب چل دی ۔جیسے جیسے وہ نزدیک آتی گئی اسے محسوس ہوا کہ یہ بکریوں کا ریوڑ ہے۔ لیکن نزدیک آنے پر اسے نہایت حیرت کا سامنا کرنا پڑا۔ بکریوں کے ریوڑ کے بیچ میں ایک چھوٹی سے جھاڑی اگی ہوئی تھی اس کے سائے میں ایک جوان شیر میٹھی نیند سورہا تھا۔
لومڑی نے دل میں سوچا کہ وہاں جنگل میں کالے بھیڑیے کی حکمرانی ہے۔ اس نے جنگل کا سارا امن سکون ختم کردیا ہے۔ یہاں جنگل کا بادشاہ امن و قائم کرنے بجائے میٹھی نیند سورہا ہے! … وہ ہمت کر کے شیر کے قریب پہنچی۔ اپنے پنجے سے شیر کا پنجہ ہلایا۔ شیر جاگ گیا۔ لومڑی کو دیکھتے ہی خوف زدہ ہوگیا اور ایک چھلانگ لگا کر دوڑ لگا دی۔ کچھ فاصلے پر ایک بکرا اور بکری بیٹھے جگالی کر رہے تھے۔ شیر ان کے پہلو میں آکر بیٹھ گیا اور منمنانے لگا۔ بالکل ایسے جیسے خوف کے مارے بکری کا میمنا بھاگ کر اپنی ماں کے پاس آتا ہے۔
٭…٭…٭
تپتی دوپہر میں دو شکاری نہایت ہوشیاری اور احتیاط کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے۔ ان کی نظر یںپہاڑ کے دامن میں بیٹھے شیر پر تھیں۔ شیر کا رخ دوسری جانب تھا اور وہ پہاڑ کے سائے میں سستا رہا تھا۔ ایک شکاری نے نشانہ لے کر فائر کردیا۔ گولی شیر کی گردن میں لگی اور وہ ہیں تڑپنے لگا۔ اسی دوران پہاڑ کی اوٹ سے ایک شیرنی اپنے معصوم بچے کو منہ میں اٹھائے بھاگ نکلی۔ دوسرا شکاری شیرنی کے پیچھے بھاگا۔ شیرنی جنگل میں درختوں اور چٹانوں کے پیچھے چھپتے چھپاتے نہر کی جانب آنکلی۔ اس کی پوری کوشش تھی کہ کسی طرح نہر پار کر کے اپنی اور بچے کی جان بچا سکے۔ ادھر شکاری بھی بڑی پھرتی کے ساتھ شیرنی کا پیچھا کر رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ شیرنی نہر پار کرتی شکاری نے موقع تاک کر دو فائر کردیے۔ شیرنی بری طرح لڑکھڑائی اور تین چار قلابازیاں کھاتے ہوئے ایک چٹان کی اوٹ میں گر گئی۔ بچہ اس کے منہ سے چھوٹ کر ایک درخت سے ٹکرایا اور نیچے گرا۔ نیچے ایک ناگ جھولی پھیلائے سو رہا تھا۔ بچہ جوں ہی اس کی جھولی میں گرا۔ اس نے جاگتے ہی کروٹ لی اور بچہ پھسل کر نہر میں لڑھک گیا۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ نہر میں ایک کچھوا تیرتے ہوئے آنکلا ۔بچہ کچھوے کی پشت پر کچھ اس طرح سے آیا کہ شکاری کی زد میں باآسانی آگیا۔ شکاری، جو اپنے شکار کے قریب آچکا تھا، معصوم بچے کا نشانہ لیا اور فائر کردیا!
