skip to Main Content

سفر کے آداب

کلیم چغتائی

۔۔۔۔۔

سعید اور منیر کے اسکولوں میں سردیوں کی چھٹیاں ہو چکی تھیں۔ دونوں بچوں کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ ان چھٹیوں میں کہیں گھومنے جائیں۔ سعید اپنی امی سے ضد کر رہا تھا کہ اسے اور منیر کو ارشاد کے پاس جانے کی اجازت دے دی جائے۔ ارشاد، سعید کا گہرا دوست تھا۔ پہلے گاؤں میں انہی کے اسکول میں پڑھا کرتا تھا، پھر اس کے والد کا تبادلہ شہر کر دیا گیا تو اسے بھی شہر جانا پڑا۔ گزشتہ دو ہفتوں میں اس کے دوفون اور تین خط آچکے تھے اور ہر بار یہی فرمائش ہوتی تھی کہ چھٹیوں میں شہر آ کر ہمارے پاس رہو۔
سعید کی امی کا خیال تھا کہ دونوں بچے ابھی چھوٹے ہیں۔ جب تک کوئی بڑا ساتھ نہ ہو، انھیں شہر تک کا سفر نہیں کرنا چاہیے، لیکن سعید بار بار اپنے پنجوں کے بل کھڑے ہو کر اور سینہ تان کر امی سے کہتا:
”امی دیکھیے، میں کتنا بڑا ہو گیا ہوں۔“
سعید اور منیر کی امی نے بچوں کے بابا سے تذکرہ کیا۔ بابا اچھے موڈ میں تھے۔ انھوں نے بچوں کو شہر جانے کی اجازت دے دی۔ یوں بھی ان کا خیال تھا کہ اس طرح بچوں میں اعتماد پیدا ہوگا۔
بچے، اجازت ملتے ہی خوشی خوشی تیاریاں کرنے لگے۔ دونوں نے، اپنا اپنا بیگ ضروری سامان سے بھر لیا۔ سعید کا تو جی چاہ رہا تھا کہ وہ اگلے ہی دن روانہ ہو جائے، مگر بابا نے کہا کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود سفر پر جاتے یا کسی کو روانہ فرماتے تو عام طور پر جمعرات کا دن منتخب فرماتے تھے، اس لیے بچے، جمعرات کو روانہ ہوں تو سنت پر عمل کا ثواب بھی ملے گا اور ان شاء اللہ سفر میں برکت بھی ہوگی۔ اگلے دن منگل تھا۔ بچوں کو مزید دو دن انتظار کرنا تھا۔
جمعرات کو دونوں بھائی صبح سویرے اُٹھے۔ نماز فجر ادا کر کے، ہلکی ورزش کی، پھر ناشتا کیا۔ لباس بدلا، جوتے پہنے اور اپنے اپنے بیگ سنبھال کر امی کو اللہ حافظ کہہ کر باہر نکل آئے۔ امی نے دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔ بابا دونوں بچوں کو بسوں کے اڈے تک چھوڑنے کے لیے جارہے تھے۔
گھر سے نکلتے ہوئے دونوں بچوں اور بابا نے گھر سے نکلنے کی دعا پڑھی۔ جلد ہی انھیں ایک تا نگا مل گیا۔ اس پر بیٹھ کر وہ لاری اڈے پہنچے۔ شہر جانے والی بس تیار کھڑی تھی۔ اس کا انجن غرار ہا تھا۔ بابا نے دو ٹکٹ خریدے۔ دونوں بچوں کو بس میں مناسب جگہ بٹھایا۔ کنڈکٹر کو بچوں کا خیال رکھنے کی تاکید کی اور بچوں کو پیار کر کے یہ کہتے ہوئے اتر گئے:
”بیٹا رب راکھا، شہر پہنچتے ہی فون کر دینا۔“
چند لمحوں بعد بس روانہ ہو گئی۔ دونوں بچوں نے سواری پر بیٹھنے کی قرآنی دعا پڑھ لی تھی۔ دونوں بچوں کے ساتھ والی نشست پر ایک بزرگ بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ کچھ دیر تو بچوں کی باتیں سنتے رہے۔ پھر بزرگ نے خود ہی بچوں کو سلام کیا۔ بچے شرمندہ ہو کر بولے: ”السلام علیکم!“بزرگ نے سوال پوچھنا شروع کر دیے، کیا نام ہے، کہاں رہتے ہیں، کہاں پڑھتے ہیں، کہاں جا رہے ہیں۔ بچوں نے ادب سے جواب دیے۔
بزرگ بولے: ”بچو، یہ بہت اچھا ہے کہ تم دونوں ساتھ سفر کر رہے ہو۔ اگر کوئی مجبوری نہ ہو تو سفرا کیلے نہیں کرنا چاہیے۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر لوگوں کو تنہا سفر کرنے کی وہ خرابیاں معلوم ہو جائیں، جو میں جانتا ہوں تو کوئی سوار کبھی تنہا سفر نہ کرے۔“
”ہم تو اکیلے نہیں ہیں۔“منیر نے معصومیت سے کہا۔
”ہاں، مگر پیارے نبیؐ نے تین افراد کو مل کر سفر کرنے کی ترغیب دی ہے۔ خواتین کو تو کسی محرم کے ساتھ ہی سفر کرنا چاہیے۔ آپ نے عورت کے لیے تین دن سے زیادہ کا سفرا کیلے کرنے سے منع فرمایا ہے۔“ بزرگ نے بتایا۔
