شیر ہوں کردوں ڈھیر
کلیم چغتائی
۔۔۔۔۔
دیکھو مجھ کو، میں ہوں شیر
پل میں کردیتا ہوں ڈھیر
کہلاتا ہوں شیر ببر
افریقہ ہے میرا گھر
گھنی گھنی ہے مری ایال
لمبے لمبے اس کے بال
اپنا بناتا ہوں کنبہ
شیر ہوں جس میں دس پندرہ
میں ، بیٹے، میرے پوتے
گھنٹوں رہتے ہیں سوتے
جب میں جست لگاتا ہوں
تیس فٹ آگے جاتا ہوں
جب بھی اندھیرے میں نکلوں
آسانی سے سب دیکھوں
بیگم میری کرے شکار
میں کنبے کا بنوں حصار
روکوں میں دشمن کے وار
اس کو میں کردوں لاچار
گوشت میں جی بھر کھاتا ہوں
من بھر چٹ کر جاتا ہوں
گرجوں اور دہاڑوں جب
پانچ میل تک سن لیں سب
جب بھی زمیں پر چلوں کہیں
ایڑی زمیں پر لگے نہیں
میں ہوں جنگل کا راجا
گوشت فقط میرا کھاجا
جو کچھ عزت میری ہے
رب نے ہی تو بخشی ہے
Facebook Comments