ادھر پہلا شکاری بھی اپنے ساتھی کی تلاش میں یہاں آنکلا۔ اس نے جو اپنے ساتھی کو مردہ حالت میں پایا تو پریشان ہوگیا۔ اسے حیرت تھی کہ شیرنی اس کے ساتھی کو کیوں کہ مارسکتی ہے جبکہ شیرنی تو مرچکی ہے۔ اس نے غصہ میں مردہ شیرنی کو ایک لات رسید کی۔ شکاری کا لات رسید کرنا تھا کہ چٹان کی اوٹ سے وہی ناگ نموادار ہوا اور شکاری کو ابدی نیند سلا گیا۔
ادھر شیر کا بچہ کچھوے کی پشت پر سوار بہتے بہتے کہیں کا کہیں نکل گیا۔ بالآخر نہرکنارے ایک بکرا اور بکری نے اسے برآمد کرلیا۔ شیر کا بچہ آنکھیں موندے پڑا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ اس نے کبھی آنکھیں نہیں کھولیں ہیں۔ شروع شروع میں وہ بہت ڈرے مگر جب یقین ہوگیا کہ یہ بچہ لاوارث ہے تو بکری نے اسے اپنا دودھ پلا کر پالا۔ حتیٰ کہ وہ جوان ہوگیا۔ ایک دن جب وہ سوتے میں سے اٹھا تو اپنے سامنے ایک خوفناک جانور کو پایا۔ ڈر کے مارے وہ بھاگا اور اپنی امی کی آغوش میں منمناتے ہوئے پہنچ گیا۔ اس نے دیکھا کہ وہی جانور دوبارہ اس کے نزدیک آرہا ہے۔ مگر اب خوف زدہ نہیں تھا۔ کیونکہ وہ اپنی ماں کی آغوش میں تھا۔ اسی اثناء میں بکرا اٹھا اور لومڑی کے سامنے کھڑے ہوکر بولا۔ ’’بی لومڑی اگر ایک قدم بھی آگے بڑھیں تو میں اپنے نوکیلے سینگ…‘‘
’’تم غلط سمجھے ہو…!!!‘‘ لومڑی نے بکرے کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔ ’’میںتم لوگوں کو نقصان پہنچانے نہیں آئی ہوں۔‘‘
’’مگر تمہاری خونی آنکھوں سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ تم ہمیں نقصان پہنچانا چاہتی ہو!!!‘‘
’’اب میں کیسے بتاتی کہ مجھ پر کیا بیتی ہے!!!‘‘ لومڑی نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور ایک طرف سر جھکا کر بیٹھ گئی۔ بکری جو ابھی تک خاموش تھی لومڑی کی سوجی ہوئی آنکھیں اور بجھا ہوا چہرا دیکھ کر سمجھ گئی کہ اسے کوئی صدمہ پہنچا ہے۔
’’تمہاری آنکھوں اور چہرے سے لگتا ہے کہ کافی دیر روتی رہی ہو۔‘‘ اور شیر کے پاس سے اٹھ کر لومڑی کے پاس آکھڑی ہوئی۔ لومڑی کے بدستور خاموش رہنے پر اسے دلاسہ دیتے ہوئے بولی ۔’’بی لومڑی! مجھ پر بھروسہ کرو … بتاؤ تو سہی کیا مشکل ہے؟ شاید میں کوئی حل پیش کرسکوں!‘‘بکری کا یہ کہنا تھا کہ لومڑی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
لومڑی نے اپنے اوپر بیتی ساری کہانی سنا دی۔ اس دوران شیر بھی بکری کے پہلو میں موجود تھا۔ بکری نے دکھی لومڑی کو دلاسہ دیا اور کہا۔ ’’ان شاء اللہ! اب ظلم کی یہ اندھیری رات جلد ختم ہوجائے گی۔‘‘ اور پھر اپنے جوان شیر پر ایک پر امید نگاہ ڈالی۔ شیر جو بکری کو شروع ہی سے اپنی ماں سمجھتا تھا، بولا۔ ’’امی جان! یہ کالا بھیڑیا اتنا ظالم کیوں ہے؟… کیا یہ آپ کے بیٹے کو بھی لومڑی کے بچے کی طرح کھا جائے گا؟‘‘
یہ سننا تھا کہ بکری کی غیرت کو شدید دھچکا لگا۔ وہ شیر سے دو قدم دور ہٹ کر کھڑی ہوگئی اور بولی ۔’’تم میرے بیٹے نہیں ہو!!!‘‘
’’نہیں امی! آپ ایسا نہیں کہیں۔‘‘ شیر منمنایا۔ ’’میں آپ کا بیٹا ہوں اور آپ کے بغیر نہیں رہ سکتا!‘‘
شیر کو ایسا منمناتا دیکھ کر بکری کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ شیر کو نہر کے قریب لے گئی۔ اسے پانی میں اپنی اور شیر کی شکل کا عکس دکھا کر فرق واضح کیا۔ شیر، جو بکری کا دودھ پی کر پلا تھا، پھل اور سبزی کھا کر جوان ہوا تھا،آج پہلی دفعہ اپنے مختلف ہونے کا احساس کرنے لگا۔ لیکن پھر بھی اس نے احتجاج کیا ۔’’نہیں امی!… شکل مختلف ہے تو کیا ہوا؟… ہوں تو میں آپ ہی کا بیٹا!‘‘
ء…ء