”محر م کون ہوتا ہے چچا جی؟“ منیر نے پوچھا۔
”بیٹے!محرم، بہت قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں، جن سے شادی جائز نہ ہومثلاً: ماں بیٹا، بھائی بہن، باپ بیٹی، یا پھر میاں بیوی خود ہوں۔“
بس ذرا آگے جا کر ایک جگہ رک گئی۔ یہ ایک چھوٹا سا قصبہ تھا جہاں ہوٹل وغیر ہ تھے۔ سعید اور منیر بس سے اتر آئے۔ بزرگ بھی ساتھ تھے۔ منیر ضد کرنے لگا کہ شربت پیے گا، سعید اسے منع کر رہا تھا کہ راستے سے الٹی سیدھی چیزیں کھانا پینا نہیں چاہیے، ورنہ طبیعت خراب ہو سکتی ہے۔ بزرگ بولے:
”بچو، اسی لیے اسلام میں حکم ہے کہ جب لوگ سفر میں ہوں تو آپس میں کسی ایک کو اپنا امیر بنا ئیں۔“
”امیر؟ یعنی دولت مند؟“ منیر نے بھولپن سے پوچھا۔
”نہیں بیٹے، امیر کا مطلب ہے حاکم۔ یوں سمجھیں کہ وہ اپنے ساتھیوں کا انچارج ہو گا۔ جو وہ فیصلہ کرے، اسے سب کو ماننا ہوگا۔ ویسے اس کے لیے بھی حکم ہے کہ وہ ساتھیوں سے مشورہ لیتا رہے۔“
”اچھا تو اس سفر میں آپ ہمارے امیر ہیں!“ سعید نے مسکرا کر کہا۔
”چلیے، اگر آپ دونوں کی یہی مرضی ہے تو یہی سہی۔“ بزرگ بھی مسکرائے۔ پھر بولے۔”آئیے، آپ کو تازہ مالٹے کھلاتے ہیں۔ یہ قدرت کی طرف سے بالکل پیک کیا ہوا عمدہ پھل ہے۔ رس دار اور صحت بخش۔“
بزرگ نے ایک درجن مالٹے خریدے، پھر سب بس میں آکر بیٹھ گئے۔ ذرا دیر میں بس روانہ ہو گئی۔
بزرگ نے مالٹے چھیل کر دونوں بچوں کو دیے اور چھلکے احتیاط سے ایک کاغذمیں باندھ لیے۔
”راستے میں یا بس میں چھلکے پھینکنا اچھی بات نہیں، اس سے دوسروں کو تکلیف ہو سکتی ہے۔ کہیں کوڑے دان نظر آئے گا تو وہاں ڈال دیں گے۔“
بچے مالٹے مزے لے کر کھا رہے تھے۔ بزرگ نے چند مالٹے سامنے اور پیچھے والی نشستوں پر بیٹھے مسافروں کو بھی پیش کیے۔ مسافروں نے تھوڑے سے تکلف کے بعد مالٹے لے لیے۔ بزرگ بولے:
”سفر میں بھی اپنے ساتھ بیٹھنے اور چلنے والوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ قرآن مجید میں ہے کہ اپنے برابر کے ساتھی سے بھی حسن سلوک کرو۔“
”بے شک جی، آپ نے بالکل سچی بات بتائی۔“ اگلی نشست پر بیٹھا ایک شخص سر ہلا کر بولا۔
پھر اس نے اپنے بیگ سے کیلے نکال کر بزرگ اور بچوں اور دوسرے مسافروں کو پیش کیے۔ کیلے کھاتے ہوئے بزرگ نے بچوں سے پوچھا:
”آپ نے سفر کے لیے روانہ ہوتے ہوئے دو رکعت شکرانے کے نفل پڑھے تھے؟“
”نہیں تو!“ بچوں نے جواب دیا۔
”اب منزل پر پہنچیں تو پڑھ لیجیے گا۔ سفر پر روانہ ہوتے وقت اور واپسی پر دو رکعت نفل شکرانہ پڑھنا آپﷺ کا معمول تھا۔“ بزرگ نے کلائی پر بندھی گھڑی دیکھی۔
”اب آدھے گھنٹے کا سفر رہ گیا ہے۔ آپ دونوں نے اپنے دوست کو اپنے آنے کی اطلاع دے دی ہے؟“
”نہیں، ہم ذرا اسے حیران کرنا چاہتے ہیں۔“ سعید نے بتایا۔
”بیٹے۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ سفر سے واپسی پر اچانک بغیر اطلاع گھر نہیں آتے تھے۔ آپ یا تو پہلے سے اطلاع دے دیں یا پھر مسجد میں نفل ادا کر لیں۔ اس دوران میں گھر میں اطلاع پہنچ جائے تا کہ گھر والے اچھی طرح آپ کے استقبال کے لیے تیار ہو سکیں۔“
”آپ درست کہتے ہیں۔ ہم بس سے اترتے ہی، دوست کو فون کر لیں گے۔“
ذرا دیر بعد بس شہر میں داخل ہو گئی اور مختلف بارونق سڑکوں سے گزرتی ہوئی، اپنے اڈے پر جا کر ٹھہر گئی۔
بچوں نے بزرگ کا سامان بس سے اتارنے میں مدد کی۔ بزرگ نے دونوں بچوں کو پیار کیا۔ انھیں اپنا پتا اور فون نمبر دیتے ہوئے اپنے گھر آنے کی تاکید کی۔ پھر بزرگ انہیں اللہ حافظ کہہ کر رخصت ہو گئے۔ دونوں بھائی، اپنے دوست ارشاد کو فون کرنے کے لیے سامنے دکان کی طرف بڑھ گئے جہاں فون کی سہولت موجود تھی۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top